Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, March 10, 2019

اردو اخبار نویسوں کی اکثریت نے فن کو چھوڑ کر پیشہ اختیار کر لیا ہے۔!!


تحریر/ شورش کشمیری / صداۓوقت
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
پہلے اخبار نویسی ایک نصب العین تھا اب صنعت ہے۔ یہ عقیدہ ہو گیا ہے کہ ورکنگ جرنلسٹ کو ملک یا اصول سے سروکار نہیں وہ ایک کمیرا ہے یا اہلکار۔ ہر اخبار اپنی منشا کے مطابق اس سے کام لے سکتا ہے۔ پہلے اخبار میں فکری مواد ہوتا اور ادب و سیاست پر تنقیدی مقالے آتے تھے اب فیچر آنے لگے ہیں یا لوگوں نے مال کی خوبی پر گاہک کی کمزوری کو ترجیح دی ہے۔ ظفر علی خاں نے اپنے بھانجے مہدی علی خاں (مشہور شاعر اور افسانہ نگار) کو اس جرم میں زمیندار سے سبکدوش کر دیا تھا کہ اس کسی صاحب کی موت پر فوتیدگی کی سرخی جمادی تھی۔ یا دو مختلف النسل الفاظ میں واؤ عطف آگیا تھا۔ آج یہ سب خواب کی باتیں ہیں۔ زبان غلط لکھئے۔ واقعات مسخ کیجئے۔ اناپ شناپ سجا لیجئے۔ اول فول بکتے رہئے سب گوارا ہے۔ خوبی یہ ہونی چاہئے کہ آپ اخبار مرتب کر سکتے ہیں۔
اگر غازہ رخسار استعمال کرنے کا سلیقہ ہے تو شوق سے غلط زبان لکھئے۔ آپ ہی سب سے بڑے ایڈیٹر ہیں۔
زبان پہلے قواعد کے تابع تھی اب اغراض کے۔ اگر آپ ان اغراض کو تحریر میں لا سکتے ہیں تو آپ کے پوبارہ ہیں۔ پہلے خبریں ڈھونڈی جاتی اب گھڑی جاتی ہیں۔ جس سیاستدانوں سے پالا پڑا ہے وہ خود جانتے ان کی زبان درست کرنا اور بیان بنانا بھی جرنلسٹوں کے فرائض میں ہے۔ وہ جرنلسٹ کس زبان میں اتارو ہو سکتے ہیں جنہیں اس پیشہ میں شوق نہیں پیٹ لایا ہے۔ رہ گئے جرائم تو جب وہ بغیر ضابطے کے یا ضابطہ توڑ کر ہوتے ہیں تو ان کی خبریں زبان کا ضابطہ کب مانتی ہیں؟ لکیر کا فقیر ہونا بھی ضروری نہیں۔ اقبال نے کہا تھا ؏
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک
جرنلسٹوں نے اپنے گریباں کی حفاظت کے شوق میں ہزاروں کا دامن پھاڑ دیا ہے۔ چپڑی اور دو دو ان کے بس کا روگ نہیں۔ اخبار بھی نکلے اور زبان بھی صحیح ہو یہ ان کی قدرت سے باہر ہے اور یوں بھی اس زمانہ میں مشکل ہے۔ یہ متقدمین و متوسطین اور گئے دور کے متاخرین کے خال خال افراد کی درد سری تھی کہ پروف ریڈنگ سے لے کر افتتاحیہ نویسی تک کو اپنے فرائض کا حصہ سمجھتے تھے۔ جس زبان کے ایڈیٹر تھے اس کے قواعد بھی جانتے تھے انہیں معلوم تھا کہ اردو میر و غالب کی زبان ہے۔ ہماری نئی پود میرا جی اور سعادت حسن منٹو کو "خدا" سمجھتی ہے۔ نئی نسل کے نزدیک پرانے صحافی اگلے وقتوں کے لوگ ہیں۔ یادگار زمانہ! اب ان کی چھاپ نہیں چلے گی۔ صرف و نحو نے انہیں پیدا کیا۔ صرف و نحو ہی کے ہو گئے اور صرف و نحو ہی کے ہاتھوں دم توڑا۔ وہ لوگ ہر موضوع پر لکھتے بلکہ لکھنے لکھانے کا تانا بانا لگا رکھا تھا۔ کبھی اپنے دائرے سے باہر قدم نہیں رکھا۔ ایڈیٹر تھے فنکار نہ تھے۔ وہ کاتبوں کی غلطیاں پکڑتے تھے۔ کاتب ان کی غلطیاں پکڑتے ہیں۔ ان کے ہاں نئی نئی اصطلاحیں آگئی ہیں۔ بزرگوں کی روحیں بھی ان سے نا آشنا ہیں۔ یہ انقلاب اس تیزی سے آیا ہے کہ پرانے صحافی ایک ایک کرکے گوشہ نشین ہو گئے یا مر کھپ گئے ہیں۔
۔_______________
شورش کاشمیری

Post Top Ad

Your Ad Spot