Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, April 24, 2019

تحریک، کارکن اور قیادت۔

از/ محب اللہ قاسمی/ صدائے وقت۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
کوئی تحریک یا جماعت اس وقت تک مستحکم اور مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے کارکنان اور اس سے وابستہ لوگ مخلص نہ ہوں اور  ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردانہ اورمخلصانہ رویہ نہ اپنائیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ مادہ پرستی اور دنیا وی مفاد کے حصول میں لوگ سرگرداں ہیں، اس کے باوجود  مختلف کمپنیاں چلانے  والے مالکین بھی اپنےملازمین کا خیال رکھتے ہیں اور  ان سے ان کا  غیر معمولی ربط و تعلق ہوتا ہے۔ جب کہ تحریک اسلامی جو انبیائی تحریک اورمشن ہے اور اس کا مقصد دنیا کا مفاد مادہ پرستی نہیں، ان کا باہمی ربط تو مزید مستحکم ہونا چاہیے اور وہ سب آپس میں ایسے ہوں گویا ایک خاندان کے افراد جو گرچہ مختلف  گھروں اور مکانوں میں  رہتے ہوں مگر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جسد واحد کی طرح جڑے ہوں۔
یہی ربط و تعلق کا اہتمام تھا کہ ہر صحابی  ؓ سمجھتا تھا کہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ  ان سے ہی محبت کرتے ہیں۔چنانچہ سب نے اس انبیائی مشن میں ایسا کردار ادا کیا جس سے ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا  جس کی مثال نہیں ملتی ۔کیوں کہ ان سب کے سامنے ایک ہی ہدف تھا  ’اقامت دین‘۔
چوں کہ جماعت اسلامی ہند بھی دراصل انبیائی تحریک اور مشن کی علم بردار ہے۔ اس لحاظ سے اس تحریک کے کارکنان کا باہمی ربط و تعلق بھی ایسا ہی مضبوط اور مستحکم ہوناچاہیے۔ اسی مقصد کے تحت جماعت اسلامی ہند کے نومنتخب جواں  سال امیر سید سعادت اللہ حسینی صاحب نے  ہم تمام کارکنان اورذمہ داران مرکز سے اجتماعی ملاقات کا اہتمام کیا، جس کی اطلاع ملتے  ہی میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ میری یہ خواہش رہی کہ ہم تمام کارکنان مرکز کی امیر جماعت اور  ذمہ داران مرکز سے اجتماعی ملاقات ہو، ایک دوسرے کے احوال معلوم کیے جائیں، ان کی گھریلو زندگی اور ذمہ داریوں کی خبرگیری ہو، ان میں تحریک کی اسپرٹ پیدا کی جائے اور اس کارعظیم کو بہتر انداز میں پورا کرنے کا انھیں حوصلہ دیا جائے۔

باحوصلہ قیادت نے الحمد للہ اپنی اس ذمہ داری کو ترجیحی طور پر پورا کیا اور عملی طور پر اسے جاری رکھنے کے لیے پر عزم نظر آئی۔ گرچہ قلت وقت کے سبب تمام کارکنان کاتعارف، ان کی قابلیت اور ذمہ داریوں کا ہی تذکرہ ہو سکا اور باہمی تبادلہ خیال کا موقع نہ مل سکا۔ جس کا افسوس امیر جماعت کی مفید اور تمام کارکنوں کے لیے حوصلہ بخش اختتامی گفتگو میں جھلک رہا تھا۔
اس کے لیے ہم تمام کارکنان اپنے امیر محترم  کے بے حد ممنون و مشکور ہیں اور ان کے لیے شب و روز دعا کرتے  ہیں کہ اللہ رب العالمین، جس نے اس عظیم تحریک کی قیادت ان کو سونپی، وہی مالک حقیقی انھیں صحت و تندرستی کے ساتھ اس عظیم ذمہ داری کو استقامت کے ساتھ بہ حسن و خوبی انجام دینے کی توفیق عطا کرے اور ہر طرح کے شرور و فتن سے محفوظ رکھے. آمین یا رب العالمین۔
واضح رہے کہ گزشتہ میقات میں اسی طرح کے دو پروگرام شعبۂ تربیت کی جانب سے مرکز جماعت میں منعقد کیے گئے تھے جن میں میں براہ راست امیر جماعت سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ملا۔ وہ لمحہ بھی میرے لیے قابل مسرت تھا۔
موجودہ امیر جماعت نے جس طرح اپنی اختتامی گفتگو میں فرمایا کہ ’’ہم میں سے کوئی امیر جماعت، کوئی نائب امیر، کوئی قیم، کوئی استقبالیہ کا کارکن، کوئی مرکز کی کار چلانے والا اور کوئی  صفائی کرنے والا ہوسکتا ہے، لیکن اصلاً ہم سب ایک ٹیم ہیں اور اس ٹیم کا گول اقامت دین ہے۔‘‘ اس بات کا عملی نمونہ ایک صفائی کارکن کی گفتگو میں ملا۔ جب ان سے پروگرام کے دوسرے ہی دن محترم امیر جماعت نے ان سے پروگرام میں غیرحاضری کا سبب معلوم کرتے ہوئے انھیں اپنے دفتر لے گئے اور ان سے  سامنے کی کرسی پر بیٹھنے کو کہا ،تو اس  نے جواب دیا:  میں کرسی پر بیٹھتا ہوں تو میرے سر میں درد ہونے لگتا ہے صاحب۔ پھر اس سے اس کے ذاتی اور گھریلو احوال معلوم کرتے ہوئے کہا کہ میں گزشتہ کئی سال سے آپ کو جانتا ہوں آپ بڑی محنت سے صفائی ستھرائی کا کام انجام دیتے ہیں۔  اگر آپ کو کسی طرح کی کوئی پریشانی ہو تو  مجھے بلا جھجھک بتا سکتے ہیں۔
موجودہ امیر کی ایک خوبی جسے میں نے محسوس کیا کہ وہ جو بے جا تکلفات سے اجتناب  کرتے ہوئے عام کارکنوں سے کھل کر بات کرتے ہیں اور ان کے درمیان بیٹھ جاتے ہے۔ اس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ قیادت اور احساس ذمہ داری کو سامنے رکھتے ہوئے  اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کو بہ حسن و خوبی انجام دیں گے۔ اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو اور انھیں اس شعر کا مصداق بنائے ؎   
نگہہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میرکارواں کے لیے
___________________________
(محب اللہ قاسمی)