Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, March 16, 2019

بابری مسجد سے متعلق مصالحت کمیٹی کی تشکیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ معروضات۔


رضوان احمد قاسمی[صداۓوقت]
_________________________
    
  سپریم کورٹ ایک باوقار ادارہ ہے. اس کے کسی فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا عدالت عالیہ سے بغاوت اور فاضل ججوں کی توھین ہے. اس لئے اس کا ہراقدام قابلِ تسلیم ہے. اس کا ہرمشورہ ہمیں منظور ہے اور اس کی ہر کوشش لائقِ تعریف ہے........ لیکن چونکہ عدالتی کرسیوں کو زینت بخشنے والے بھی ہمارے ہی درمیان کے ایک فرد ہیں. سیاسی وسماجی حالات سے متاثر ہوجانا ان کیلئے بھی کچھ بعید نہیں. ملک وقوم سے دشمنی کرنے والےشرپسندوں کو وہ بھی دیکھ رہے ہیں اور خود اپنی فطرت سے وہ بھی مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں اس لیے بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کی سماعت کے بعد ہمارے فاضل ججوں نے جو ایک کمیٹی تشکیل دی ہےاور مصالحتی فارمولے کو زیرِ عمل لاتے ہوئے آپس میں مل بیٹھ کر تصفیہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے....... سچ پوچھئے تو یہ اقدام مجھ جیسے پریشاں خیالوں کو اور بھی پریشان کئے دے رہا ہے........ کیونکہ مصالحت کا مطلب ہے...... *کچھ لو اور کچھ دو*........
     ظاہر ہے کہ یہ صورت حال اس وقت مفید کہی جا سکتی ہے جبکہ کوئی جھگڑا ہو. آپس میں کوئی اختلاف ہو. نزاع باہمی کاخلفشار ہو......... بابری مسجد کے موجودہ مقدمہ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی جھگڑا ہی نہیں ہے اس لیے کہ یہ معاملہ ملکیت کا ہے. مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ اس زمین کی ملکیت کسی اور کی نہیں ہےبلکہ مسجد اور تمام مسلمانوں کی ہے. اس کےبرخلاف برادران وطن ہیں . کہ ان کا دعویٰ کچھ اور ہے. اب ایسی صورت حال میں عدالت عالیہ کا کام صرف اتنا تھا کہ کاغذی بنیادوں پر اور دلائل وشواھد کی اساس پر کس فریق کا دعویٰ درست ہے اور کس کا نہیں؟اس کا فیصلہ سنادیتی. کون فریق اپنے دعویٰ میں حق پر ہے اور کون نہیں. اس کا اعلان کردیتی. اور کس کے دلائل قابلِ قبول اور ناقابل انکار ہیں اور کس کے نہیں ہیں ....اس کا اظہار کردیتی........ بقیہ حقدار تک کسی بھی حق کو پہنچانے کا کام گورنمنٹ کا ہے. اورجس کا دعویٰ عدالت کی نظر میں درست ہے اس کے لئے حالات کو سازگار بنانے اور مخالفین کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے....... اسی لیے مسلمانوں نے شروع ہی سے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ عدالت عالیہ خواہ ہمارے حق میں فیصلہ کرے یا ہمارے خلاف فیصلہ سنائے بہر صورت ہمیں منظور ہے....... مگر ان سب کے باوجود کوئی فیصلہ سنانے کے بجائے ایک مصالحتی کمیٹی کی تشکیل کو کیا کہا جائے؟ عدالت کے اس اقدام کو تو غلط کہہ نہیں سکتے اور فاضل ججوں کی مصالحتی کمیٹی کی تشکیل کو درست مانے بغیر کوئی چارہ کاربھی نہیں ہے بلکہ اس پر کوئی تبصرہ بھی غلط ہے....... لیکن سچ پوچھئے تو فیصلہ سنانے کے بجائے مصالحتی کمیٹی کی تشکیل یقیناً بہت سارے امکانات کوجنم دیتی اور نئے نئے شبہات کادروازہ کھولتی ہے
      علاوہ ازیں مصالحتی کمیٹی کے بارے میں ذرا غور فرمائیے کہ کسی سخت. متشدد اور انتہائی جانبدار فرد کو کمیٹی کا رکن بنانے سےکیا مصالحت کا دور دور تک بھی کوئی تصور ہوسکتا ہے؟ پھر غضب بالائے غضب یہ کہ ایک دوسرے متشدد اور جانبدار وسیم رضوی کی آھٹ بھی اب آنے لگی ہے تو ظاہر ہے کہ ایسے میں مصالحت کا تو کوئی امکان ہی باقی نہیں رھتا البتہ قانونی طور پر دستبرداری کی راہ ضرور ہموار ہوسکتی ہے جسکے لئے ڈبل شری اور ان کے ہمنواؤں کی تحریک بہت پہلے سے چل رہی ہے. گویا یہ مصالحت کی کوشش نہیں بلکہ دستبرداری پہ راضی کئے جانے کی کوشش ہے اور اب تک انفرادی طور پر دستبرداری کی جو رائیں آرہی تھیں انھیں کو قانونی سند عطاء کرنے کی تدبیر ہے
       برادران وطن کو شاید یہ غلط فہمی ہے کہ بابری مسجد کی آراضی سے مسلمانوں کو دستبردار ہونے کا پورا پورا اختیار ہے اور جس طرح ایک عام انسان اپنی جائیداد سے دستبردارہوسکتا ہے اسی طرح ھندوستان کے مسلمان بھی بابری مسجد کے آراضی سے دستبردار ہوسکتے ہیں حالانکہ ھندوستانی مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں اور ہمارے دستبردار ہوجانے سے بھی اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا. اس لئے کہ معاملہ مسجد کا ہے اور مسجد کسی ایک فرد. کسی ایک علاقہ اور کسی ایک ملک کے مسلمانوں کی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی ملکیت ہوتی ہے اور کسی بھی مسجد پر جتنا حق ہمارا ہے اتنا ہی حق اس بدو اور جاھل مسلمان کا بھی ہےجو دور دراز کے جنگل وبیابان میں رھتا ہے یا جس مسلمان نے ہمارے ملک کا نام بھی نہیں سنا ہے وہ بھی ہماری مسجد کا اسی قدر حقدار ہے جتنا کہ ہم ہیں اس لیے کسی بھی مسجد کی آراضی سے قانونی طور پر دستبرداری اسی وقت متصور ہوسکتی ہے جبکہ پورے عالم کے مسلمانوں کی نمائندہ کمیٹی آراضی مسجد سے دستبرداری کا اعلان کرے
   ہمیں تعجب ہے اپنے ان قائدین پہ . جو اس مصالحتی پیش کش کا استقبال کرتے اور آپس میں مل بیٹھ کر تصفیہ کئے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ کسی بھی مسجد کی زمین کو مندر کے لئے چھوڑدینے کا حق جب کسی کو ہے ہی نہیں تو پھر کمیٹی بنائے جانے سے کیا حاصل؟ کیا آپ امکانی فتنہ وفساد کے پیشِ نظر مسجد کو مندر بنادینے کا کوئی حق رکھتے ہیں؟ کیا آراضی مسجد کی ملکیت کو شرعاً کوئی تبدیل کر سکتا ہے؟ اور کیا ایک جگہ لچکدار رویہ اپنانے سے دوسری مساجدکی طرف للچائی نگاھیں اٹھنی شروع نہیں ہوںگی؟
        اس لئے مندر بنائے جانے کی خاطر یہ مصالحتی کمیٹی یاتصفیہ و سمجھوتہ کی کوئی نئی راہ........ ممکن ہے دوسروں کے لیےتو مفید ہو مگر مسلمانوں کے لئے ہرگز مفید نہیں اور *شرعاً اس کی اجازت بھی نہیں*
     شہر کوفہ کی جس مسجد کو بقول شخصےحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منتقل کیا تھا وہ بھی مندر بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ خود اسی مسجد کی حفاظت کے لیےیہ اقدام ہوا تھا. ویسے یہ ایک ایسی تاریخی روایت ہے جس کی سند میں بقول ابن کثیر دو دوجگہ انقطاع ہے
   *عَلَى أَنَّ الْإِسْنَادَ فِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ الْقَاسِمِ وَبَيْنَ عُمَرَ وَبَيْنَ الْقَاسِمِ وَابْنِ مَسْعُودٍ،*
*(البدایہ والنھایہ ج14ص 254)*
اور شاید اسی انقطاعی کمزوریوں کا اثر ہے کہ تاریخ طبری نے اس واقعہ کو جب نقل کیا تو صحابی کا نام بھی بدل گیا اور واقعہ کی نوعیت بھی یکسر تبدیل ہوگئی چنانچہ طبری کی اگر مانیں تو یہ مسجد کی منتقلی ہرگز نہ تھی  بلکہ یہ تو مسجدکی توسیع تھی چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ
*ثم إن بيت المال نقب عليه نقبا، وأخذ من المال، وكتب سعد بذلك إلى عمر، ووصف له موضع الدار وبيوت المال من الصحن مما يلي ودعة الدار.*
*فكتب إليه عمر: أن انقل المسجد حتى تضعه إلى جنب الدار، واجعل الدار قبلته، فإن للمسجد أهلا بالنهار وبالليل، وفيهم حصن لمالهم، فنقل المسجد وأراغ بنيانه، فقال له دهقان من أهل همذان، يقال له روزبه بْن بزرجمهر: أنا أبنيه لك، وأبني لك قصرا فأصلهما، ويكون بنيانا واحدا فخط قصر الكوفة على ما خط عليه، ثم أنشأه من نقض آجر قصر كان للأكاسرة في ضواحي الحيرة على مساحته اليوم، ولم يسمح به، ووضع المسجد بحيال بيوت الأموال منه إلى منتهى القصر، يمنة على القبلة، ثم مد به عن يمين ذلك إلى منقطع رحبة على بن ابى طالب ع، والرحبة قبلته، ثم مد به فكانت قبلة المسجد إلى الرحبة وميمنة القصر*
    *(تاريخ طبری ج4 ص 46)*
    علامہ شبلی نعمانی نے بھی الفاروق میں تاریخ طبری کی اسی تفصیل کو اختصار کے ساتھ قلمبند کیا ہے اور اسے توسیع مسجد قرار دیا ہے
*(تفصیل کے لیے دیکھیے الفاروق ج2ص 224.225بعنوان بیت المال کی عمارتیں )*
_________________________
16.مارچ 2019.بروزہفتہ

Post Top Ad

Your Ad Spot