Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, February 21, 2020

اویسی کے منچ سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والی لڑکی کو 14 دن کی جیل۔ والد بولے یہ حرکت برداشت نہیں

اس پورے معاملے میں امولیا لیونا کے والد نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیٹی نے اینٹی  سی اے اے ریلی میں جو کچھ بھی کیا وہ بالکل غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی کی یہ حرکت برداشت کرنے کے لائق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کئی مرتبہ بیٹی کو اس تحریک سے دور رہنے کی صلاح دی تھی لیکن اس نے ان کی بات نہیں مانی۔

بنگلورو:صداٸے وقت /ذراٸع /٢١ فروری ٢٠٢٠۔
==============================
 آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین چیف اسدالدین اویسی کے منچ سے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے والی لڑکی کو 14 دن عدالتی حراست میں بھیج دیا گیاہے۔ امولیا لیونا نام کی لڑکی نے جمعرات کو بنگلورو میں منعقد  کی ایک ریلی میں اویسی کی موجودگی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ لڑکی نے اس دوران شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی  اور این پی آرکے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ پولیس نے اس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124 کے تحت ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ امولیا کو پرپپانا کی سینٹرل جیل میں رکھا گیا ہے۔
بتادیں کہ جب لڑکی نے اسٹیج سے پاکستان زندہ باد جیسے نعرے لگائے تھے اس وقت اسد الدین اویسی نے بھی انہیں روکنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
اس پورے معاملے میں امولیا لیونا کے والد نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیٹی نے اینٹی CAA  ریلی میں جو کچھ بھی کیا وہ بالکل غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی کی یہ حرکت برداشت کرنے کے لائق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کئی مرتبہ بیٹی کو اس تحریک سے دور رہنے کی صلاح دی تھی لیکن اس نے ان کی بات نہیں مانی۔
امولیا لیونا کے والد نے کہاکہ میں دل کا مریض ہوں۔ اس نے مجھ سے کل بات کی تھی اور میری طبیعت کے بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے بعد سے میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
وہیں اویسی نے کہا ، 'میں نماز پڑھنے کے لئے پیچھے جارہا تھا تبھی میں نے اس طرح کے نعرے سنے۔ میں خود آیا اور اس کو روکنے کی کوشش کی اور اس کے بعد لڑکی کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ اویسی نے کہا ، 'یہ لوگ پاگل ہیں اور ان لوگوں کو ملک سے کوئی محبت نہیں ہے۔ اس طرح کی حرکت کو کبھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot