Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, February 5, 2019

اعظم گڑھ۔پھولپور تحصیل میں مقدمات کے فیصلوں و عدالتی کارروائی کی کوئی تفصیل/ ریکارڈ نہیں۔‎


اعظم گڑھ۔۔۔اترپردیش۔۔۔ضلع کی معروف تحصیل میں کتنے مقدمات کا فیصلہ ہوتا ہے ، کتنے دن عدالت چلتی ہے ، کتنے دن عوام کے مقدموں کی سنوائی کا جاتی ہے اس کا کوئی ریکارڈ تحصیل میں نہیں ہے ؟ یہ کہنا ہے پھولپور کے تحصیلدار صاحب کا۔!!
جی ہاں  ناقبل یقین بات کو ماننا ہی پڑے گا۔کیونکہ ایک آرٹی آئی کے جواب میں تحصیلدار پھولپور نے تحریری شکل میں یہ جواب دیا۔
واضح ہو کہ مورخہ 15 نومبر 2018 کو ہیمون رائٹ کیر کمیٹی کے آل انڈیا نائب صدر ڈاکٹر شرف الدین اعظمی نے ایک آرٹی آئی کے ذریعہ پوچھا گیا کہ۔
جنوری 2018 سے اکتوبر 2018 کے درمیان  تحصیلدار کی عدالت میں کتنے مقدمے کی سنوائی کی گئی، کتنے دن عدالت چلی اور کتنے مقدموں کا فیصلہ کیا گیا"جس کے جواب میں تحصیلدار/ سہایک جن سوچنا ادھیکاری نے لکھا کہ۔"الگ سے کوئی ریکارڈ نہیں ہے جس میں اس طرح کا بیورا درج ہوتا ہو۔
اس سلسلے میں نمائندہ صدائے وقت نے تحصیل کے کئی وکلاء و دیگر اہلکاروں سے بات کی کہ کیا ایسا ہے تو ہر جگہ سے جواب یہی ملا کہ سب کچھ ریکارڈ موجود رہتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحصیلدار پھولپور نے صرف ایک فارملٹی نبھائی ہے یا ریکارڈ کھنگالنے سے بہتر یہی سمجھا کہ ایسا ہی جواب دے دیا جائے۔
پھولپور تحصیل ضلع کی ایک ایسی تحصیل ہے جہاں پر مقدموں کا انبار لگا ہوا ہے عوام انصاف کے لئیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔مگر کبھی بھی ریگولر عدالتی کام نہیں ہوتا۔کہنے کو تو ایس ڈی ایم سمیت 4 عدد عدالتیں ہیں مگر مقدمات کی فائلیں کئی کئ سالوں تک ایک ہی جگہ پڑی رہتی ہیں۔یہاں پر حکام اپنے دفتروں میں کم وقت دیتے ہیں۔اپنی رہائش گاہ سے ہی سب کام نپٹاتے رہتے ہیں۔عوام آفسوں کا چکر کاٹ کر واپس آجاتے ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot