Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, May 24, 2019

انتخابی نتائج پر تبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امیر جماعت اسلامی ہند۔


از/ سید سعادت اللہ حسینی
امیر جماعت اسلامی ہند / صدائے وقت
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
انتخابی نتائج کا اعلان ہوچکا ہے اور بہت جلد نئی حکومت زمام کار سنبھال لے گی۔ ملک کے جمہوری نظام میں منتخب نمائندے صرف اُن لوگوں کے نمائندے نہیں ہوتے جنہوں نے ان کے حق میں رائے دی ہے بلکہ وہ تمام شہریوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔ ہم نو منتخب ارکان پارلیمان اورحکمرانوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ذات پات،مذہب اور طبقہ کی تفریقات سے اوپر اٹھ کر تمام ہندوستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں گےاور اپنی دستوری ذمہ داریوں کو سنجیدگی اور 
ایمانداری سے ادا کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی ہند

بدقسمتی سے انتخابی مہم 
میں جس طرح کی زبان استعمال ہوئی اور جس طرح کے تفریق پیدا کرنے والے ایجنڈہ پر زور دیا جاتا رہا،ہم امید کرتے ہیں کہ انتخابات کی تکمیل کے بعد اب ان باتوں کو فراموش کردیا جائے گا اور منتخب نمائندے احساس ذمہ داری کے ساتھ حکمرانی اور پارلیمانی رکنیت کے فرائض انجام دیں گے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے کمزور طبقات اور اقلیتوں میں تحفظ و سلامتی کے احساس کو تقویت دے اوریہ یقین دہانی کرائے کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں۔
بھارت جیسے وسیع و عریض اور ہمہ تہذیبی ملک کے اتحاد و سالمیت اور ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ حکمران، ملک کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے ، ان کے افکار وخیالات کا احترام کرنے اوران کے مفادات کا لحاظ رکھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ وہ کسی خاص طبقہ کے نمائندہ نہ رہیں بلکہ پورے ملک کے نمائندہ بنیں۔ اب جبکہ مسلسل دوسری بار حکمران جماعت نے زمام کار سنبھالی ہے، یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ذمہ دار جماعت کی حیثیت سے اپنی امیج بنانے کی فکر کرے جس پر ملک کے تمام طبقات خصوصاً کمزور اور محروم طبقات اور اقلیتیں بھی اعتماد کرسکیں۔
ملک میں امن و امان کا ماحول پیدا کرنے اور عدل و انصاف کے قیام میں ہم جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
ہم اپوزیشن کی جماعتوں اور قائدین سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ سنجیدگی سے اپنا احتساب کریں گے۔ ملک کے حالات حزب اختلاف سے بھی زیادہ ذمہ دارانہ رویہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاسی قائدین اور جماعتوں کی جانب سے ،ذاتی انا،مفاد پرستی اور اصولوں پر مصالحت کے رویوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حزاب اختلاف کے قائدین ان انتخابات سے سبق لیں گے اور ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔
ہم ملک کے عام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا رول ادا کریں۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ جمہوری معاشرہ میں رائے دہندوں کا رول رائے دہی کے بعد ختم نہیں ہوجاتا بلکہ شروع ہوتا ہے۔ یہ عام شہریوں کی اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمرانوں کو ان کی غلطیوں پر بروقت متوجہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو ، جمہوری ادارے اور جمہوری قدریں محفوظ رہیں اور تمام شہریوں اور ان کے تمام طبقات کو انصاف ملے۔
ہم ملک کے مسلمانوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی اصل حیثیت ایک پیغام کے علمبردار داعی گروہ کی ہے۔ انتخابات کے نتائج سے زیادہ ہمارے لئے اہم اور لائق توجہ امر، سماج کے بدلتے ہوئے حالات ہیں۔ جس طرح سماج میں اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں غلط فہمیاں پھیل رہی ہیں اور سماج تقسیم ہورہا ہے، اس کے اثرات انتخابات پر بھی پڑتے ہیں اور بننے والی حکومتوں پر بھی۔ ان حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم اسلام کے صحیح تعارف اور برادران وطن سے قربت اور ان کے دلوں کو جیتنے کی کوششوں کی طرف متوجہ ہوں اور بڑے پیمانہ پراپنی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور اپنے کردار اور اجتماعی رویوں سے اسلام کی شہادت دیں اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق ملک کی تعمیر و ترقی  کا ماڈل پیش بھی کریں اور اس میں فعال کردار بھی ادا کریں۔
اللہ سے یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ ان حالات کو بھی کسی بڑے خیر کا ذریعہ بنائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ حالات ہم کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے اور اہل اسلام میں نئی بیداری لانے کا خدائی منصوبہ ہو۔ اگر ہم بحیثیت امت اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوں گے توان شاء اللہ ضرور یہ حالات بہتر مستقبل کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot