Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, September 5, 2019

ایک مزاحیہ غزل۔

*مزاحیہ غزل/صداٸے وقت/ماخوذ۔
=========================

یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
اور امی نے سمجھائی نہیں.
میں کیسے میٹھی بات کروں؟
جب میں نے مٹھائی کھائی نہیں
آپی بھی پکاتی ہیں حلوہ
پھر وہ بھی کیوں حلوائی نہیں
یہ بات سمجھ میں آئی نہیں.
نانی کے میاں تو "نانا" ہیں
دادی کے میاں بھی "دادا" ہیں
جب آپا سے میں نے پوچھا
"باجی" کے میاں کیا "باجا" ہیں؟
وہ ہنس ہنس کر یہ کہنے لگیں
"اے بھائی نہیں، اے بھائی نہیں!"
یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
جب نیا مہینہ آتا ہےتو
بجلی کا بل آ جاتا ہے
حالانکہ بادل بیچارہ
یہ بجلی مفت بناتا ہے
پھر ہم نے اپنے گھر بجلی
بادل سے کیوں لگوائی نہیں؟
یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
گر بلی شیر کی خالہ ہے
تو ہم نے اُسے کیوں پالا ہے؟
کیا شیر بہت نالائق ہے؟
خالہ کو مار نکالا ہے؟
یا جنگل کے راجا کے ہاں
کیا ملتی دودھ ملائی نہیں؟
یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
کیوں لمبے بال ہیں بھالو کے؟
کیوں اس کی "ٹنڈ " کرائی نہیں؟
کیا وہ بھی "گندا بچہ" ہے؟
یا اس کے ابو، بھائی نہیں؟
یہ اس کا ہیئر اسٹائل ہے
یا جنگل میں کوئی نائی نہیں؟
یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
جو تارے جھلمل کرتے ہیں
کیا ان کی چچی تائی نہیں؟
ہوگا کوئی رشتہ سورج سے
یہ بات ہمیں بتلائی نہیں!
یہ چندا کیسا ماما ہے؟
جب امی کا وہ بھائی نہیں!
یہ بات سمجھ میں آئی نہیں...

Post Top Ad

Your Ad Spot