Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, June 2, 2019

ممتاز عالم دین مولانا افتخار الحسن کاندھلوی کا ١٠٠ برس کی عمر میں انتقال۔


تدفین آج، علمی حلقوں میں غم کی لہر، تعزیتوں کا سلسلہ جاری .
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .  
کاندھلہ۔۲؍جون: (صداۓوقت).
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
مغربی یوپی کے مردم خیز علاقہ قصبہ کاندھلہ کے ممتازعالم دین، صاحب نسبت بزرگ مولانا افتخار الحسن کاندھلویؒ کی روح نے آج ۲؍جون شام ۶؍ بجے تقریباً ۱۰۰ برس کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون!تدفین کل(آج) صبح ۸ بجے عید گاہ کاندھلہ میں ہو گی۔مرحوم مفتی الٰہی بخش  کاندھلوی کے خاندان سے تھے اور تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس صاحب علیہ الرحمہ کے عزیز تھے۔ مولانا نے مظاہر علوم سے عا لمیت کا نصاب مکمل کیا اور روحانی طور پر حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری علیہ الرحمہ سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔وہ مظاہر علوم کی شوریٰ کے رکن بھی منتخب ہوئے۔عمرعزیز کے بیشتر حصہ میں مولانا محترم نے محلہ کی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر کی ۔تفسیرپہلا دور تقریباً 

تین دہائی میں پورا ہوا۔مولانا کاندھلوی ؒعلم وروحانیت کا حسین سنگم تھے، ساری زندگی ملت کی دینی ، علمی، اور اصلاحی خدمات کےلیے وقف رہی، آپ کے پسماندگان میں معروف محقق مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی سمیت اولاد اوخفاد کا ایک زریں سلسلہ قائم ہے۔ صوبہ ہریانہ وپنجاب میں بھی مولانا مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں کہ جب لوگ وہاں جاتے ہوئے ڈرتے تھے ،اُس وقت بھی انھوں نے جاکر نہ صرف یہ کہ مقبوضہ مساجد کو واگزار کرایا بلکہ پانی پت سمیت کئی شہروں میں مدارس قائم کیے۔ان کے انتقال سے پورے ملک میں رنج کا ماحول ہے اور جگہ جگہ قرآن خوانی کرکے ایصال ثواب کیا جارہا ہے۔۔

Post Top Ad

Your Ad Spot