Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, March 11, 2019

اشتعال پھیلانے کی مہم۔۔۔سوشل میڈیا اور کچھ ٹی وی چینل پیش پیش۔

تحریر / عبد الحمید نعمانی۔/ صدائے وقت۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زبردست طریقے سے نفرت پیدا کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے، ادھر سدرشن چینل کا ایک پروگرام  سوشل میڈیا پر چل رہا ہے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو مشتعل کیا جا رہا ہے کہ سارے دہشت گردانہ حملے اسلام کی تعلیمات کے تحت کیے جاتے ہیں، اور سب مسلمان ایک سے ہیں، اچھے برے کی تقسیم غلط ہے، پروگرام میں اتی نر سنہا جی بھی یہ کہہ رہے ہیں، ہمارے پاس میڈیا نہیں ہے، ہر جگہ سنجیدہ ذی علم آدمی ہونا چاہیے سوال کرنے کے لیے ایسا یہ لوگ کس بنیاد پر کہتے ہیں، ایک پروگرام میں ہم نے نر سنہا جی سے سوال کیا کہ کیا آپ شان نزول کے بارے میں جانتے ہیں، قرآن ایک ہی بار نازل نہیں ہو گیا ہے، گیتا میں کرشن اپنے دشمنوں کا صفایا کرنے کے لیے کہتے ہیں، تو سارے لوگ ہیں یا جومیدان جنگ میں لڑ رہے ہیں وہ مراد ہیں،؟ قرآن تو غیر محارب سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے، حالاں کہ وہ بھی کافر ہیں تو یہ کہنا کیسے صحیح ہے کہ قرآن سارے کافروں کو قتل کرنے کے لیے کہتا ہے، قرآن کی ایک خصوصیت اس میں تضاد نہ ہونا بھی ہے، بیشتر ہندو دھرم گرنتھوں کے متعلق خود غیر مسلم اہل علم نے لکھا ہے کہ ان میں وقت کے ساتھ کمی بیشی ہوئی ہے، قرآن کے متعلق ایسا نہیں ہے، جب آپ کو پوری جانکاری نہیں ہے تو اسلام کے بارے میں کیسے بولتے ہیں، ہم ہندو دھرم اور تاریخ کے بارے میں حوالے سے ساتھ بول رہے ہیں، آپ کوئی حوالہ دیں، لیکن وہ جواب نہیں دے سکے اور ہماری تعریف کرنے لگے کہ نعمانی جی ودوان آدمی ہیں، ہم نے کہا کہ ہمیں اپنی تعریف کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے دل اللہ کا شکر ہے کہ اس کی خواہش نہیں ہے، بس لوگوں کو سچ اور حق بتا دیں، اس کے بعد بات ختم ہو گئی، بعد چینل کے عملے کے کئی لوگوں نے الگ الگ سے بہت دیر تک  باتیں کیں، انہوں نے کہا کہ ہماری غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں، ایسے اللہ کے فضل و کرم سے سیکڑوں، ہزاروں افراد کی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں، لیکن سماج بہت بڑا ہے، اگر تبلیغی جماعت والے اپنے پروگراموں میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں تو بڑا فائدہ ہوگا، لیکن ان معلوم ہی نہیں ہے دنیا میں ہمارے متعلق کیا کچھ ہو رہا ہے، وہ چند امور پر اپنے روایتی انداز میں بول کر  بات ختم کر دیتے ہیں، اس  بار جھارکھنڈ، بہار کے سفر میں  ہم نے تبلیغی جماعت کے دوستوں سے کہا کہ کچھ ایسا بھی کریں کہ لگے کہ اس دنیا میں رہتے ہیں، اس پر ذمےدار لوگ کچھ  نہیں بولے لیکن دیگر نے کہا کہ اس کی ضرورت تو ہے ہم جو میڈیا میں دیکھتے اور سوالات سنتے ہیں ان کے بارے میں آپ لوگ کچھ نہیں بولتے ہیں، لیکن ہمیں لگا کہ اسلام کے متعلق کوئی علمی مطالعہ نہیں ہے، پھر سوچا کہ غلط فہمیوں کو دور کرنا ضروری ہے، تو دو، ڈھائی گھنٹے وقت دے کر بات چیت کی، سارے ضروری سوالات کا ان کو موقع دیا، رخصت ہوتے وقت کہا کہ  اس کی ضرورت تھی، ہم لوگ سوالات سن کر خود غلط فہمی میں پڑ گئے تھے، ہم نے دو چار کو موبائل نمبر دے دیا اور کہا کہ جو بات ہو پوچھ لیں، جب جب آنا ہوگا، بات ہوگی ، آج کی تاریخ میں ایک بڑی ضرورت ہے کہ جو کچھ لکھا، بولا جاتا ہے اس پر نظر رکھی جائے، اور موقع نکال کر اس کے متعلق بہتر طور سے بات چیت کی جائے، اگر سنجیدہ اہل علم توجہ نہیں دیں گے تو سیاست باز قسم کے افراد کی بے تکی باتوں کو لوگ اصل بات سمجھ لیں گے اور جوکر سماج کے قائد ہو جائیں گے،

11/3/2019 عبدالحمید نعمانی ،

Post Top Ad

Your Ad Spot