Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, April 26, 2021

*مدارسِ اسلامیہ کا تعاون وقت کی اہم ضرورت*



از قلم✍️ /محمد امین الرشید سیتامڑھی /صدائے وقت 
+++++++++++++++++++++++++++++
آج کے اس پرفتن دور میں مدارسِ اسلامیہ کی اہمیت و ضرورت اس لیے اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ آج پوری دنیا اور خاص طور پرعالَمِ اسلام پر ذہنی و ایمانی ارتداد کی یلغار چاروں طرف سے ہورہی ہے اور فتنہ انگیز آندھیوں کی طرح قوم و ملت کے ہر فرد کو اپنی رنگینیوں اور چکا چوند کردینے والی فریب کاریوں سے دلوں کو غیر محسوس طریقہ پر اعتقادات وعبادات، اخلاقیات و معاملات ،معاشرت  اور شعائرِ اسلام کے اصول و ضوابط کو ذہنوں سے مٹا کر اپنی گندی چھاپ کو بٹھا رہی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو شک کے دائرے میں رکھ کر انہیں آسانی سے مرتد بنا سکے ۔

مدارس اسلامیہ کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی ذہنی تشکیل کی جائے اور ان کے اسلام کا نشو ونما کیا جائے !۔
 مدارس اسلامیہ برصغیر میں ملت اسلامیہ کے لیے ایک نعمت عظمیٰ اور اسلامی تشخص کی بقا کی ضمانت ہیں ، اس لیے مدارس اسلامیہ کی بقا وتحفّظ کے لئےتمام برادران اسلام کا فرض ہے کہ ان کی ہر ممکن مدد و تعاون کریں، کیونکہ یقیناً مدارس کی ترقی ہمارے مستقبل کو ان شاء اللہ روشن و تابناک کرے گی
اسی وجہ سے علامہ اقبالؒ نے مدارس کی انقلاب آفریں خدمات کو دیکھ کر پوری دردمندی سے کہا تھاکہ:’’ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو،اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا ؟ جوکچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح” اندلس” میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود ہوا آج "غرناطہ” اور "قرطبہ”کے کھنڈرات اور” الحمرا ء” کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے "تاج” اور دلی کے "لال قلعے” کے سوا مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ حکومت اوران کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا‘‘۔( دینی مدارس :ماضی، حال، مستقبل:69)
لیکن خاص طور پر مدارس اسلامیہ کا تعاون رمضان المبارک میں ہوتا ہے جس میں ہر شخص بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے، مگر افسوس کہ اس بار رمضان کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہےکہ بیش تر ممالک لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں، کاروبار بند، غریب ایک ایک لقمہ کےلئے ترس رہاہے، متوسط طبقہ بھی اِس بحران میں معاشی پریشانی سے گزر رہا ہے ۔یہ ساری چیزیں ہمارے سامنے ہیں لیکن ایک منٹ کو ہم سوچیں کہ اگر ان مدارس کا ایسے وقت میں تعاون نہیں کیا جائے گا تو یہ بند ہو جائیں گے، ہمارے بچے پڑھنے سے محروم ہو جائیں گے، اربابِ مدارس کہاں سے اتنا فنڈ جمع کریں گے کہ پورے سال کا خرچہ کر سکیں، دین متین کی خدمات کی راہوں کا سد باب ہو جائے گا، اساتذہ، ائمہ، حفاظ، قراء، محدثین، مفسرین سب نایاب ہو جائیں گے، کون ہماری رہنمائی کرے گا ؟ کون رہبری کرے گا ؟

اس لئے امتِ مسلمہ کو چاہئے کہ وہ ان مدارس کی خونِ جگر سے آب یاری کرے ، اپنی جان ومال سے ہر ممکنہ تعاون کرے، ان مدارس پر آئی ہر مصیبت کے لئے سینہ سپر رہے، قریب و بعید سب میں حصہ لے، اتنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی جانب ترغیب دلائے، دوسروں سے بھی تعاون کرائے اور اللہ کے فرمان”تعاونوا علی البر والتقوی کا مصداق بنے۔
اہم مسئلہ یہ ہے کہ دینی اور دنیوی تعلیم کا رجحان ملت اسلامیہ کے بچوں ،نوجوانوں میں کس طرح قائم کیا جائے اور برقرار رکھا جائے۔ یہ تمام اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔ مدارس اسلامیہ احیائے علوم الدین کے مراکز ہیں ،مدارسِ اسلامیہ کی بقا میں دین اسلام کی بقا ہے۔ اگر مدارسِ اسلامیہ ختم ہوجائیں گے تو دین بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ تعلیم کا موضوع (Topic) اسلام میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ کہا گیا ہے: پگھلنا علم کی خاطر مثالِ شمعِ زیبا ہے بغیر اس کے نہیں پہچان سکتے کہ خداکیا ہے
مدارس دینیہ سے نہ صرف دین وملت کی خدمت ہورہی ہے؛ بلکہ ملک کی تعمیر وغربت کے خاتمہ میں مدارس کا اہم کردار ہے۔
اس وقت تقریبا ڈیڑھ سال سے کرونا وائرس کی وباء سے عام مسلمان پریشان ہیں؛ (الله اپنے فضل و کرم سے جلد از جلد اس وبا ءکا خاتم فرما کر انسانیت پر رحم فرمائے)؛ جہاں ملک کی معیشت تباہ و برباد ہوچکی ہے وہیں چھوٹے بیع پاری و تاجر بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں، مدارس دینیہ کے لئے مساجد میں اعلانات کے ذریعہ رمضان المبارک میں چھوٹے چھوٹے تاجر دل کھول کر تعاون کیا کرتے تھے؛ لیکن اس سال رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سفراءِ مدارس، و ذمہ دار مدارس مخیر احباب تک نہیں پہنچ سکے، ان حالات میں بھی بہت سارے احباب نے مدارس کا دل کھول کر تعاون کیا؛ الله سب کے تعاون کو بے انتہا قبول فرمائے
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دینی مدارس کا قیام جہاں بھی ہوا وہاں حق کی شمع جلنے لگی ،اسلامی روایات صاف نظر آنے لگے، اوراگر یہ کہا جائے کہ مدارسِ اسلامیہ نے ہندوستان میں مسلمانوں کو دین اسلام پر قائم رکھنے میں اہم رول ادا کیا تو قطعاً بے جا نہ ہوگا اللہ  وحدہ لاشریک ہم سبھی مسلمانوں کو مدارس دینیہ کی اہمیت سمجھنے اور ان کے تعاون کی توفیق مرحمت فرمائے !۔  آمین!۔

محمد امین الرشید سیتامڑھی ابن حضرت مولانا حافظ محمد ہارون رشید صاحب مظاہری علیہ الرحمہ سابق استاد مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائےمیر اعظم گڑھ یوپی

Post Top Ad

Your Ad Spot