Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, August 9, 2018

مشرق سے مغرب تک بیشتر مسلمان قومیں محض تاشائی ہیں

نصف صدی قبل لکھی گئی سید مودودی(رح) کی تحریر - ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
حالات آج بھی ویسے ہی ہیں !
۔. . . . . . . . . . . . .  . . . . . . . . . . . . 
" مسلمان ملکوں کی فوجوں میں بہت جلدی یہ احساس پیدا ہو گیا کہ آمریت کا اصل انحصار اُنہی کی طاقت پر ھے ۔ یہ احساس بہت جلدی فوجی افسروں کو میدانِ سیاست میں لے آیا اور انہوں نے خفیہ سازشوں کے ذریعہ سے حکومتوں کے تختے اُلٹنے اور خود اپنی آمریتیں قائم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ اب مسلمان ملکوں کے لئے اُن کی فوجیں ایک مصیبت بن چکی ہیں ۔ اُن کا کام باہر کے دشمنوں سے لڑنا اور ملک کی حفاظت کرنا نہیں رہا بلکہ اب اُن کا کام یہ ھے کہ اپنے ہی ملکوں کو فتح کریں اور جو ہتھیار اُن کی قوموں نے اُن کو مدافعت کے لئے دیے تھے اُنہی سے کام لے کر وہ اپنی قوموں کو اپنا غلام بنا لیں ۔ اب مسلمان ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے انتخابات یا پارلیمنٹوں میں نہیں بلکہ فوجی بیرکوں میں ہو رہے ہیں اور یہ فوجیں بھی کسی ایک قیادت پر متفق نہیں ہیں بلکہ ہر فوجی افسر اِس تاک میں لگا ہُوا ھے کہ کب اُسے کوئی سازش کرنے کا موقع ملے اور وہ دوسرے کو مار کر خود اُس کی جگہ لے لے ۔ اِن میں سے ہر ایک جب آتا ھے تو " زعیمِ انقلاب " بن کر آتا ھے اور جب رخصت ہوتا ھے تو " خائن اور غدار " قرار پاتا ھے ۔

مشرق سے مغرب تک بیشتر مسلمان قومیں اب محض تماشائی ہیں ۔ ان کے معاملات چلانے میں اب ان کی رائے اور مرضی کا کوئی دخل نہیں ھے ۔ ان کے علم کے بغیر اندھیرے میں انقلاب کی کھچڑی پکتی ھے اور کسی روز یکایک اُن کے سَروں پر اُلٹ پڑتی ھے ۔ البتہ ایک چیز میں یہ سب مُتحارب انقلابی لیڈر متفق ہیں اور وہ یہ ھے کہ اِن میں سے جو بھی اُبھر کر اوپر آتا ھے وہ اپنے پیشرو ہی کی طرح مغرب کا ذہنی غلام اور اِلحاد و فِسق کا علمبردار ہوتا ھے ۔"

( سیّد ابوالاعلیٰ مودودی (رح) ۔ تفہ

Post Top Ad

Your Ad Spot