Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, January 14, 2019

ممتاز افسانہ نگار و شاعر حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش14 جنوری کے موقع پر خصوصی پشکش۔

صدائے وقت/ ماخوذ/ مولانا سراج ہاشمی۔
. . . . . . . . . . . . . .  . . . . . . . . . . . . .
افسانہ نگار، ممتاز و معروف شاعر” حفیظ جالندھری 14جنوری1900 کو پیداہوۓ

*حفیظؔ جالندھری* ، نام *محمد حفیظ، ابوالاثر* کنیت، *حفیظؔ* تخلص۔ *۱۴؍جنوری۱۹۰۰ء* کو *جالندھر* میں پیدا ہوئے۔مروجہ دینی تعلیم کے بعد اسکول میں داخل ہوئے۔ حفیظ کو بچپن ہی سے شعروسخن سے دلچسپی تھی۔ *مولانا غلام قادر گرامی* جو ان کے ہم وطن تھے، ان کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا۔کسبِ معاش کے لیے عطر فروشی، کلاہ سازی، خیاطی، فوج کی ٹھیکیداری، خطوط نویسی ، مزدوری، سنگر سیونگ مشین کمپنی کی مینیجری سب کچھ کرڈالا۔۱۹۲۱ء میں سنگر کمپنی کی ملازمت چھوڑ دی اور وطن واپس آگئے۔ وہاں سے اردو زبان میں ایک ماہانہ رسالہ *’’اعجاز‘‘* جاری کیا جو پانچ ماہ بعد بند ہوگیا۔۱۹۲۲ء میں لاہور آئے۔ان کا شروع سے اس وقت تک شعروادب اوڑھنا بچھونا تھا۔ رسالہ *’’شباب‘‘* میں ملازمت کرلی۔اس کے بعد *’’نونہال‘* اور *’ہزار داستان‘* کی ادارت ان کے سپرد ہوئی۔ پھر *’پھول‘ اور ’تہذیب نسواں‘* سے منسلک رہے۔ کچھ عرصہ ریاست خیرپور کے درباری شاعر رہے۔ نظم *’’رقاصہ‘‘* وہیں کی یادگار ہے۔ *۔ *۲۱؍دسمبر ۱۹۸۲ء* میں انتقال کرگۓچند تصانیف یہ ہیں:

*’نغمۂ زار‘، ’سوز وساز‘، ’تلخابۂ شیریں‘، ’چراغِ سحر‘۔ ’’شاہنامہ اسلام‘‘* (چار جلدوں میں)۔ *’ شاہنامہ اسلام ‘* سے ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ انھوں نے افسانے بھی لکھے۔ بچوں کے لیے گیت اور نظمیں بھی لکھیں۔

*بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:356*
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
معروف شاعر حفیظؔ جالندھری کے یومِ ولادت پر منتخب اشعارپیش خدمت
________________
ابھی  میعادِ  باقی  ہے  ستم  کی
محبت کی سزا ہے اور میں ہوں
---
احباب کا شکوہ کیا کیجئے خود ظاہر و باطن ایک نہیں
لب اوپر اوپر ہنستے ہیں دل اندر اندر روتا ہے
---
آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنے
غفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نے
---
اس کی صورت کو دیکھتا ہوں میں
میری سیرت وہ دیکھتا ہی نہیں
---
*مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے*
*پیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیے*
---
الٰہی ایک غمِ روزگار کیا کم تھا
کہ عشق بھیج دیا جانِ مبتلا کے لیے
---
او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا
---
*اہلِ زباں تو ہیں بہت کوئی نہیں ہے اہلِ دل*
*کون تری طرح حفیظؔ درد کے گیت گا سکے*
---
تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک
قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا
---
دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا
کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں
---
عاشق سا بد نصیب کوئی دوسرا نہ ہو
معشوق خود بھی چاہے تو اس کا بھلا نہ ہو
---
قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو
دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں
---
*تم تو بے صبر تھے آغازِ محبت میں حفیظؔ*
*اس قدر جبر سہو گے مجھے معلوم نہ تھا*
---
وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
آوازِ نفس ہی جسے آوازِ درا ہو
---
*رہنے دے جامِ جم مجھے انجامِ جم سنا*
*کھل جائے جس سے آنکھ وہ افسانہ چاہیے*۔

Post Top Ad

Your Ad Spot