Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, October 20, 2018

شہر الہ آباد کو اکبر نے خالی جگہ پر بسایا تھا۔

تحریر/ عبد الحمید نعمانی۔ (صدائے وقت)۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ہمیں یہ مان کر چلنا چاہیے کہ برہمن وادی عام ہندوؤں سے الگ اور تنگ دل ودماغ کے ہوتے ہیں، وہ اپنے ما سوا کسی کے نام کام کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں، الہ آباد اور مغل سرائے کا نام بدلنا اس کا ثبوت ہے، وہ کچھ نیا تو بنا نہیں سکتے، بس دوسرے کی چیزوں کو ہتھیانے اور نام بدل کر اپنے نام کرنا جانتے ہیں، اکبر نے 1583 میں پریاگ راج کا نام بدل کر اللہ آباد نہیں رکھا تھا، وہ بالکل خالی جگہ پر شہر بسایا  تھا ، جیسا کہ ابوالفضل نے آئین اکبری میں لکھا ہے، پریاگ راج آلہ آباد کے ساتھ ساتھ ہی چلا آ رہا ہے، اکبر تو ہندستانی ہو گیا تھا ، اسے حملہ آور کہنے کی بنیاد کیا ہے؟ ہندستانی ہونے کا احساس اور جذبہ اکبر نے پیدا کیا تھا، ورنہ ہندستان میں چھوٹے چھوٹے راجواڑے تھے، آخر اسلامی اور مسلم نام سے پریشانی کیوں ہے، سماج کو بانٹ کر ہی بی جے پی کو کامیابی ملے گی،؟ اسلام اور مسلمان بھی ہندستان کا حصہ ہیں، جیسا کہ قومی شاعر رام دھاری سنگھ دنکر نے بھارتیہ سنسکرتی کے چار ادھیائے میں لکھا ہے، نام بدلنے کا مطلب سماج کو ہندو مسلم کے نام پر تقسیم کرنا اور ہندو تشٹی کرن ہے، اس کا جواب سنگھ اور بھاجپا کے نمائندوں نے نہیں دیا،  آج زی ہندستان پر 7سے 8کے پروگرام میں یہ سب باتیں ہوئیں ، یہ افسوس ناک بات ہے کہ بیشتر مسلم نمائندے موضوع پر تیار نہیں تھے، وہ اصل سوال کا جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں ، آج بھی یہ کئی چینلز پر ایسا دیکھا گیا، وہ صرف چند سیاسی باتیں کر تے ہیں، جب کہ ڈیبیٹس میں ہر طرح کی بات زیر بحث آتی ہے،
بشکریہ۔
عبدالحمید نعمانی ،

Post Top Ad

Your Ad Spot