Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, August 30, 2020

ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہو سکتے، تین اسلامی ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار۔


یہ ممالک مراکش ، سوڈان اور بحرین  فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور عرب ممالک کی جانب سے تعلقات کی بحالی کی امریکی خواہش اور دباو کو مسترد کردیا ہے۔
صداٸے وقت /ذراٸع۔
==============================
دو اسلامی ممالک مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوق نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بدامنی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کے معاملے کو الگ الگ رکھیں۔ سوڈان میں عبوری حکومت ایک محدود ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں امن و استحکام کی بحالی، آزادانہ انتخابات اور دیگر ضروری اقدامات شامل ہیں۔
مراکش کے وزیراعظم سعد الدین العثمانی نے بھی کہا کہ مراکش،اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا سخت اور بھرپور مخالف ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی وجہ سے فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و ستم میں اضافہ ہوگا اور اسرائیل کو مزید عرب علاقوں پر قبضہ کرنے کا موقع ملے گا۔
دوسری طرف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو سے ہونے والی ملاقات منسوخ کردی، ملاقات کو خفیہ رکھے جانے کا منصوبہ تھا جوکہ صرف ہاتھ ملانے تک محدود تھی۔
سعودی ولی عہد نے امریکا میں موجودگی تک اس دورے کو خفیہ رکھنے کی شرط رکھی تھی جبکہ محمد بن سلمان کی امریکا سے وطن واپسی کے بعد ملاقات کی وڈیوجاری کیے جانے کا منصوبہ تھا لیکن یہ منصوبہ منظر عام پرآنے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ملاقات سے معذرت کرلی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت کے ولی عہد اور اسرائیل کے وزیر اعظم کے مابین کسی ملاقات کی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی۔
بحرین نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور عرب ممالک کی جانب سے تعلقات کی بحالی کی امریکی خواہش اور دبا کو مسترد کردیا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot