Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, March 15, 2019

تعلیم لڑکیوں کے لئیے ضروری تو ہے مگر!!!۔


     از۔۔/ مولانا ندیم الواجدی،/ صدائے وقت۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
ملک کے مختلف شہروں سے خبریں آرہی ہیں کہ مسلمان لڑکیاں ہندو لڑکوں کے دام محبت میں گرفتار ہوکر اپنا مذہب بھی تبدیل کررہی ہیں اوران لڑکوں کے ساتھ شادی بھی رچارہی ہیں، ظاہر ہے اس طرح کی خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں، عشق ومحبت جسے ہم ہوس پرستی سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں جیسے عارضی اور حقیر جذبے کے لیے ایمان جیسی  دائمی اور بیش قیمت دولت گنوادینا ان لڑکیوں کے لیے تو انتہائی بدبختی کی بات ہے ہی خود ان کے خاندانوں کے لیے بھی انتہائی شرمناک اور ذلت ناک معاملہ ہے، بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے رسوائی کا باعث ہے، تبدیلیٔ مذہب کے واقعات علم میں بھی نہ آتے اگر شادی بیاہ رجسٹریشن کا قانونی سلسلہ نہ ہوتا، سرکاری اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۰۱۷ء - ۲۰۱۸ء میں کئی سو مسلم لڑکیوں نے اپنا مذہب بدلا ہے اور ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی کے پھیرے لیے ہیں، اب سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ اس کا سبب کیا ہے کہ مسلمان لڑکیاں اس برق رفتاری کے ساتھ ہندو لڑکوں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں اوران کے ساتھ شادی کررہی ہیں، ابھی تک کسی مسلم تنظیم نے اس سوال کو اپنے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا،حالاں کہ یہ ہماری تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خبروں کا نوٹس لیں، اور ارتداد کی اس لہر کے پس پشت کار فرما حقیقی عوامل کا پتہ لگائیں اوران کے تدارک کی کوشش کریں۔
یہ خبریں بھی آچکی ہیں کہ آر ایس ایس اوراس کی آئیڈیا لوجی پر کام کرنے والی تنظیمیں اپنے نوجوانوں کو مسلسل یہ سبق پڑھا رہی ہیں وہ مسلم لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھانسیں اوران سے شادی رچائیں ، حال ہی میں مسلم لڑکیوں کے بھٹکنے کے جو واقعات پیش آئے ہیں ان کا بنیادی سبب یہ سبق ہی ہے جو نہایت شدت کے ساتھ ہندو نوجوانوں کو پڑھایا جارہا ہے، مسلمان سیاسی اورسماجی طورپر اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ وہ ان واقعات پر کوئی احتجاج بھی نہیں کرپاتے، دوسری طرف اگر اس طرح کا کوئی واقعہ ہندو سماج میں رونما ہوتا ہے تو بھگوا تنظیمیں چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالیتی ہیں، گذشتہ سال دیوبند میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا، ایک مسلم لڑکے کا تعلق اپنے محلّے میں رہنے والی ایک ہندو لڑکی سے ہوگیا، لڑکا سعودی عرب میں برسر روزگار تھا، فیس بک وغیرہ کے ذریعے دونوں ایک دوسرے سے رابطے میں تھے، دونوں نے گھرسے بھاگ کر شادی کرنے کا پروگرام بنایا، لڑکا خاموشی کے ساتھ سعودی عرب سے دیوبند آیا، اور دونوں فرار ہوگئے، لڑکی بالغ تھی، اس نے مذہب تبدیل کیا، پہلے نکاح کیا، پھر کورٹ میرج کیا، تمام قانونی  دستاویزات کے ساتھ وہ لوگ دیوبند سے چند گھنٹے کے فاصلے پر واقع ایک شہر میں مقیم ہوگئے، جیسے ہی گھر والوں کو لڑکی کی عدم موجودگی کا پتہ چلا انھوں نے آسمان سر پر اٹھالیا، ہندو پریشد وغیرہ کے نوجوان بھی ساتھ آگئے، لڑکے کے گھر پر حملہ کیا گیا، اس کے والدین اور بھائی بہنوں کو گھر سے فرار ہوکر محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنی پڑی، بھگوا جماعتوں کے مسلسل دباؤ سے مجبور ہوکر پولیس نے ان دونوں کے موبائل سرولانس پر ڈال کر انھیں تلاش کرلیا، دونوں کو دیوبند لایا گیا، لڑکی نے جو عاقل بالغ تھی انتہائی بے باکی کے ساتھ بیان دیا کہ میں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیاہے، اپنی مرضی سے اس لڑکے کے ساتھ شادی کی ہے، اور میں اس کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہوں، اس کی ایک نہ سنی گئی، آر ایس ایس کے لوگ اس لڑکی کو لے کر چلے گئے اوراس کی شادی قریب کے ایک گاؤں میں کردی، غنیمت ہوا کہ لڑکے کو چھوڑدیاگیا، بعید نہ تھا کہ اسے ہندو لڑکی کو ورغلانے اور بہکانے کے جرم میں سزادی جاتی، یہ واقعہ اور اس طرح کے واقعات سے پتہ چلتاہے کہ مسلمان لڑکوں سے اگرجانے انجانے میں اس طرح کی کوئی غلطی  سرزد ہوجاتی ہے تو ہندو سماج کے دباؤ میں پولیس حرکت میں آجاتی ہے اور لڑکی کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہے، دوسری طرف اس طرح کے واقعات مسلم لڑکیوں کے ساتھ لگا تار پیش آرہے ہیں، ان کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ مذہب تبدیل کرنا یا اپنی پسند کی شادی کرنا ہر عاقل بالغ شہری کا دستوری حق ہے، ان حالات میں مسلمانوں کو غور کرکے خود ہی کوئی حل تلاش کرنا ہوگا، ہماری غفلت اور  خاموشی سے حالات دن بہ دن سنگین ہوتے چلے جائیں گے اوربعد میں تدارک کی کوئی سبیل باقی نہیں بچے گی۔
جہاں تک ہمارا خیال ہے مسلم لڑکیاں اس لیے صحیح راستے سے بھٹک رہی ہیں کہ ان کے والدین نے ان کو بے لگام چھوڑدیا ہے، ترقیٔ نسواں کے نام پر مسلسل فریب دیا جارہاہے اور والدین اس فریب کا شکار ہورہے ہیں، گھر کا ماحول خراب ہورہاہے، ٹی وی کے ذریعے فحاشی کا سیلاب بڑھتا چلا آرہا ہے، والدین میں سے کسی کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ اس سیلاب پر بند لگایا جائے، صورت حال یہ ہے کہ ہمارے شہروں ، قصبوں یہاں تک کہ دیہات میں بھی اب کوئی مسلم خاندان ایسا نہیں ہے جس میں ٹی وی کو زندگی کا حصہ نہ سمجھا جاتا ہو، اس سے ہمارے بچوں پر کیا خراب اثرات مرتب ہورہے ہیں اس کا کسی کو احساس تک نہیںہے، سب سے بڑھ کر تو یہ کہ اس سے بے حیائی کو فروغ مل رہاہے، فحاشی عام ہورہی ہے، اسلام اوراسلامی تہذیب سے نفرت اور بے گانگی بڑھ رہی ہے، حجاب قصۂ پارینہ بنتا جارہاہے، ڈراموں اور فلموں میں جو کچھ دیکھا جارہاہے عملی زندگی میں اس کی تقلید کی جارہی ہے، والدین خوش ہیں کہ ان کا گھرانا شاہ راہِ ترقی پر گامزن ہے، وہ سماجی طورپر اوپر اُٹھ رہے ہیں، آگے بڑھ رہے ہیں، انھیں یہ پتہ نہیں کہ یہ ترقی ایمان اور اسلامی تہذیب کی قیمت پر ہورہی ہے۔
ٹی وی تو خطرناک ہے ہی اسمارٹ فون اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے، شاید ہی کوئی لڑکا یا لڑکی ایسی ہو جس کے ہاتھ میں موبائل فون نہ ہو، اب وہ اس میں کیا دیکھتے ہیں، اس کو کن مقاصد میں استعمال کرتے ہیں، ماں باپ کو یہ جاننے کا نہ ہوش ہے، نہ فکر ہے اور نہ فرصت، وہ خود اسی مرض میں گرفتار ہیں، پورا معاشرہ اسمارٹ فون کی زدمیں ہے اور تباہ ہورہاہے، گھر سے بھاگنے کے جو واقعات پیش آرہے ہیں ان میں موبائل فون کا زبردست کردار ہے، ضروری ہے کہ اپنے بچوں کو اسمارٹ فون سے دور رکھا جائے اور اگر تعلیمی مقاصد کے لیے ان کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون دینا ضروری ہی ہو تو ان کی نگرانی بھی کی جائے، ان کو موبائل فون تھماکر آزاد چھوڑنا ایساہی ہے جیسے انھیں بے حیائی کا راستہ دکھادیا جائے اوراس پر چلنے کے لیے انھیں آزاد چھوڑ دیاجائے۔
ٹی وی، اور اسمارٹ فون تو بے حیائی اور فحاشی کے فروغ کا بڑا ذریعہ ہی ہے، موجودہ ارتداد کی جس لہر کی ہم بات کررہے ہیں اس کا اصل سبب مخلوط تعلیم ہے، اسکول کی سطح سے لے کر کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک کو ایجوکیشن ہے، لڑکے اور لڑکیاں کئی کئی گھنٹے ایک ساتھ گزارتے ہیں، ایک دوسرے کے قریب بیٹھتے ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ  ہنسی مذاق کرتے ہیں،  ساتھ مل کر کئی کئی دن کے لیے تفریحی ٹور پر جاتے ہیں، اتنے مواقع ملنے پر فطری طورپر وہ ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں، آہستہ آہستہ یہ قربت محبت میں اور محبت سے ہوس پرستی میں بدل جاتی ہے، ان ہی میں سے کچھ لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو اس حد تک پسند بھی کرلیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رشتۂ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں، دیکھا یہ گیا ہے کہ ان میں سے بہت سی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں، بہت سی لڑکیاں اپنا گوہر عصمت لٹاکر اور محبت میں دھوکا کھا کر خود کشی بھی کرلیتی ہیں، یہ واقعات کثرت سے پیش آرہے ہیں، اور اخبارات کی زینت بھی بن رہے ہیں، مگر ہم ان واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہے، یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی تعلیم کا حق دیا ہے، اور جن امور میں مساوات دی جاسکتی تھی ان میں مساوات بھی قائم کی ہے، اس میں دینی اورعصری تعلیم کی بھی کوئی قید نہیں ہے، کوئی خاتون اگر چاہے تو وہ ڈاکٹر انجینئر، وکیل کچھ بھی بن سکتی ہے، مگر تعلیم خواہ دینی ہو یا عصری اس کے حصول کے کچھ ضابطے ہیں، کچھ قیود ہیں، ان میں سب سے پہلا ضابطہ اور قید تو یہی ہے کہ مسلم خاتون جب  گھر سے باہر نکلے تو سرسے پاؤں تک پردے میں لپٹ کر نکلے، نامحرم مردوں سے دور رہے، اسلام مرد اور خواتین دونوں کو یہ تاکید کرتا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں، سورۂ نور میں دونوں میں سے ہر ایک کو الگ الگ خطاب کیا گیا ہے اور دونوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اسی طرح سورۃ الاحزاب میں عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بن سنور کر باہر نہ نکلیں، باپردہ رہیں، ان کے لیے اپنی  عفت وعصمت اور پاک دامنی کی حفاظت کے لیے اس حکم پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے، افسوس دور جدید کی چمک دمک نے قرآن کریم کی ان ہدایات  کو پس پشت ڈال دیا ہے، ہماری موجودہ ذلت، نکبت اور رسوائی کا بڑا سبب یہی ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی ہوس میں قرآنی تعلیمات کو فراموش کرچکے ہیں۔
مخلوط تعلیم کا تصور بہت زیادہ پرانا نہیں ہے، اس کا آغاز اٹھارویں صدی کے آخرمیں مرد وزن کے ما بین  مساوات کے پُر فریب نعرے کے ساتھ ہوا، آج یہ نظام ساری دنیامیں پھیلا ہواہے، اور لوگ کھُلی آنکھوں اس کے بد اثرات کا مشاہدہ بھی کررہے ہیں، زنا، بدکاری اور ہم جنسی کو فروغ مل رہاہے، امریکہ جو مغربی تہذیب کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھا جاتاہے مخلوط تعلیم کی تباہ کاریوں کا بھی سب سے بڑا نمائندہ بن گیا ہے، وہاں کے کالجوں کے سروے بتلاتے ہیں کہ دوران تعلیم پچھتر سے پچاسی فی صد تک طلبہ اور طالبات ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کرلیتے ہیں، اس کے نتیجے میں ۶ ہزار طالبات میں سے اوسطا ۴۰۰ طالبات ہر سال  حاملہ ہوجاتی ہیں، امریکن معاشرے میں کنواری ماؤں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، ان سے پیدا ہونے والے بچے اس معاشرے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن گئے ہیں، وہ دن دور نہیں جب ہمارے کالج اور یونیوسٹیاں بھی امریکہ کی کہانی دہرائیں  گی۔
فی الحال تو ہمیں مخلوط تعلیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ارتداد پر غور کرنا ہے، مسلم لڑکیوں کے بھاگنے اور ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی کرنے کے جو واقعات پیش آرہے ہیں ان میں ننانوے فی صد کا تعلق کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ہے، ہم نے دینی تعلیم کے لیے لاکھوں مدرسے اور مکاتب قائم کئے ہیں اور ان کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ بھی ہورہا ہے ،کیاہم ایسے کالج اوراسکول قائم نہیں کرسکتے جہاں صرف ہماری بچیاں عصری تعلیم حاصل کرسکیں، لڑکیوںکی دینی تعلیم کے ادارے بھی بڑھتے جارہے ہیں، ضرورت ہے اب صاحب حیثیت مسلمان مسلم گرلز کالج اور مسلم گرلز اسکول بھی قائم کریں اور اس کو ایک تحریک کی شکل دیں،والدین بھی یہ طے کرلیں کہ اگر بچوں کو عصری تعلیم دلانا ہی ضروری ہے تو وہ صرف ان تعلیم گاہوں میں دلائیں گے جہاں مخلوط تعلیم نہیںہوگی، اگر ایسی تعلیم گاہیں نہیں ہیں تو تعلیم دلانے سے بہتر یہ ہے کہ ان کو گھر بٹھالیا جائے، یا ان کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کردیا جائے، اس صورت میں ان کا دین وایمان تو محفوظ رہے گا اورانھیں یہ سننا نہیں پڑے گا کہ تمہاری بیٹی فلاں غیرمسلم   لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے، اس نے اپنا مذہب بدل لیا ہے اور وہ فلاں غیر مسلم پریوار کی بہو بن گئی ہے،دنیا کی بدنامی اور رسوائی تو اپنی جگہ ہے آخرت میں بھی والدین جواب دہ ہوں گے کہ آخر انھوں نے اپنی بچیوں کے لیے پُر خطر راستہ کیوں چنا؟ جب تک ہم مخلوط تعلیم سے اپنا پیچھا نہیں چھڑائیں گے اس وقت تک ارتداد کے ان واقعات کی روک تھام نہیں ہوگی، اگر ایمان جیسی قیمتی چیز کو گنوانا منظور نہیں ہے تو سب سے پہلے مخلوط تعلیم کے تصور کو نا منظور کرنا ہوگا، اسی میں مسلم معاشرے کی بھلائی اورمسلم خاندانوں کا تحفظ ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot