Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, February 5, 2019

آج کا انتخاب۔۔۔۔۔۔" امانت میں خیانت کرنا انتہائی گھناونا گناہ ہے،

از / خان پرویز احمد / گجرات/ صدائے وقت۔
تذکرہ با القرآن و الحدیث۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .  
بِسْمِ الْلّٰهِ الْرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم۔۔۔

✅ *امانت میں خیانت کرنا انتہائی گھناؤنا گناہ ہے جس کے دائرے میں عبادات سے لے کر معاملاتِ زندگی کے تمام شعبے داخل ہیں* ✅

🎯 اللہ رب العزت اوررسول کریمﷺ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص مومن ہے اور مومن کسی کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا کیونکہ امانت داری پر عمل بھی ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺظاہری اعلان نبوت کے پہلے ہی صادق الامین کے بابرکت لقب سے جانے پہچانے جاتے تھے اور آج بھی وہ لقب مسجد نبو ی شریف میں مواجۂ رسول اللہﷺ کی جالیوں میں لکھا ہوا ہے۔

جن لوگوں کو زیارت روضہ رسول ﷺ کی سعادت نصیب ہوئی ہو انہوں نے مسجد نبوی شریف کی جالیوں کو بغور دیکھا ہوگا، جن میں آپﷺ کا لقب مبارک ’’ صادق الامین‘‘ لکھا ہوا ہے۔

📜آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جس کے اندر امانت نہیں اس کے اندر ایمان نہیں۔"
(مسند احمد)
گویا کہ ایمان کالازمی تقاضا ہے کہ آدمی امین ہو، امانت میں خیانت نہ کرتا ہو۔ عربی زبان میں ’’امانت ‘‘کے معنیٰ یہ ہیں کہ کسی شخص پر کسی معاملے میں بھروسہ کرنا۔ امانت میں خیانت کرنا منافق کی علامت بتائی گئی ہے۔
📜 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’منافق کی 3 علامتیں ہیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اسکے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔‘‘
(صحیح مسلم ، ایمان کا بیان) ۔

🎯 _اس حدیثِ پاک سے یہ واضح ہوگیا کہ ہر وہ چیز جو دوسرے کو اس طرح سپرد کی گئی کہ سپرد کرنے والے نے اس پر بھروسہ کیا ہو یہ اس کا حق ادا کرے گا، یہ ہے امانت کی حقیقت لہٰذا کوئی شخص کوئی کام یا کوئی چیز یا کوئی مال جو دوسرے کے سپرد کرے اور سپرد کرنے والا اس پر بھروسہ سے سپرد کرے کہ یہ شخص اس سلسلے میں اپنے فریضے کو صحیح طور پر بجالائے گا اور اس میںکوتاہی نہیں کرے گا ،یہ امانت ہے، اور امانت کی اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو بے شمار چیزیں اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔ آج اس کا مفہوم بہت محدود سمجھا جاتا ہے۔_۔

Post Top Ad

Your Ad Spot