Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, January 12, 2019

لوک سبھا الیکشن 2019،،سائیکل اور ہاتھی ایک ساتھ،،،،،،کانگریس کے ہاتھ کو لات۔


بی جے پی کو ہرانے کے لیے بی ایس پی ایس پی میں گٹھ بندھن ۔

یوپی کی ۸۰ سیٹوں میں سے ۳۸۔۳۸ سیٹیں آپس میں تقسیم، ساتھیوں کے لیے دو سیٹیں چھوڑیں، امیٹھی اور رائے بریلی سے امیدوار نہ کھڑا کرنے کا اعلان
گرو مودی او ر چیلے امیت شاہ کی نیندیں اڑادیں گے:
مایاوتی۔
یوپی کی ترقی اور خوشحالی کےلیے ہمارا اتحاد دور تک چلے گا:
اکھلیش ۔

لکھنؤ،۱۲؍، جنوری۔/٢٠١٩/ صدائے وقت۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
اترپردیش میں تقریباً  ڈھائی دہائیوں تک ایک دوسرے کے کٹر  حریف  رہنے  والے سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کے لیے ہفتہ کو آئندہ لوک سبھا انتخابات ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کیا ۔دارالحکومت کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں  منعقدہ  پریس کانفرنس میں بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی اور ایس پی  کے صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت کی پالیسیوں اور طریقہ کار کو ملک کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے لوک سبھا انتخابات  ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔     معاہدے کے تحت اتر پردیش کی 80 لوک سبھا سیٹوں میں ایس پی اور بی ایس پی  38-38 سیٹوں پر انتخاب لڑیں گے جبکہ دو نشستیں اتحادیوں کے لیے چھوڑی گئی ہیں۔  دونوں ہی  پارٹیاں  کانگریس  کے صدر راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقہ امیٹھی اور متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی چیئرپرسن  سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی میں اپنے امیدوار نہیں اتاریں گی۔محترمہ مایاوتی نے کہا کہ مرکز کی نریندرمودی حکومت نے ملک کو لاقانونیت اور معاشی بدحالی کی جانب ڈھکیل دیا ہے۔بی جے پی کی پالیسیاں اور  نظام غریب، کسان، نوجوان، دلت اور اقلیتوں سمیت سماج کے ہر طبقے کے لئے مہلک ہے۔ بی جے پی حکومت نے صرف کاروباریوں اور سرمایہ کاروں کا بھلا کیا ہے۔ اس   بدحال حکومت سے ملک کی عوام کو نجات دلانے کے لئے انہوں نے 25 سال پرانے لکھنؤ کے گیست ہاوس واقعہ کو بھلا کر ایس پی کے ساتھ سمجھوتے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کانگریس پر  حملہ  کرتے ہوئےمحترمہ مایاوتی نے کہا کہ ملک پر لمبے عرصے تک اقتدار کرنے والی کانگریس نے  بھی بی جے پی کی طرح عوام کو لاقانونیت، بدعنوانی اور معاشی بدحالی کی مار جھیلنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ کانگریس کو اتحاد میں شامل  کرنے  کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے اور مستقبل میں بھی ملک کے کسی بھی ریاست میں ان کی پارٹی کانگریس سے اتحاد نہیں کرے گی۔ اس کے باوجود کانگریس کے لئے دو سیٹیں رائے بریلی اور امیٹھی چھوڑ دی گئی ہیں تاکہ ریاست میں صفائی کی جانب رواں بی جے پی کو ان دو سیٹوں پر زور آزمائی کا موقع مل سکے۔اس موقع پر ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد سے حواس باختہ بی جے پی کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ کارکنوں کو بی جے پی کی کسی بھی سازش سے محتاط رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذاتی اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی سازش کی جاسکتی ہے جس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اترپردیش کو ذات پر مبنی  پردیش بنا دیا ہے۔ ذاتی منافرت کی سیاست کرنے والی اس پارٹی نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بھگوان کو بھی ذات میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی مل کر بی جے پی کو مرکزی  اقتدار سے بے دخل کردیں گی۔ ایس پی سربراہ نے کارکنوں سے کہا کہ وہ محترمہ مایاوتی کا پورا احترام کریں۔ بی ایس پی سپریمو کا احترام ان کا احترام  ہوگا۔محترمہ مایاوتی نے کہا کہ اس پریس کانفرنس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کی نیند اڑ جائے گی۔ یہ پریس کانفرنس ’’گرو ۔چیلے‘‘ کی نیند اڑانے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی کا یہ اتحاد لمبے وقت تک چلے گا  اور عام انتخابات کے بعد بھی جاری رہے گا۔ یہ اتحاد ملک کو بی جے پی کی بدحال حکومت سےنجات دلائےگا۔ اس سے پہلے بھی عام انتخابات اور اسمبلی ضمنی انتخابات میں دونوں پارٹیوں نے ایک ساتھ مل کر بی جے پی کو شکست فاش دی تھی جبکہ آنے والے عام انتخابات میں اترپردیش میں بی  جے پی کا صفایا یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد نہ ہونے دینے کی سازش کے تحت مسٹر اکھلیش یادو کا نام کانکنی گھپلہ کے لئے اچھالا گیا ہے۔ بی جے پی قیادت کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ ان کی اس کوشش سے اتحاد اور مضبوط ہوگیا ہے یہ اتحاد بی جے پی کو ملک کے اقتدار سے بے دخل کردے گا۔ اقتدار کے لئے ہر قسم کا ہربہ اپنانے میں ماہر بی جے پی اگر ای وی ایم کے ساتھ کھلواڑ کرتی ہے تو الگ بات ہے۔ اقتدار کی خاطر اور اپوزیشن پارٹیوں کو دباؤ میں لانے کے لئے بی جے پی کی حکومت سرکاری مشنری کا غلط استعمال جگ ظاہر  ہے۔محترمہ مایاوتی نے کہا’’ ایس پی۔بی ایس پی دونوں کا تلخ تجربہ ہے کہ کانگریس کے ساتھ انتخاب لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کا ووٹ فیصد کم ہوجاتا ہے۔کانگریس کے ساتھ ایس پی۔بی ایس پی اتحاد کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ۔ہمارا ووٹ تو ٹرانسفر ہوجاتا ہے لیکن کانگریس کا ووٹ ٹرانسفر نہیں ہوتا یا اندرونی سیاست کے تحت کہیں اور کردیا جاتا ہے اس میں ہماری جیسی ایماندار پارٹی کا ووٹ کم ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 1993 میں ایس پی۔بی ایس پی کا ووٹ ایمانداری سے ٹرانسفر ہوتا تھا اس لئے  اتحاد سے گریز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کو روکنے میں ناکام بی جے پی کا مسٹر شیوپال سنگھ یادو پر خرچ کی گئی دولت بیکار ہوجائےگی۔بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے گذشتہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بے ایمانی سے حکومت بنائی تھی۔ جبکہ انتخابات میں تو کانگریس کے زیادہ تر امیدوار کی تو ضمانت تک ضبط ہوگئی تھی۔ کانگریس کے راج میں نافذ کردہ ایمرجنسی تھی اور اب تو  ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی  ہے۔مودی اینڈ کمپنی سرکاری مشنری کا غلط استعمال کر اپنے حریف کے خلاف گڑے مردے اکھاڑ کر ان کو پریشان کررہی ہے۔عام انتخابات میں بحیثیت ایک امیدوا ر کے شرکت کرنے کے سوال پر محترمہ مایاتی نے کہا کہ آنے والے وقت میں لوگوں کو اس کا پتا چل جائے گا۔ وہیں صحافیوں کے ذریعہ بطور وزیر اعظم امیدوار کے مایاوتی کے حمایت کرنے کے سوال پر مسٹر اکھلیش نے کہا’’اترپردیش نے ملک کو کئی وزیر اعظم دئے ہیں۔اگر پھر سے اترپردیش ملک کو وزیراعظم دیتا ہے تو ہم اس کا استقبال کریں گے۔ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے اتحاد کے لئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے تئیں اپنے شکریہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ ہمار ااتحاد کا ذہن تو اسی وقت بن گیا تھا جس دن بی جے پی کے لیڈروں نے مایاوتی پر قابل اعتراض تبصرے کئے تھے۔ اپنے لیڈروں پر کاروائی کرنے کے بجائے بی جے پی قیادت نے ایسے عناصر کو وزیر کے عہدے پر فائز کر کے انہیں انعام و اکرام سے نوازا۔  آج سے مایاوتی کی بے عزتی میری بے عزتی ہوگی۔اتحاد لمبا چلے گا، اس میں دوام ہوگا اور اسمبلی انتخابات تک رہے گا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے میعاد کار میں ملک میں لاقانونیت، بدعنوانی اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔ اپنے سیاسی مفادات کے لئے بی جے پی نے ذات اور مذہب کے نام پر سماجی ہم آہنگی کے لئے خطرہ پیدا کردیا ہے۔ خاص کر اترپردیش کو تو بی جے پی نے ذات کی ریاست بنا دیا ہے۔اسپتالوں میں علاج اور تھانوں میں رپورٹ لکھنے سے پہلے ذات  پوچھا جارہا ہے یہی نہیں بی جے پی کے لیڈروں نے بھگوان کو بھی ذات میں تقسیم کردیا ہے۔مسٹر یادو نے کہا کہ ایس پی اوربی ایس پی دکھ اور سکھ کے برابر شریک ہیں۔ اتحاد کے تاریخی فیصلے سے  برسر اقتدار کا خاتمہ یقینی ہے یہ اتحاد صرف سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو مضبوطی فراہم کرے گا اور یہی بی جے پی کے زوال کا آغاز ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot