Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, November 14, 2021

موسمیاتی کانفرنس میں ہندوستان کی سفارتی فتح، مگر بجٹ کے وعدہ پر خاموشی برقرار



             رپورٹ: نشانت سکسینہ
             ترجمہ: محمد علی نعیم
.             اشاعت... صدائے وقت. 
==================================
جہاں ایک طرف COP26(موسمیاتی کانفرنس) کو کوئلے کی تاریک حقیقت دنیا کے سامنے لانے کے لئے یاد رکھا جائے گا وہیں دوسری طرف اسے ہندوستان کی سفارتی فتح کے طور پر بھی لیا جائے گا 
گلاسگو میں منعقدہ 26ویں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کے آخری لمحات میں ہندوستان نے دنیا کو ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ان کے عملی مسائل کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے قائل کیا، اور نہ صرف گلاسگو معاہدے کی زبان بدل دی، بلکہ عالمی سطح پر کلائمیٹ سے متعلق کاروائی کی حالت اور سمت کو بھی تبدیل کر دیا
دراصل، کانفرنس کے دوران گلوبل وارمنگ پر ہونے والے اس معاہدے کے دوران آخری لمحات میں ہندوستان دیگر 200 ممالک کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا کہ کوئلے کے استعمال کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنے کے بجائے اسمیں مرحلہ وار تخفیف کی جائے. 

ڈیڑھ ڈگری سیلسیس کا مدعا 
گلوبل وارمنگ کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت تک محدود کرنے کے ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں اکثر ترقی یافتہ ممالک نے کوئلے کو مکمل طور پر استعمال نہ کرنے پر اتفاق کرلیا تھا اور امید کررہے تھے کہ تمام ترقی پذیر ممالک بھی اس بات کو مان لینگے ، ٹھیک اسی وقت ہندوستان نے ترقی پذیر ممالک کی صنعتی و سماجی ترقی کی ضرورتوں اور مجبوریوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے چین کے ساتھ معاہدہ کے تیار ہونے سے قبل اسمیں جیواشم ایندھن کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کئے جانے کی بات کو تبدیل کراتے ہوئے کوئلے کے استعمال کو مرحلہ وار کم کرنے کی بات شامل کرانے میں کامیابی حاصل کرلی 

وزیر ماحولیات نے کی گھیرا بندی 
گلاسکو جانے سے پہلے ہی ہندوستان کے وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے صاف کردیا تھا کہ ہندوستان بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کے سامنے جھکے گا نہیں بلکہ گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج میں انکے کردار پر انکو گھیرے گا ، کانفرنس میں ہندوستان کا یہی سخت رخ دیکھنے کو ملا 
کانفرنس میں بھوپیندر یادو نے کھلے عام سوال کیا کہ ترقی پذیر ممالک کوئلے اور فوسل ایندھن کے استعمال کو ختم کرنے کا وعدہ کیسے کر سکتے ہیں جب کہ انہیں ابھی بھی اپنے ترقیاتی ایجنڈے اور غربت کے خاتمے سے نمٹنا ہے؟  یہ بڑا سوال بھی اس معاہدے کی بنیاد بنا کہ یہ ممالک کوئلے کو مکمل طور پر 'ختم' کرنے کے بجائے اس کے استعمال کو 'کم' کریں گے 
لیکن حتمی مسودے میں اصطلاحات میں تبدیلی پر شدید اختلافات بھی سامنے آئے۔ یورپی میڈیا نے بھارت پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے اس مسودے کو خراب کر دیا ہے۔

بجٹ کے وعدے پر سکوت برقرار

 لیکن یہ وہی امریکی، یورپی اور ترقی یافتہ ممالک ہیں جو کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لئے درکار فنڈنگ ​​کے اپنے وعدے کو بھول چکے ہیں۔
بارہ سال قبل کوپن ہیگن میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس میں امیر ممالک نے ایک اہم وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے 2020 تک غریب ممالک کو سالانہ 100 بلین امریکی ڈالر دینے کا وعدہ کیا تاکہ انہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے اور درجہ حرارت میں مزید اضافے کو روکنے میں مدد ملے۔ لیکن خزانہ کا وہ وعدہ وعدہ ہی رہا 

کیا ہوا تیرا وعدہ

2009 تک، ترقی یافتہ دنیا اس بات پر متفق تھی کہ 2020 تک غریب ممالک کی مدد کے لیے سالانہ 100 بلین ڈالر فراہم کرینگے لیکن اقوام متحدہ (یو این) کی جانب سے کمیشن کی گئی ایک خاص رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ ہدف حاصل نہیں کیا گیا ہے اور 2025 کے لیے ایک نیا اور زیادہ اہم ہدف مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔


کیا ہے بجٹ کی ضرورت
اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جیسے امیر ممالک کے لیے اپنی معیشتوں سے جیواشم ایندھن اور کاربن کو ہٹانے کی ضرورت کو ایڈجسٹ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، تو  ترقی پذیر ممالک کے لیے تو اور بھی زیادہ چیلنج ہونگے۔ ان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہے کہ وہ نئے انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی پر خرچ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بہت بڑی آبادی کی زندگی بھی خطرے میں ہے۔ 
اس لیے ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کی کوششوں میں مدد کے لیے گرانٹس، قرضے اور نجی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں 
سیلاب کی لہروں سے ساحلی تحفظ اور خشک سالی کے لئے کم خطرے والے زرعی نظام کی تشکیل وہ اہم علاقے ہیں جہاں ترقی پذیر دنیا کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے فوری مالی مدد کی ضرورت ہے۔

اور غریب ترین ممالک کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے کہ شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف منتقل ہوکر کلائمیٹ چینج کے اثرات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے مالی مدد کی ضرورت ہے۔


فی الحال یہ ہے بجٹ کی صورتحال

کئی ممالک نے سمٹ سے پہلے اور اس کے دوران نئے موسمیاتی مالیاتی وعدوں کا اعلان کیا 
(ا) امریکہ نے 2024 تک ہر سال 11.4 بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور ساتھ ہی خاص طور پر موسمیاتی موافقت کے لیے 3 بلین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔
(ب)برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ 2020 اور 2025 کے درمیان اپنے موسمیاتی مالیات کو دوگنا کر کے 11.6 بلین ڈالر کر دے گا
(پ) کینیڈا نے 2020 اور 2025 کے درمیان اپنی موسمیاتی مالیاتی امداد کو دوگنا کرکے 5.3 بلین ڈالر کرنے کا اعلان کیا  
(ج) جاپان نے ایشیا میں اخراج کو کم کرنے کے لیے اگلے پانچ سالوں میں 10 بلین ڈالر کی پیشکش کی ہے
(ح) ناروے نے اپنی موافقت کی مالی اعانت کو تین گنا کرنے کا عہد کیا ہے۔
(د) آسٹریلیا اپنا حصہ دوگنا کرے گا
(ذ) اسپین 2025 تک اپنے آب و ہوا کے مالیاتی وعدے کو 50 فیصد بڑھا کر 1.55 بلین ڈالر سالانہ کرے گا

 اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کلائمیٹ ٹرینڈ کی مینیجر آرتی کھوسلا نے کہا کہ COP26 نے درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کو روکنے کی جانب یقینی طور پر ایک مثبت قدم اٹھایا ہے لیکن موسمیاتی مالیات میں وعدہ کردہ USD100bn کو پورا کرنے میں امریکہ اور یورپی یونین کی ناکامی کسی بھی اہم کلائمیٹ کارروائی کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے
 کم وسائل والے ممالک کے لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تاہم اس سب کے درمیان کوئلے کے استعمال کو مرحلہ وار بند کرنے کا معاہدہ توانائی کی منتقلی کی ایک اہم علامت ہے.
مزید برآں، یورپی کلائمیٹ فاؤنڈیشن کے سی ای او لارنس ٹوبیانا کہتے ہیں، "پیرس معاہدے پر کام جاری ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ وعدوں اور دعووں کو حقیقی پالیسی میں شامل کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ان کو 2022 میں نیشنل کلائمیٹ گول، NDC میں شامل کیا جائے۔ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے نہ صرف نیٹ زیرو کے لئے جوابدہی کے طریقہ کار کو مضبوط کرنا چاہیے، بلکہ سب سے زیادہ کمزور لوگوں پر موسمیاتی بحران کے اثرات کا حل نکالنا چاہئے 
منزلیں ابھی اور بھی ہیں

 اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھلے ہی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کو ایک بڑا قدم قرار دیا ہو لیکن انہوں نے بڑھتی ہوئی دنیا کو موسمیاتی بحران سے خبردار بھی کیا ہے۔ 
اسی دوران امریکی موسمیاتی سربراہ جان کیری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی سمت میں یہ معاہدہ حتمی نہیں ہے۔ ہمیں ابھی بھی بہت کچھ کرنا ہے، واقعہ یہ ہے کہ منزلیں ابھی اور بھی ہیں

Post Top Ad

Your Ad Spot