Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, September 9, 2019

ڈاکٹر شاہد بدر کا کیس ۔۔گجرات پولیس کے ذریعہ پیش کیا گیا وارنٹ نقلی۔جج نے لگاٸی ڈانٹ۔۔۔عرضی خارج۔

اعظم گڑھ ۔۔اتر پردیش۔صداٸے وقت۔بشکریہ حوصلہ نیوز۔مورخہ ٩ ستمبر ٢٠١٩۔
=========================
سیمی کے سابق قومی صدر ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کی عبوری ضمانت کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نےاستغاثہ کو جم کر لتاڑ لگائی۔ 

شاہد بدر کے وکیل عبد الخالق نے حوصلہ نیوز کو بتایا کہ اعظم گڑھ عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج لالتا پرساد نے استغاثہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے پایا کہ شاہد بدر کے خلاف گجرات کی مقامی عدالت سے جاری ہونے والا وارنٹ اصلی نہیں بلکہ اس کی فوٹو کاپی ہے۔ جج نے استغاثہ سے سوال کیا کہ اگروہ پانچ سو روپیے کے نوٹ کی فوٹو کاپی کرواکر دیں تو کیا بازار میں انہیں کوئی سامان ملے گا؟ جج کے سخت رخ سے لاجواب ہوکر استغاثہ نے بدھ تک کا وقت مانگا ہے۔ جج نے کاروائی کے دوران یہ بھی کہا کہ اگر اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل ہوجائے تو پولیس کو بھاری جرمانہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گجرات کے کچھ ضلع کی پولیس نے جمعرات کی شام اعظم گڑھ کے پاس واقع منچوبھا نامی گاؤں سے سیمی کے سابق صدر ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کو گرفتار کر لیا تھا۔ گجرات پولیس ان کو فورا اپنے ساتھ لے جانے پر بضد تھی لیکن دفاعی وکیل ملزم کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے اور ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جمعہ کو دونوں فریقوں کی جرح سننے کے بعد چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ الوک کمار نے شاہد بدر کو مچلکہ بھر کر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ 13ستمبر تک مذکورہ مقدمہ میں گجرات کی عدالت میں حاضر ہوجائیں۔
رپورٹ کے مطابہ گجرات کے کچھ ضلع کے بھج نامی مقام پر تعزیرات ہند کی دفعہ 353 اور 143 کے تحت یہ مقدمہ سال 2001 میں درج کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر شاہد بدر اس وقت اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے کل ہند صدر تھے اور انہوں نے بھج میں سال 2001 میں ایک تقریر کی تھی جس کے بعد یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ستمبر 2001 میں مرکزی حکومت نے سیمی پر پابندی عائد کردی تھی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot