Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, April 16, 2022

درپیش مسائل اور ہماری قیادت*



 *بقلم:پروفیسر ڈاکٹر عبدالحليم قاسمی*
                        صدائے وقت 
=================================
موجودہ تشویشناک ملکی صورتحال سبھی کے سامنے ہے، اس سلسلے میں ہمارے مختلف مذہبی قائدین کے بیانات بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، 
سوال یہ ہے کہ اس طرح کے حالات ایک دن میں نہیں پیدا ہوتے،
وقت رہتے ہماری قیادت کو خاطرخواہ اقدامات کرنے چاہئیں،
ہر فیلڈ ہر میدان میں دین و دنیاں کی تفریق اور حد فاصل قائم کئے بغیر توانائی صرف کرنی چاہئے تھی تاکہ وقت رہتے ہمارے اور برادران وطن کے درمیان غلط فہمیوں کا سد باب ہوتا، تساہلی کے پیش نظر غلط فہمیاں یہاں تک بڑھتی چلی گئیں کہ آج ہم ہر مسائل میں صفائی دہتے پھر رہے ہیں پھر بھی بھرپائی ممکن نہیں ہو پا رہی ہے،
 *بد اعمالیاں اور خمیازہ* 
جو لوگ تمام تر موجودہ بد عنوانیوں کا خمیازہ بد اعمالیوں کو قرار دیتے ہیں اگر قریب جا کر انکے خیموں کا معائنہ و مشاہدہ کیا جائے تو وہاں بھی تساہلی و بدعنوانی کا تناسب قابلِ غور نظر آتا ہے،
اگر غیر جانبدارانہ مشاہدہ کیا جائے تو ماضی کے مقابلے میں اعمال صالحہ کرنے والوں کے علاوہ عبادت گاہوں کی کثرت، دیندار شبیہ افراد نظر آنے والوں کی بہتات میں اضافہ، جن عبادت گاہوں میں پہلے سیکڑوں کی تعداد ہوا کرتی تھی وہاں ہزاروں کی تعداد نظر آتی ہے، لھذاٰ مطلقاً بد اعمالیوں کا خمیازہ اور قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں،
سچ تو یہ ہے کہ بسا اوقات حقوق اللہ کے علاوہ حقوق العباد کی پامالی دنیاوی امور میں زیادہ سزاوار ہوا کرتی ہے، 
 *فکر اعمال صالحہ اور پیمانہ*
اعمال صالحہ کی فکر ہی دراصل زندگی کا ماحصل اور کامیابی کا راز ہے، 
مسئلہ یہ ہے کہ ماضی اور حال میں اسباب دنیاں اور قومی منصوبہ بندی کو لیکر جو بھی عملی رویہ رہا ہے اس پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے مجموعی طور پر ساری ذمہ داریاں بد اعمالیوں کے سر کی جا سکتی ہیں ،
اگر صورتحال یہی ہے تو پھر مسودہ  ڈرافٹ اور واضح مقصود پیرامیٹر بھی منظر عام پر عوام کی سہولت کی خاطر آنا چاہیے، 
جبکہ موجودہ صورتحال نمازیوں، عبادت گاہوں، دینی مراکز، عمرہ حج و نیک کام کرنے والوں کی کثرت روز افزوں اضافہ کی جانب مائل ہے،
معلوم ہوا کہ کہیں نہ کہیں دنیاوی اسباب کی تلاش و جستجو میں کچھ کوتاہی عین ممکن ہے، 
 *دنیاں کی محبت اور موت کا ڈر* 
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ایسے حالات مسلمانوں کے دنیاں سے زیادہ محبت اور موت سے خوف اور ڈرنے کی وجہ سے پیدا ہونے، 
تو پھر سوال یہ ہے کہ دنیاں سے محبت کرنے کے آثار و نتائج مال و دولت کی کثرت، منصب و عہدوں کی فراوانی کیوں نہیں نظر آتی، اس لیے ہندوستانی مسلمانوں پر دنیاں داری یا بہت زیادہ دنیاں سے محبت کرنے کا حکم لگانا حقیقت حال اور زمینی سچائی سے باالکل مختلف ہے 
جہاں تک موت سے ڈرنے کی بات ہے تو موجودہ مخدوش ملکی حالات میں بھی اگر عام نوجوانان قوم کو درپیش مسائل میں روکا نہ جائے تو فوراً مرنے مارنے کے لیے کھڑے تیار نظر آتے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان دوسرے ملکوں کے مد مقابل کہیں زیادہ نڈر ہیں،جن لوگوں کی نڈر پن کے تعلق سے ویڈیو وائرل ہو رہی ہیں عقیدت سے قطع نظر انکی حقیقی زندگیوں کے حالات کچھ اور بیاں کرتے ہیں 
 *غیر سنجیدہ بیانات* 
دراصل ہماری قیادت جن باتوں کا رونا اسٹیج اور لاؤڈ-اسپیکر پر روتی ہے ہونا یہ چاہیے عملی سد باب کی فکر کرے،
ہمارے قوم کے با شعور، رفاہی و مرکزی عہدوں پر فائز رہنماؤں کو اپنی ماضی کی لغزشوں کا محاسبہ و تجزیہ بھی کرنا چاہیے ،
ہر دور میں قوموں کو اپنے ترقیاتی منصوبے و پروگرام خود طے کرنے اور بنانے پڑتے ہیں،
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں بڑے لوگ وہی کہلاتے ہیں جو صرف اسٹیج اور لاؤڈ-اسپیکر، ریلیوں، اجتماعات میں نمودار ہو کر بجائے عملی نمونوں کے خیالی فارمولے بتاتے اور بتاتے ہیں،
جب کوئی ہمارا بڑا اسٹیج پر آکر شعلہ بیانی کر دیتا ہے اور عوام کو پسند آ جاتی ہے تو فوراً ہم لوگ خوب خوش ہو کر اپنے دل و دماغ کو چند دنوں کے لئے بہلا لیتے ہیں اور اس قسم کے بیانات کی کلپ کو باعث ثواب اور وظیفہ سمجھکر خوب سنتے اور وائرل کرتے رہتے ہیں،
سوال یہ کہ کیا ایسے لوگوں کے پاس ردعمل کے طور پر کوئی لائحہ عمل، ترکیب، تصفیہ کا فارمولا یا کوئی ٹوٹکا ہے، 
سچ تو یہ ہے کہ جس طرح مراقبہ  تقرب الی اللہ کے لئے کیا جاتا ہے اسی طرح مراقبہ اپنے کئے ہوئے کاموں پر محیط کارکردگی کے محاسبہ  کے لیے بھی ہونا چاہیے،
عالمی شہرت یافتہ  ذمہ داروں کا ایک عام انسان کی طرح عوام کے سامنے حالات کا رونا روتے ہوئے مخاطب ہونے سے تا صبح قیامت مسائل کے حل کا تصفیہ ممکن نہیں،
 آزادی ہندوستان کی تحریک کے علاوہ کبھی بھی کسی نے کسی  موقع پر کسی مذہبی پیشواء کو حقوق کے تحفظ کیلئے احتجاج کرتے ہوئے ، مسائل پر لیڈروں سے گفتگو و جرح کرتے ہوئے ، تعلیمی میدانوں میں ضرورت کے پیش نظر تعلیم گاہوں کی بات کرتے ہوئے ،بے روزگار مسلم نوجوانوں کے بر سر روزگار کی فکر کرتے ہوئے سوائے معدودے چند دیکھا ہو تو برائے مہربانی انکی فہرست عام کی جائے،
غور و فکر جو کہ مؤمن کو وراثت میں ملی ہوئی چیز تھی بتدریج عنقاء ہوتی چلی گئی،
عہد خلافت میں عوام سوال کرتی تھی اور یہاں عہد موجود میں رہنماؤں سے سوال کرنے کو گستاخی پر محمول کیا جانے لگا،
جب غیر شرعی و غیر اسلامی رواج عام ہوگا تو ظاہر ہے معاشرے سے روحانیت کا پرواز ہونا یقینی ہے،
بڑی مزے کی بات یہ ہے کہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی ساری فساد و بگاڑ کی ذمہ داری بھولی بھالی عوام کے سر ببانگ دہل اجتماعات و اجلاس میں چیخ و پکار اور چلاتے ہوئے مڑھتے ہوئے نذرانہ لیکر پرواز کر جاتے ہیں،
 *حقائق و موجودہ صورتحال* 
سچائی اور موجودہ صورتحال اور تجربہ شاہد ہے کہ خوفناک صورتحال عوام کے بجائے خواص میں زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جتنے بھی احتجاجی مظاہرے نمودار ہوئے ان میں شریک احتجاج عوام ہی تھے، 
عالمی شہرت یافتہ رہنماؤں سے گزارش ہے کہ آپ از خود مشاہدہ و محاسبہ اور تحقیق کر تفصیلات و تجزیہ اور ٹھوس لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش فرمائیں،عوام ٹکٹکی باندھے ہوئے منتظر بیٹھی ہے، 
مذہبی قیادت کی آواز پر ہر دور ہر زمانے میں عوام الناس نے نہ صرف بھروسہ جتایا بلکہ مرمٹنے تک تیار کھڑے نظر آتے دیکھے گئے ہیں،
 *زبوں حالی کی وجوہات* 
سچائی یہ ہے کہ جو قوم تعلیمی، اقتصادی، سیاسی کسمپرسی کا شکار ہوا کرتی ہے بھلا وہ کیسے بنداس و بیباک ہو سکتی ہے،
 گزارش یہ ہے کہ  پہلے زمینی طور پر تسلسل کے ساتھ شہر شہر گاؤں گاؤں علاقے علاقے چل پھر کر بلا تفریق مسلک عوامی بیداری لائی جائے، فی الحال چند سالوں کی منصوبہ بندی کر عوام کو شادی بیاہ دوسرے بہت سارے غیر ضروری بظاہر دین سمجھ کر بیجا اصراف پر مبنی کاموں پر قدغن اور اہل علم و رسوخ دار افراد کے ذریعہ مکمل پابندی لگائی جائے، پیسوں اور سماجی توانائی کو محفوظ کرتے ہوئے عوامی بیداری اور بچوں کی تعلیم پر صرف کیا جائے، قوم کے نوجوانوں کو پُراعتماد بنایا جائے، بطورِ خاص نوجوان مدارس فارغ التحصیل افراد کو جو گزشتہ دنوں لاک ڈاؤن کی مار سے اپنی چھوٹی چھوٹی مدرسوں کی ملازمتیں تک گنوا بیٹھے ہیں اور اپنی سفید پوشی کے باعث کسی سے فریاد کرنے سے نہ صرف قاصر بلکہ بے پناہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں ایسے سبھی قیمتی سرمایہ اور قوم و ملت کے افراد کے لئے روزگار کے مواقع کا انتظام اور مہم چلائی جائے،تاکہ معاشی بحران سے باہر نکل کر ذہنی فکروں سے آزاد ہو سکیں، 
دنیاں دار الأسباب ہے لھذٰا جائز دنیاوی ذرائع کو بھی جگہ ملنی اور دینی چاہیے،
بصورت دیگر خالص تقریروں سے بہت کچھ مسائل کا حل تلاش کر پانا ممکن نہیں،
شکریہ
 *مورخہ 17 اپریل بروز اتوار، 2022*
 *abdulhaleemeumc@gmail.com* 
 *WatsApp 9307219807*

Post Top Ad

Your Ad Spot