Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, July 17, 2020

دہلی فساد فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی جانچ رپورٹ میں بی جے پی لیڈروں کے نام.

دہلی پولیس کی تفتیش میں بھی فسادکو منصوبہ بند بتایا گیا ہے اور جانچ کمیٹی کی رپورٹ میں بھی فساد منظم اور منصوبہ بند ہے۔ دہلی پولیس کی جانچ میں فساد کی سازش جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباءاور پولیس تصادم سے شرو ع ہونےکا نظریہ موجود ہے تو فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ دہلی انتخابات کے دوران دی گئی اشتعال انگیز تقریروں سے فساد کی زمین تیار ہونےکی تھیوری اور نظریہ پر منحصر ہے۔

نٸی دہلی: /صداٸے وقت /ذراٸع /17جولاٸی 2020.
==============================
شمال مشرقی دہلی میں 23سے 27فروری کے درمیان ہوئے فساد کی جانچ ابھی چل رہی ہے اور دہلی پولیس سینکڑوں مقدموں کے تحت مسلسل کڑکڑ ڈوما کورٹ میں چارج شیٹ داخل کررہی ہے۔ تاہم دہلی فسادات پر نیا تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ ایک جانب دہلی پولیس نے حال ہی میں عدالت میں ایک بیان حلفی درج کرکے بی جے پی رہنماوں کو دہلی فسادات میں ملوث ہونے سے کلین چٹ دیتے ہوئےکہا کہ اشتعال انگیز بیان بازی کے معاملہ میں ان لوگوں کے خلاف کیس نہیں بنتا۔ دوسری جانب دہلی کے اقلیتی کمیشن کی شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کو لے کر جاری کی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں نہ صرف بی جے پی قائدین کے نام لئے گئے ہیں ، بلکہ ان پر کارروائی کرنے اور فساد میں ان کے کردار کی جانچ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
دہلی اقلیتی کمیشن نے آج اپنی کئی ساری رپورٹس جاری کیں، لیکن ساری نگاہیں دہلی فسادات کے بارے میں پیش کی جانے والی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر تھیں۔ کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں صاف طورپر دہلی کے فسادکو نہ صرف منظم بلکہ ایک طرفہ تک بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہاں تک کہا گیا کہ دہلی پولیس کا کردار فساد کے دوران ٹھیک نہیں رہا اور کئی وارداتوں میں خود پولیس کے افرادشامل تھے۔تاہم رپورٹ کا سب سے بڑا انکشاف یہ ہےکہ رپورٹ میں فساد ہونےکے لئےجو عوامل اور اشتعال انگیزی جیسے پہلوﺅں کی جانچ کرتے ہوئے ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے لے کر تیجسوی سوریہ سمیت بڑی تعداد میں بی جے پی قائدین کپل مشرا، پرویش ورما، ابھے ورما مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر، تیجندر سنگھ بگا کے نام لکھے گئے ہیں۔ خاص طور سے بی جے پی لیڈ ر کپل مشرا کی 23فروری کی تصویر رپورٹ میں شامل کی گئی ہے اور لکھا گیا ہے کہ کپل مشرا کی اشتعال انگیز تقریرکے بعد فساد شروع ہوگیا تھا۔
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل، وزیر اعلی اروند کیجریوال، اسپیکر رام نواس گویل اور دہلی حکومت کے وزراءکو پیش کی جاچکی اس تحقیقاتی رپورٹ میں دہلی پولیس کی تحقیقات پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے عدالتوں میں جو چارج شیٹ داخل کی ہیں ان پر دوبارہ غور کیا جائے اور ایک ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں 5 ممبروں پر مشتمل ایک آزاد اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جو فسادات سے متعلق تحقیقات کے ہر پہلو کا جائزہ لےگی اور ضمنی چارج شیٹ بھی پیش کرے گی۔ جانچ کمیٹی میں ہائی کورٹ جج کے علاوہ ریٹایئرڈ سیشن جج، سینئر وکلاءاور ریٹائرڈ پولیس آفیسر کو شامل کیا جائے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فسادات میں 11 مساجد، 5 مدارس، ایک درگاہ اور ایک قبرستان پر حملہ کیا گیا اور نقصان پہنچایا گیا، خاص طور پر ایک برادری کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور اس وجہ سے تمام معاملات میں جن میں ایف آئی آر نہیں ہوئی ہیں ان میں لازمی طور پرایف آئی آر درج کی جانی چاہئے۔ جانچ کمیٹی کے سربراہ ایم آر شمشاد نے کہا کہ کئی معاملوں میں شکایات کو دوسری ایف آئی آرکے تحت ذیل میں رکھ لیا گیا ہے، لیکن جس طرح کا معاملہ ہے اس میں الگ سے ایف آئی آر ہونی چاہئے۔
130صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ 9 افراد پر مشتمل انویسٹی گیشن ٹیم نے تیار کی ہے۔ حالانکہ 10 لوگوں کی جانچ ٹیم بنائی گئی تھی، لیکن ایک ممبر اس جانچ سے الگ ہوگئے تھے۔ 9 مارچ کو بنائی گئی ٹیم نے 27جون کو رپورٹ دی، لیکن رپورٹ میں جو فیکٹ یا فساد کے عوامل کی تھیوری ہے وہ دہلی پولیس کی تھیوری سے بالکل الگ ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دہلی پولیس کی تفتیش میں بھی فسادکو منصوبہ بند بتایا گیا ہے اور جانچ کمیٹی کی رپورٹ میں بھی فساد منظم اور منصوبہ بند ہے۔ دہلی پولیس کی جانچ میں فساد کی سازش جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباءاور پولیس تصادم سے شرو ع ہونےکا نظریہ موجود ہے تو فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ دہلی انتخابات کے دوران دی گئی اشتعال انگیز تقریروں سے فساد کی زمین تیار ہونےکی تھیوری اور نظریہ پر منحصر ہے۔
دہلی فساد کے دوران چار دنوں میں ہی 53 لوگوں کی موت ہوگئی تھی، جن میں پولیس والے بھی شامل ہیں۔ تاہم دہلی پولیس کی چارج شیٹ میں اشتعال انگیزی کرنے والے کسی بھی بی جے پی لیڈر کا نام نہ آنے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں پہنچی کئی عرضیوں پر 21جولائی کو سماعت ہونی ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا، پرویش ورما اور ابھے ورما پر کوئی معاملہ نہیں بنتا کیونکہ دہلی فساد کی جانچ کی گئی کوئی بھی ثبوت ایسا نہیں ملا، جس سے ان لوگوں پر کاروائی بنتی ہو۔ فی الحال اس معاملے میں مرکزی حکومت کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot