Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, August 24, 2020

الیکشن ‏کمیشن ‏آف ‏انڈیا ‏کی ‏سنگین ‏قانون ‏شکنی۔


دہلی فسادات کے بعد ووٹر آئی ڈی کارڈ کی معلومات پولیس کے حوالے :

از / سمیع اللہ خان /صداٸے وقت /24 اگست 2020.
==============================
 ایک چونکا دینے والی خبر موصول ہوٸی ہے جس کے مطابق، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے خود اپنا ضابطۂ اخلاق توڑتے ہوئے دہلی کے خونی فساد کے بعد نارتھ ایسٹ دہلی کے باشندوں کی معلومات دہلی پولیس کو فراہم کردی تھی، یہ معلومات فوٹو اور ایڈریس سمیت دے دی گئی تھی، اور یہ اقلیتی کمیونٹی کے نوجوانوں کو ٹارگٹ کرنے کا آسان ذریعہ ہے اس طرح یہ پتا لگایا جاسکتا ہے کہ کس سطح کے کتنے مسلم نوجوان کہاں رہتےہیں؟ اور دہلی فساد کے بعد نارتھ ایسٹ سے بےقصور مسلم نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار بھی کیا ہے۔
یہ خبر مشہور آر ٹی آئی ایکٹوسٹ ساکیت گوکھلے نے فراہم کی ہے اور ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی آفیشل کاپی بھی فراہم کی ہے… اس خبر کو اعلیٰ سطحی ویری فائیڈ اشخاص سنجیدگی سے بھی لے رہےہیں، ساکیت کی خبریں بعداز پختہ ثبوتوں کے ہی باہر آتی ہیں البتہ دہلی کے ڈی سی پی نے آفیشل ہینڈل سے اس خبر پر ساکیت سے یہ درخواست کی ہیکہ تفصیلات انہیں میسج میں بھیجیں، جس کے ذریعے یہ خبر مزید یقینی ہوجاتی ہے، ورنہ دہلی پولیس اتنی جلدی ہڑبڑاہٹ کا شکار نہ ہوتی, معتبر اور مشہور شخصیات نے اس خبر پر سختی سوال کرنا شروع کردیے ہیں _
دعویٰ یہ کیا جارہاہے کہ لوگوں کے ووٹر شناختی کارڈز کی یہ معلومات پہچان کروانے کے لیے دی گئی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ خود یہ کہتاہے کہ یہ معلومات تصویر کے ساتھ کسی کو فراہم نہیں کی جاسکتیں_
یہ بہت ہی حساس اور نازک معاملہ ہے، اگر ہماری تفصیلات جو ہم نے گورنمنٹ آئیڈنٹی کارڈ کے لیے دی تھیں ان معلومات کو الیکشن کمیشن جیسا ادارہ بھی دہلی کی سیاسی پولیس کے حوالے کررہاہے تو پھر اس ملک میں کونسا آئینی ادارہ شفاف بچا ہے؟ ووٹر آئی ڈی کی معلومات پولیس کو دی جاسکتی ہیں تو پھر آدھار کارڈ اور دیگر سرکاری شناخت ناموں کے دستاویزات مزید کن مقاصد کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں؟ جبکہ عوام کی یہ معلومات سرکاری اداروں میں امانت ہوتی ہے اور یہ سخت معاہدہ و قانون ہوتاہے کہ وہ اپنے شہریوں کی نجی معلومات کسی صورت کسی کو بھی فراہم نہیں کرےگی لیکن یہاں صرف نام اور علاقہ ہی نہیں بلکہ تفصیلی ایڈریس کے ساتھ فوٹوز بھی پولیس کو دے دیے، وہ بھی خود الیکشن کمیشن نے، اگر الیکشن کمیشن اپنے ووٹرز کی معلومات کی امانت داری میں شفافیت کے اصول پر کھرا نہیں اترتا ہے تو کیا اس کے ذریعے کرائے جارہے انتخابات پر سوال نہیں اٹھ سکتے؟ موجودہ دنیا میں جب سے یہ شناختی کارڈز اور سرکاری ڈاکیومینٹری کا سلسلہ شروع ہوا ہے عوام کی نجی، قیمتی، مالیاتی اور مشغولی اطلاعات سرکاروں کے پاس پہنچ چکی ہیں، کئی ممالک نے ایسی اطلاعات رکھنے کا سسٹم بند کردیا کیونکہ وہ عوام کے راز محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے، ہمارے ہندوستان میں ووٹر آئی ڈی کے بعد آدھار کارڈ کے ذریعے اور پھر کچھ نہ کچھ بہانوں کے ذریعے عوام کی معلومات جمع کی جاتی ہیں جوکہ واجبی ضرورت سے زیادہ جمع کرلی گئی ہیں، اگر سرکار ان کا غلط استعمال کرلے تو جہاں وہ آئین کی دھجیاں اڑائے گی وہیں عوام کے نجی حقوق/ Right to privacy کا استحصال بھی کرےگی، اسلیے اس قسم کی سنگین خیانت کو پہلے مرحلے میں ہی سنجیدگی اور سختی سے لیناچاہیے، نارتھ ایسٹ دہلی کے عوام کی تفصیلات پولیس کو کیوں دی گئیں؟ اس میں کون کون ملوث ہیں؟ پھر فساد کے بعد مسلم نوجوانوں کے خلاف پولیس نے جو ایکشن لیے کیا وہ اسی پلاننگ کا حصہ نہیں تھے؟ اگر راجدھانی دہلی میں الیکشن کمیشن کی منشاء کے ساتھ ایسی خیانت کی گئی ہے تو پھر ملک بھر میں این آر سی اور CAA کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مجمع کی معلومات محفوظ ہیں؟ یا پھر ان سب کی یونہی شناخت کی جارہی ہے؟ اس معاملے کو نظرانداز کرنا مستقبل میں بہت نقصان دہ ثابت ہوگا، ہماری نجی معلومات سرکاری اداروں میں کس قدر محفوظ ہیں یہ سوال بہت مضبوطی اور پختگی کے ساتھ خائن مودی سرکار سے ہوناچاہئے، کئی ممالک میں ایسی مثالیں سننے کو ملی ہیں کہ عوام کی نجی معلومات سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں وہاں کے حکمرانوں کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا، یہاں کے بھی باشعور اور عقلمند لوگ یہ ضرور سمجھتے ہوں گے  کہ اگر ان کی رہائشی و دیگر نجی معلومات ہندوستان جیسے پولیس محکمے اور یہاں کے سیاستدانوں کی دسترس میں آجائے تو پھر کیا نتائج ہونگے؟

✍ سمیع اللّٰہ خان ۔
24 اگست ۲۰۲۰ 
ksamikhann@gmail.com

Post Top Ad

Your Ad Spot