Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, March 26, 2020

کرونا وائرس جنوب ایشیائی ممالک کے لیے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔۔ایک تجزیاتی رپورٹ'!!!

کرونا وائرس کی عالمی وبا دنیا کے تمام ممالک اور خطّوں کے لیے صحتِ عامہ کا ایک غیر معمولی چیلنج بن کر ابھری ہے۔ اگرچہ جنوبی ایشیا میں اس کا پھیلاؤ دیگر خطوں کے مقابلے میں فی الحال کم ہے لیکن ماہرین صحت اور تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ اس خطے میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

صداٸے وقت /ذراٸع / 26 مارچ 2020.
==============================
ماہرین صحت تنبیہ کر چکے ہیں کہ اگر جنوبی ایشیا میں یہ وبا تیزی سے پھیلی تو اس سے نمٹنا کسی ایک ملک کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔اگرچہ جنوبی ایشیا کے ممالک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے انفرادی طور پر اقدامات کر رہے ہیں۔ لیکن ماہرین صحت اور بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس عالمگیر وبا سے نمٹنے لیے جنوبی ایشیا کے ممالک کو باہمی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کی مدد اور باہمی اقدامات کرنا ہوں گے۔خیال رہے کہ کرونا وائرس سے جنوبی ایشیائی ممالک بشمول پاکستان اور بھارت میں اب تک 1900 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جب کہ کم از کم 25 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں
حالیہ صورتِ حال پر لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرام کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر کرونا وائرس کا پھیلاؤ تشویش ناک ہے، جس کے جنوبی ایشیا میں بھی سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگرچہ اب تک جنوبی ایشیائی ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد متعدد ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں اسکریننگ کم ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر جاوید اکرام کے بقول یہاں صرف ان افراد کی ہی اسکریننگ ہو رہی ہے جن میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں۔ اگر مشتبہ افراد کی بڑے پیمانے پر اسکریننگ کی جائے تو کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ اس وقت جنوبی ایشیا کے تقریبا تمام ملکوں میں کرونا وائرس کی تشخص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر طبی سامان کی کمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان ممالک میں وینٹی لیڑز کی تعداد بھی کم ہے۔انہوں نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صرف 1800 کے قریب وینٹی لیٹرز ہیں جو 22 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ ڈاکٹر اکرام کے مطابق جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ایسی ہی صورتِ حال ہے۔
علاقائی ٹاسک فورس کی تشکیل وقت کی ضرورت
ڈاکٹر جاوید اکرام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے۔ اسے روکنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے۔ اس وبا سے نمٹنے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک کی تعاون تنظیم (سارک) میں شامل ممالک کو فوری طور پر ایک علاقائی ٹاسک فورس تشکیل دینی چاہیے۔
ڈاکٹر اکرام کے مطابق کرونا وائرس ایک ایسی وبا ہے جس سے کسی ملک کے لیے انفرادی طور پر نمٹنا ممکن نہیں۔ اس لیے سارک ممالک کی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول جنوبی ایشیا کے ممالک چین اور جنوبی کوریا کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ وہاں اب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کامیابی سے کنٹرول کر لیا گیا ہے۔
کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ممکن ہے؟
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 مارچ کو سارک ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے ایک کروڑ ڈالرز کا اعلان کیا تھا۔
اس فنڈ کے لیے اب تک سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، مالدیپ اور بھوٹان نے رقم مختص کر دی ہے اور یہ فنڈ ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد ہو گیا ہے۔ لیکن پاکستان نے اب تک اس فنڈ کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس فنڈ کو سارک کے تحت کیا جانا چاہیے۔
کرونا کا خوف، دنیا بھر کی شاہراہیں سنسان
اس معاملے پر تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا فنڈز کے قیام کا اعلان مثبت قدم ہے۔ لیکن کرونا وائرس کے باعث صحت عامہ کے مسائل اور سماجی و اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے سارک ممالک کے درمیان فوری تعاون کی ضرورت ہے۔ زاہد حسین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے اختلافات کی وجہ سے ان دو ملکوں کے درمیان سیاسی اور سفارتی فاصلے زیادہ ہیں جو علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان کے بقول خطے کے بڑے ممالک کے تنازعات کی وجہ سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات نا ہونے کے برابر ہیں۔

بھارتی فوج کے سابق میجر جنرل اور تجزیہ کار دپنکر بینرجی کا کہنا ہے کہ سارک ممالک میں کسی بھی ملک کے پاس مناسب اور ضروری سہولتیں نہیں ہیں۔ نا ہی ان کے پاس طبی ساز و سامان موجود ہے۔ ایسے حالات میں جہاں ایک مشترکہ فنڈ ضروری ہے وہیں ان ممالک کے صحت کے شعبوں میں تعاون کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کرنا بھی ضروری ہے۔
دپنکر بینرجی کے مطابق اس وقت سیاسی معاملات کو ایک طرف رکھ کر کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے تعاون پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔لیکن زاہد حسین کو فی الحال دونوں ملکوں میں تعاون کی کوئی راہ نہیں دکھ رہی۔ ان کے مطابق سارک کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں ہونا تھا جو بھارت کے انکار کی وجہ سے نہیں ہو سکا ہے۔ زاہد حسین کہتے ہیں کہ سارک ممالک کو اپنے سیاسی اختلافات الگ رکھ کر مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہو گا۔ لیکن اس کے لیے خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے بارے میں اپنے رویوں اور سوچ کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot