Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, September 30, 2019

زندگی کی شام ہو گئی۔!!!!

از/عمران احمد خان قاسمی/صدائے وقت/عاصم طاہر اعظمی۔
==============
مورخہ 26ستمبر 2019 بوقت صبح سات بجکر بیس منٹ پر  موضع پارہ کمال کے آسمان پر
چمکنے والا چاند ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔ لیکن ظفر شیرازی موضع پارہ کمال ضلع جون پور یوپی کا ایک بڑا نام چھوڑ گیا چونکہ وہ کئی طرح کی صفات کے مالک تھے اپنی بات رکھنے میں سخت مزاج نظر آتے مگر دوران گفتگو نرم دلی کا وہ حال تھا کہ آنکھیں آبدیدہ ہوجایا کرتی تھیں۔یہی خوبیوں کی وجہ سے ،
عمران خان قاسمی


گزر تو جائیگی تیرے بغیر بھی لیکن ۔
بہت اداس بہت ہے قرار گزرےگی۔
ظفر شیرازی کئی عملیات کی آماجگاہ تھے۔اپنی زندگی کا آغاز سرکاری ملازمت سے کیا ملازمت کے سفینہ پر ہی رہ کر سیاست کی دنیا پر بھی عمیق نظر رکھتے تھے،سماجی میدان میں بھی بےلوث فکر انسانیت کی چادر اوڑھے ہر نکڑ پر کھڑے ملتے ،مسیحائی شفا خانوں کے بہترین رضاکار تھے جونپور سے لیکر بنارس و لکھنؤ وغیرہ تک جہاں بھی کسی مریض کو انکی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر مریض کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہرطرح سے ڈاکٹری امداد کو مہیا کراتے ناممکن کو بھی ممکن بنانے کی کوشش کرتے کبھی ایسا ہوتا کہ تیماردار ڈاکٹری خدمات سے ایسا سیراب ہوتا کہ مزید خدمت لینے کے لئے پیچھے بھاگنے لگتا مگر بھاگنے نہ دیتے جب تک کی شفایاب نہ ہوجائے ،

وفا کادرس دیتے ہو ہمیں
وفاکا باب ہم نے ہی لکھا ہے
(ظفر شیرازی)

جو پارہ کمال کے نام میں صفات وخوبیاں مضمرہیں وہ ظفر شیرازی کے دل ودماغ کی زمین پر پھولوں کے گل دستہ کی طرح سجی سجائی تھیں  سرزمین پارہ کمال کی مٹی کا یہ کمال تھا کہ دور حاضر کے ایک بڑے اور بہترین استاد شاعر بھی تھے انکی شاعری بڑی بڑی شعری محفلوں کی زینت ہوا کرتی تھیں شعرائے کرام میں انکا بھی اپنا ایک منفرد مقام تھا چونکہ انکے اشعار پاکدامنی وپاکیزگی وشفافیت کا پیکر ہوا کرتے حمد ونعت کا مقام کیا کہنا وہ تو ثریا سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ سے اوپر ہوا کرتا تھا۔لطف کی بات یہ ہے کی غزل جیسی شاعری بھی دور حاضر کی آلائشوں سے پاک صاف ہوا کرتی تھی میری اپنی معلومات کے مطابق  انہوں نے اپنی غزل میں کبھی حرام و ناجائز اشیاء کو تمثیلا بھی ذکر نہیں لائے ۔واہ رے مومن صفت ظفر شیرازی ،تیری خوبیوں پر معاشرہ کی درودیوار نوحہ کناں ہیں۔
معاشرے میں مساوات یوں بھی آئے گی
زبر کو زیر نہ کر زیر کو زبر کردے( ظفر شیرازی)

دوستو! ازل سے ابدتک کا خدا نے ایک دستور بنادیا ۔کہ ایک ایمان والے کی موت ہوتے ہی اسکی ساری برائیاں دفن ہوجاتی ہیں  اور عوام الناس کی زبان پر اسکی نیکیاں اور خوبیوں کا ذکر شروع ہوجاتا ہے  یہ بھی میرے اللہ کا بڑا فضل وکرم واحسان ہے ۔اللہ تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین !

وہ عروج کیسا عروج تھا
یہ زوال کیسا زوال ہے
نا اُسی کی کوئی مثال تھی
نا اسی کی کوئی مثال ہے
(ظفر شیرازی)
مرحوم نے حالات حاضرہ پر نگاہ رکھتے ہوئے ان لوگوں کو شرک کرنے سے منع کیا اپنے اس شعر کے ذریعہ ،

عزیز ارض وطن مادروطن ہے مگر
خدرا جوش میں پروردگار مت کہنا
(ظفر شیرازی)

بہت پہلے ہی انھوں نے آج کے دن کےلئے یہ شعر جلی قلم سے رقم کر رکھا تھا،

یوں تو کئی مقامات سے ہوکر گزر گیا
یہ کون سی جگہ ہے جہاں دل ٹہر گیا
(ظفر شیرازی)
 بہر کیف اشرف المخلوقات کی خوبیاں لکھی جائیں تو قلم کی سیاہی ختم ہوجائیں گی مگر اسکی لازوال خوبیاں ختم نہیں ہونگی ۔اور قلم کی روانی بند نہیں ہونگی !

ایسا بھلا جہاں میں زر دار کون ہے
فنکار کے قلم کا خریدار کون ہے
(ظفر شیرازی)

مرحوم کے بڑے بھائی آفتاب عالم خان الحمداللہ باحیات ہیں جو اسوقت یتیم بچوں پر شفقت کا ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اللہ تعالی تمام لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین

عالم اسباب سے حاصل ہوا آخر کفن
چلتے چلتے آسماں سے  ہم بھی خلعت لے گئے
تیرہ بختی کے اثرنے شام سے گل کردیا
صبح کو کوئے اٹھا کر شمع تربت لے گئے
عمران احمد خان قاسمی
 جونپوری 29ستمبر 2019

Post Top Ad

Your Ad Spot