Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, January 20, 2019

ہاں ! میں ربف القنون ہوں۔


تحری /؛نازش ہما قاسمی / صدائے وقت/ عاصم طاہر اعظمی۔
. . . . . . . . . .  بشکریہ. . . . . . . . . . 
(ممبئی اردو نیوز/بصیرت آن لائن)۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ہاں ۱۸؍ سال کی رہف القنون، مسلم خاندان میں پلی بڑھی، پروان چڑھی، باغی، مرتدہ،  اسلام سے منحرف، غیروں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے والی، اسلام کا پوری دنیا میں مذاق اڑانے والی، سور کا گوشت کھانے والی رہف القنون ہوں۔ میرے باغی ہونے اور اسلام سے منحرف ہونے میں میرے اہلِ خاندان کا بڑا ہاتھ ہے میری تربیت فاطمہ زہرا اور رابعہ بصریہ جیسی نہیں کی گئی میں یقینا ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئی؛ لیکن اسلام میرے خاندان میں صرف نام کا ہے، اس لیے میرے اندر بھی اسلام داخل نہ ہوسکا اور میں خاندانی اسلام سے بغاوت کربیٹھی اور ٹوئٹر پر اپنی روداد عربی میں لکھی جسے مصر کی ایک صحافی خاتون نے انگلش کرکے اسے وائرل کیا اور میں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ دجالی قوتیں مجھے سعودی سے بچانے کیلیے کود پڑیں اور کناڈا نے مجھے رفیوجی تسلیم کرتے ہوئے آنا فانا میری رہائش کا انتظام کردیا اور مجھے کینیڈین شہریت مل گئی ، میں کوئی حسینہ نہیں جس کے حسن پر لٹو ہوا جائے ، جس کیلیے اتنی تگ ودو کی جائے؛ لیکن میرے نام سے اسلام کی جھلک تھی، اس لیے باطل طاقتوں اور ابلیس کی انجمنوں نے مجھ پر جھوٹا رحم کھایا اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے مجھ باغی کو اس کی بغاوت پر ہمت دی اور ایک بہادر نئی کینیڈین لڑکی سے تعبیر کیا۔حالانکہ اگر میں مرتد نہیں ہوتی تو دیگر مسلمان پناہ گزیں کی طرح میرا بھی ناطقہ بند ہوتا، مجھے بھی  زنداں میں ڈال دیاجاتا؛ لیکن میں باغی تھی، سرکش تھی اس لیے میں ان کے مطلب کی تھی، اس لیے میری آؤ بھگت کی گئی اور بڑے پیمانے پر ڈھنڈورہ پیٹ کر اسلام و مسلمان کا چہرہ مسخ کیاگیا۔ میری پیدائش ۱۱؍مارچ ۲۰۰۰کو سعودی عرب کے اعلیٰ گھرانے میں ہوئی، میرے والد سعودی حکومت میں بڑے عہدے پر براجمان ہیں۔ میرے نو بھائی بہنیں ہیں۔ اعلیٰ گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے میری تربیت شاہانہ ہوئی، خادمائیاں ہماری خدمت پر مامور رہا کرتی تھیں، شاہ محمد بن سلمان کے جدید اسلام کے نعرے سے میں متاثر ہوئی اور خاتون کی آزادی، اس کے مساوات کے مغربی کھوکھلے نعروں کو اپنا کر اپنے گھر سے بغاوت کر بیٹھی، اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھی اور آج کفار کی گود میں جاکر اسلام و مسلمانوں کو رسوا کرنے کا سبب بن چکی ہوں۔ مجھے اپنے مرتد ہونے پر کوئی افسوس نہیں، میں آزادی چاہتی تھی ایسی آزادی جہاں لڑکیوں کو بلا روک ٹوک باہر گھومنے کی، محبت کی شادی کرنے کی، آزادی چاہیے تھی اور مجھے یہ آزادی اسلام میں اور سعودی عرب میں رہ کر ممکن نہیں تھی؛ اس لیے میں آلۂ کار کے طو رپر استعمال ہوئی  اور ڈرامائی طور پر پوری دنیا کی توجہ حاصل کی اور ’سیو رہف ‘کی تحریک چلائی گئی اور میں کناڈا کی بہادر لڑکی قرار پائی۔
ہاں ! میں وہی رہف القنون ہوں جس نے کناڈا کی شہریت ملنے اور وہاں کے وزیرِ خارجہ کرسٹیہ فری لینڈ سے ملاقات پر بے انتہا خوشی کا اظہار کیا اور اپنے آپ کو دوبارہ پیدا ہونا قرار دیا۔ میرے منہ سے خوشی سے یہ جملے نکلے ’مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میں دوبارہ پیدا ہوگئی ہوں‘ یہ بہت اچھا ملک ہے، یہاں پر بہت پیار اور عزت ہے، یہاں ایک وزیر نے میرا استقبال کیا اور یقین دلایا کہ میں یہاں بالکل محفوظ ہوں اور یہاں مجھے تمام حقوق حاصل ہیں‘ جو سعودی عرب اور اسلام میں نہیں‘۔ ہاں میں وہی رہف القنون ہوں جس نے سور کا گوشت انتہائی مزے سے کھا کر اپنے سور ہونے کا اقرار کیا۔ ہاں میں شراب بھی پینے لگی ہوں، اسلام کا مذاق اڑانے کےلیے؛ کیوں کہ اسلام میں شراب حرام ہے، لیکن میں مرتد ہوچکی ہوں اس لیے اسلامی قانون میں کیوں مانوں؟
آج میں سعودی عرب سے فرار ہوئی ہوں دنیا دیکھے گی ارتداد کی لہر عنقریب ہی سعودی میں سرایت کرے گی اور بڑی تعداد میں مجھ جیسی لڑکیاں اپنے خاندان سے اپنے دین سے بغاوت کریں گی؛ کیوں کہ ہمیں نہ اسلامی تعلیم صحیح سے دی گئی اور نہ ہی اس کے بنیادی حقوق بتائے گئے، سعودی عرب ایک بہترین ملک تھا جہاں مکمل اسلامی شعائر نافذ تھا، لیکن وہاں نائٹ کلب کھلنے لگے، عورتوں کو ڈرائیونگ اور کھلے عام گھومنے کی اجازت دی جانے لگی، جب مغربی کلچر عالم اسلام کے مقتدا ملک میں اپنایاجائے گا تو پھر وہاں مغربیت ہی پھیلے گی مجھ جیسی لڑکیاں ہی پروان چڑھیں گے۔ بار میں ڈانس کرنے والوں کی بیٹیاں رابعہ بصریہ نہیں، بلکہ مجھ جیسی مرتد ہ ہوں گی۔ اسلام کیا ہے مجھے نہیں پتا، حالانکہ میں خاندانی مسلمان تھی، بس صرف مسلمان نام کی۔  اسلام میں کیا حقوق مردوں کو دیے گئے ہیں اس کا علم نہیں تھا، میں طالبہ تھی، انگریزی کی طالبہ، میری پڑھائی بھی اسلامی طور طریقے پر نہیں ہوئی، میری رہن سہن بھی کوئی اسلامی نہیں تھی، میں نے مغرب کی آزادی کو ہی آزادی خیال کیا۔ میں ٹی وی وغیرہ میں مردوں کے شانہ بشانہ کھلے عام کام کرتے ہوئے خاتونِ مغرب کو دیکھا تو سمجھا کہ اسلام میں عورتوں پر ظلم کیا گیا ہے، اسے چہار دیواری کے اندر قید رکھا گیا ہے، لیکن میں اس ظلم کے پیچھے چھپے راز آزادی سے واقف نہ تھی ، میں آج کناڈا میں آگئی ہوں جہاں مرد و زن کا اختلاط عام ہے، جہاں ہم اپنی مرضی سے کچھ بھی کرسکتے ہیں نہ مذہب آڑے آئے گا اور نہ ہی والدین؛ اس لیے میں بھی اب اس دلدل میں دھنس چکی ہوں اور ان لوگوں کے لیے جو اس دلدل میں آناچاہتی ہیں پیش رو ہوں؛ لیکن اس سے قبل کہ وہ اس دلدل میں آئیں، اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کرلیں اس کے بعد اس دلدل میں کودیں تو بہتر ہوگا۔ مجھے آج افسوس نہیں ہورہا ہے؛ لیکن مجھے پتہ ہے جب جوانی ڈھل جائے گی، جب عقل و شعور پختگی کی حد کو پہنچے گی جب میں اسلام کا موازنہ دیگر باطل مذاہب سےکروں گی تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی اور میرے پاس کفِ افسوس ملنے کے کچھ نہیں بچے گا۔ دعا کریں خدا مجھے عقل سلیم عطا کرے اور دین فطرت پر دوبارہ لوٹادے تاکہ میں اپنی عاقبت سنوار سکوں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot