Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, October 20, 2019

ڈینگو ۔۔ایک مہلک بیماری۔۔۔حفظ ماُتقدم/احتیاتی تدابیر۔

بارش کا موسم ختم ہو چکا ہے سورج کی روشنی میں تپش اور رات کا موسم یبوست سے پر ہے ایسے موسم میں ڈینگو کی بیماری ایک متعدی مرض کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے ۔پیش ہے اس بیماری کے تعلق سے ایک فائدہ مند تحریر
۔صدائے وقت۔
۔.......................۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . ڈینگو ، ایک مہلک بیماری
. . . . . . . . . . . . . . . .
۔۔تحریر /ڈاکٹر راشد اشرف (ایم بی بی ایس) ۔میڈیکل آفیسر۔
ڈاکٹر راشد اشرف

. . . . . . . . . . . . . . . .
اس وقت ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہے۔یہ ایک بہت ہی عام بیماری ہے جو ایک وائرس کے ذریعہ ہوتی ہے ۔یہ وائرس ایک قسم کے مادہ مچھر کے کاٹنے کیوجہ سے انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ یہ مچھر دن کے وقت ہی کاٹتے ہیں۔یہ بیماری گرم و یابس علاقے جیس انڈیا۔و مشرقی جنوبی ایشیا میں بہت عام ہے۔اس طرح کے مچھر زیادہ تر بارش کے موسم میں یا بارش کے بعد کے موسم(موجودہ موسم)۔میں خوب پھیلتی ہےجیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔
یہ ایک سیلف لمٹنگ (خود محدود)۔بیماری ہے جس کا انکیوبیشن پیریڈ 4 تا 5 دن ہوتا ہے۔ملیریا کے بعد آج کل ڈینگو سب سے کامن بیماری ہے جو مچھروں کیوجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اس باری کے اضافہ میں خاص وجوہات۔انڈسٹریز میں بے تحاشہ اضافہ۔گندی بستیوں میں اضافہ۔ان جگہوں پر گندے پانی کا ٹھراو،کے علاوہ گھروں میں گندے پانی کا جماوٰ
پودھوں کے گملوں،کولر میں موجود کئی کئی روز پرانا پانی۔وغیرہ ہیں جن کیوجہ سے ان مچھروں کی افزائش ہوتی ہے۔
ڈینگو کی علامات۔!!!!۔۔۔اس بیمار کی شروعات تیز بخار، سر درد،جوڑوں اور عضلات میں شدید درد۔کبھی کبھی مسوڑھوں اور ناک سے خون کا بہنا،آنکھوں کی حرکت سے بھی درد کا احساس۔یہ مرض جب شدت اختیار کرتا ہے تو خون کے اندر پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہو جاتی ہے ۔تحت الجلد خون کے دھبے نظر آنے لگتے ہیں اگر بیماری کو کنٹرول نہ کیا گیا تو مریض شاک میں چلا جاتا ہے اور بالاٰخر موت واقع ہو جاتی ہے۔
 تشخیص۔۔۔علامات کے علاوہ پیتھا لوجیکل جانچ میں شروعاتی دور میں پلیٹلیٹس کی تعداد،این ایس آیئ اینٹیجن ٹسٹ, کے علاوہ  IgG اور IgM ٹیست تشخیص میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ ایک اور ٹیسٹ ، پازیٹیو ٹرنیقیویٹ ٹسٹ کارگر ہے جسکو ڈاکٹر خود اپنی او پی ڈی میں کر سکتا ہے۔
 علاج۔۔۔۔! ڈینگو کا کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ چونکہ یہ ای وائرل بیماری ہے اور سیلف لیمیٹنگ ہوتی ہے لہذا اس کا جو بھی علاج کیا جاتا ہے وہ علامات کے مطابق ہوتا ہے۔ایسے مریض کو بخار اور درد کی دواوں کے علاوہ جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دینی چاہئیے۔او آر ایس کا محلول پلاتے رہیں۔ضرورت پڑنے پر آر ایل کی وریدی طور پر چڑھایا جاتا ہے۔پلیٹلیٹس ہونے پر اس کا بھی ٹرانسفیوزن کیا جاتا ہے۔طبعی غذا اور پانی کی ضرورت کو کم نہ ہونے دینا چاہیئے۔
حفظ ما تقدم۔۔(بچنے کا طریقہ)۔۔در اصل اس بیماری سے بچنے کے طریقے کو ہی اپنانا عقلمندی ہے۔اس کے لئیے ذاتی طور پر صاف صفائی پر دھیان دیا جانا چاہیئے۔گھروں کے پاس پانی کو نہ ٹھرنے دیں۔مچھر دانی کا استعمال کریں۔پورے جسم کا کپڑا پہنیں۔مچھروں سے بچنے کا طریقہ اختیار کریں ۔اس کے علاوہ مچھروں کی افزائش نسل کو روکنے کے طریقے استعمال کیئیے جائیں۔ہفتہ میں کم ازکم ایک بار کیروسین تیل کا اسپرے گھروں کے آس پاس نالیوں میں کریں۔اس سے مچھر کے لاروا و انڈے بچے مر جاتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سارے کیمیکل کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔جہاں پر کنواں ہوتا ہے اس میں بھی اس طرح کے مچھر پیدا ہوتے ہیں  کچھ اس طرح کی مچھلیاں کنووں میں ڈالی جاتی ہیں جو مچھر کے لاروا کو کھا جاتے ہیں۔
مچھروں کو تباہ کرنے کے لئیے بہت سارے کیمیکل بھی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ترقی یافتہ ملکوں میں نر مچھروں کو ریڈی ایشن کے ذریعہ ان کی تولیدی خصوصیات کو ختم کر دیا جاتاہے جس  سے افزائش نسل نہیں ہو پاتی اسے اسٹیرائل میل ٹیکنک sterile male technique کہا جاتا ہے۔
Dr.Rashid Ashraf
MMBS.Medical Officer.

Post Top Ad

Your Ad Spot