Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, June 25, 2021

موسمیاتی خدشات کی مار جھیل رہا ہے ایل این جی بازار ‏



رپورٹ ڈاکٹر سیما جاوید /صدائے وقت 
============================== 
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی رپورٹ کے مدنظر ایل این جی (لیکویفائڈ قدرتی گیس) کے لئے سرمایہ کاری کا ماحول تبدیل ہوچکا ہے، گلوبل اینرجی مانیٹر کی تازہ ترین سالانہ ایل این جی رپورٹ اسکی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق کورونا کی وباء سے ابھرنے کے باوجود دنیا کے کچھ حصوں میں کل منصوبہ بند ایل این جی سپلائی کی تقریباً 38 فیصد اہم سرمایہ کاری فیصلوں یا دیگر سنگین رکاوٹوں کا سامنا کررہی ہے 
صاف بات یہ ہے کہ سرمایہ کار ایل این جی کے منصوبوں سے منھ موڑ رہے ہیں کیونکہ ان کو اس میں بہتر مستقبل کی امیدیں کم نظر آرہی ہے 
ایل این جی سے جڑے میتھین ایمیشن اور موسمیات سے متعلق دیگر نقصانات کی وجہ سے اس سے سبز توانائی کا تمغہ تقریباً چھن ہی چکا ہے، آئی ای اے کی رپورٹ کے مطابق آئیندہ سالوں میں گیس کی ڈیمانڈ میں قابل ذکر کمی اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے بجلی کے شعبے کے مکمل ڈیکاربنائزیشن کے لئے ایک عالمی تبدیلی کو درج کیا گیا ہے 
اسی سلسلے میں گلوبل اینرجی مانیٹرنگ کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوروپ میں ایل این جی منصوبوں کو گیس کے موسمیاتی خدشات کی بنا پر مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، اسی درمیان امریکہ جیسے اہم علاقوں میں قطر اور روس سے سستی سپلائی کی وجہ سے ایکسپورٹ میں کمی آرہی ہے اور یہ دونوں ہی ایل این جی بازار کی حصہ داری میں جارحانہ اضافہ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں 
رپورٹ کی اہم محرر لیڈیا پلانٹ نے کہا کہ یہ سرمایہ کاریاں اتنی بڑی ہے کہ سرمایہ کاروں کو سمجھ میں آرہا ہے کہ ان میں نقصان برداشت کرنا آسان نہیں ہوگا 
پچھلے ایک سال میں صرف ایک ہی ایل این جی منصوبہ مناسب مالی فیصلے تک پہنچ پایا ہے 
کورونا کی وجہ سے لاگت میں ویسے ہی اضافہ ہوچکا ہے کیونکہ کئی مقامات پر کچھ کام ہی نہیں ہوپایا 
گلوبل اینرجی مانیٹرنگ نے آج لیکویفائڈ قدرتی گیس(ایل این جی) کے ٹرمینل منصوبوں کے عالمی سروے کے نتائج جاری کئے ہیں ، رپورٹ ”نورس منی : گلوبل ایل این جی ٹرمینل اپڈیٹ 2021“ کے اہم نکات درج ذیل ہیں 
کورونا وائرس سے ابھرنے کے باوجود کل 265 ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) کی استطاعت رکھنے والے کم از کم 26 ایل این جی ایکسپورٹ ٹرمینلز نے سرمایہ کاری کے حتمی فیصلے میں تاخیر یا دوسری رکاوٹوں کی رپورٹ جاری رکھی ہے، دنیا بھر میں تیار کیا جارہا ایکسپورٹ استطاعت کے 700 ایم ٹی پی اے کا 38 فیصد ہے 
باغیوں کے حملے کے بعد موزامبک ایل این جی ٹرمینل ایک مثال بن گیا ہے، اور اس حملے نے اربوں ڈالر کی قیمت والے ٹرمینلز کے خطرات کو اجاگر کیا ہے 
لاگت میں بڑھتا اضافہ، متعینہ وقت میں تاخیر اور خرابی کی اعلی شرح جیسی وجوہات جنہوں نے ایل این جی کے شعبے کو تباہ کیا ہے ،گزشتہ ایک سال میں کرونا کے نتیجے میں اور بڑھ گئی ہیں 
ایک زمانے میں کلائمیٹ مسائل کا ممکنہ حل مانا جانے والے ایل این جی شعبہ کو خاص طور سے یورپی خریداروں کے لئے کلائمیٹ پرابلم کی شکل میں دیکھا جارہا ہے ،آئی ای اے کے مطابق 2050 کی نیٹ زیرو تزئین  کے تحت بین الاقوامی ایل این جی کاروبار میں 2025 کے بعد تیزی سے گراوٹ کی ضرورت ہوگی 
عالمی سطح پر صرف ایک ایل این جی ایکسپورٹ منصوبہ ” میکسیکو میں کوسٹا ایل این جی ازول ٹرمینل “ سرمایہ کاری کے آخری مرحلے تک پہنچ سکا ہے 
شمالی امریکہ کے مینوفیکچر یا پری مینوفیکچرر میں عالمی ایکسپورٹ کا 64 فیصد حصہ دار ہے 
شمالی امریکہ میں سب سے زیادہ پریشان حال منصوبے ہیں جن میں 26 ایل این جی ایکسپورٹ ٹرمینلز میں سے 11 میں اہم مالیاتی فیصلوں میں تاخیر یا دوسری رکاوٹوں کی رپورٹ ہے 
کم پیداواری لاگت والے قطر اور روسی آرکٹک میں صلاحیت کی جارحانہ توسیع نے یونائیٹڈ سٹیٹس ایل این جی ایکسپورٹ ڈویلپرز کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے 
عالمی صلاحیت کو 70 فیصد تک بڑھانے کے لئے مینوفیکچر یا پری مینوفیکچر میں کافی منصوبوں کے ساتھ ایل این جی امپورٹ صلاحیت میں توسیع تیزی سے جاری ہے، مینوفیکچر یا پری مینوفیکچر کی صلاحیت میں سے 32 فیصد چین میں، 11 فیصد انڈیا میں اور 7 فیصد تھائی لینڈ میں ہے ، ایشیا کے باہر برازیل مینوفیکچر یا پری مینوفیکچر میں 13 ایل این جی امپورٹ ٹرمینلز کے ساتھ ایک ہاٹ اسپاٹ ہے 
رپورٹ کی اہم محرر لیڈیا پلانٹ نے کہا کہ ایل این جی کو پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کو ایک محفوظ اور صاف متبادل کے طور پر بیچا گیا تھا، اب وہ تمام خصوصیات قرض میں بدل گئی ہے ، منصوبوں کی وسعت نے سرمایہ کاروں کے سامنے تباہ کن نقصان کو اجاگر کردیا ہے اور حالیہ آئی ای اے کے 2050 کا منظر نامہ بتاتا ہے کہ مستقبل میں محفوظ توانائی میں ایل این جی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ، صنعت نے اپنی موسمیاتی چمک کھودی ہے ، اب صرف سوال یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ممکنہ سفید ہاتھی ( مہنگی،بوجھل اور بیکار) منصوبوں آگے بڑھانے کے لئے قیمتی سیاسی سرمایہ ضائع کریگا 
گلوبل اینرجی مانیٹر کے کارگزار مینیجر ٹیڈ نیس نے کہا کہ جو لوگ بنیادی ڈھانچے کو محفوظ سرمایہ کاری کی شکل تصور کرتے ہیں وہ ایل این جی ٹرمینلز کے تعلق سے رکاوٹیں جھیل سکتے ہیں ، زیادہ ایکسپورٹ صلاحیت کی تعمیر کے لئے موقع کم ہوگیا ہے اور شمالی امریکی منصوبے کئی وجوہات سے پیچھے چلی گئی ہے ، فریکڈ گیس پر انحصار کی وجہ سے انہیں خاص طور پر یورپی خریداروں کے ذریعے صحیح طریقے سے میلے کی شکل میں دیکھا جاتا ہے  ، اسکے علاوہ قطر اور روس دونوں کو سستی گیس تک رسائی حاصل ہے اور وہ بازار حصہ داری چھوڑنے والے نہیں ہیں

Post Top Ad

Your Ad Spot