Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, April 30, 2019

تلنگانہ میں دو دن۔۔۔۔۔۔۔۔ایک معلوماتی دلچسپ سفرنامہ


✏ فضیل احمد ناصری / صدائے وقت۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
تِلنگانہ، آندھراپردیش سے آزاد شدہ ایک نئی ریاست ہے، جو 14 برسوں کی طویل جدوجہد کے بعد 2014 میں قائم ہوئی۔ اس کی سرکاری اور عوامی زبان تیلگو ہے، مسلمان تیلگو کے ساتھ اردو بھی بولتے ہیں، مگر اکثر مسلمانوں کی اردو تیلگو زدہ ہوتی ہے۔
میں اس نو تشکیل شدہ ریاست میں پہلے بھی ایک بار آچکا تھا، مگر اس وقت کہیں گھومنے گھامنے کا موقع نہیں مل پایا تھا۔ رواں ہفتے 27 اپریل کو اس ریاست کو قدرے تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا، اس دوران جو کچھ دیکھا، اس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
*ختمِ بخاری کی تقریب کے لیے نَلگُنڈہ کو روانگی*
میرے پاس سیدی و مولائی حضرت مولانا سید احمد خضر شاہ کشمیری مدظلہ کا 26 اپریل کو رات آٹھ بجے فون آیا کہ اگر آپ ایک دو روز خالی ہوں تو نلگنڈہ چلے جائیں، وہاں ایک ادارے میں ختمِ بخاری شریف کی تقریب ہے اور آپ کو وہاں آخری حدیث کا درس دینا ہے۔ میرے پاس وقت تھا، میں نے بلا تامل امتثالِ امر کیا۔ ادھر ہاتھوں ہاتھ جہاز کا ٹکٹ بھی بن گیا۔ جہاز کا وقت صبح 7 بج کر 35 منٹ تھا، اس لیے اسی شب ڈیڑھ بجے کے آس پاس بذریعۂ کار دیوبند سے دہلی کے لیے روانہ ہو گیا۔ دہلی 4 بج کر 10 منٹ پر پہونچ گیا اور ایئرپورٹ کے ضروری مراحل سے گزر کر انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ میں رات بھر سویا نہیں تھا، اس لیے نیند بڑی زور کی آ رہی تھی، دفعِ نیند کے لیے میں نے کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔

مکہ مسجد حیدرآباد

*ایک عرب سے ملاقات*
نیم خوابی کے عالم میں مطالعے کا سفر جاری ہی تھا کہ اچانک مجھے سلام کی آواز سنائی دی۔ نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ ایک 45 سالہ جوان سامنے تھا، پینٹ شرٹ میں ملبوس۔ ٹوپی ندارد۔ اس کے ہاتھ میں ایک متوسط سی ٹرالی تھی۔ ردِ سلام کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ فرمائیے، کیا حکم ہے؟ کہنے لگے *لا اردو، لا اردو*، پھر میں نے عربی میں بات کی۔ وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ نمازِ فجر میری باقی ہے، مجھے جہتِ قبلہ معلوم نہیں، براہِ کرم آپ رہ نمائی فرمائیں۔ میں نے تحری کر کے اس کی رہ نمائی کی اور وہ نماز پڑھنے چلا گیا۔ میں سوچنے لگا کہ اتنے بھرے مجمع میں اس عرب بندے نے صرف مجھے ہی سلام کیا، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس پوری انتظار گاہ میں فقط میں ہی تھا، جس کا تشخص اسلامی تھا، ورنہ وہاں اور بھی مسلمان رہے ہوں گے، مگر وہ شناخت میں نہیں آرہے تھے، اس سے یہ نکتہ مزید روشن ہوا کہ اسلام نے اسلامی باطن کے ساتھ اسلامی ظاہر پر اتنا زور کیوں دیا ہے۔ میں پھر مطالعے میں مشغول ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد جہاز پر سوار ہونے کا اعلان ہو گیا۔

چارمینار حیدر آباد

*حیدرآباد سے نَلگُنڈہ*
جہاز پر سوار ہوا اور ایک گھنٹے اور 55 منٹ کے بعد میں حیدرآباد پہونچ گیا۔ میرے میزبان انتظار میں کھڑے تھے۔ یہ مولانا عبدالاحد فلاحی صاحب تھے۔ میانہ قد، چھریرا بدن، بلالی رنگ، داڑھی مختصر سی۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ بڑا والہانہ استقبال کیا۔ پھر کار آئی اور ہم حیدرآباد سے نلگنڈہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ دورانِ سفر مناظرِ قدرت دیکھنا میری قدیم عادت ہے۔ کار سے دائیں بائیں دیکھا تو ائیرپورٹ سے کم و بیش دو تین کلومیٹر کی دوری تک خوشنما مناظر تھے۔ پھول، پھلواریوں کی دیدہ زیبی نگاہیں اچک رہی تھی۔ ایئرپورٹ کی حدود سے باہر بھی حسین و دل کش فضاؤں کا ایک جمگھٹا تھا۔ گاڑی برق رفتاری سے دوڑتی رہی۔ نیند کا دباؤ شدید تھا، مگر مناظرِ قدرت کے جمال نے اسے پرے کو دھکیل دیا تھا۔
*حیدرآبادی ڈوسے سے ضیافت*
ناشتے کا تقاضا تو ہرگز نہیں تھا، مولانا عبدالاحد فلاحی صاحب کی محبت کا لحاظ رکھتے ہوئے مجھے آمادہ ہونا پڑا۔ گاڑی ایک ہوٹل پر رکی ۔ مولانا نے حیدرآبادی کھانے کی ایک قسم ڈوسا سے ضیافت کی۔ کھانے کی یہ نوع تہہ دار روٹی جیسی ہے۔ تیل سے تیار شدہ۔ پاپڑ کی طرح اکڑی ہوئی اور پلیٹ سے بھی بڑی۔ اس کے ساتھ اس کے لوازمات بھی۔ کھٹائی تو گویا فرض کے درجے میں۔ ایک پیالے کچے ناریل کی کھیر بھی۔ ڈوسا نمکین اور ذائقے بخش تھا۔ ناریل کی کھیر مجھے زیادہ پسند آئی۔
*نیند کی آغوش میں*
ہوٹل سے روانگی ہوئی تو سیدھے قیام گاہ کی طرف گاڑی دوڑ پڑی ۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہم قیام گاہ پہونچ گئے۔ نیند کا غلبہ شدید تھا، مگر میزبان محترم ایک گلاس لسی لے کر آگئے۔ لسی ممبئی کے فالودہ سے ملتی جلتی تھی۔ مقویات سے بھرپور۔ لسی پی اور موبائل بند کر کے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
*مولانا عبدالعزیز صاحب ملاقات*
آنکھ کھلی تو دیکھا کہ دن کے چار بج چکے ہیں۔ اٹھ کر نماز پڑھی پھر کھانا کھایا۔ کھانا خالص حیدرآبادی۔ میرے حساب سے سارے آئٹم نئے۔ لذیذ اور مزے دار۔ کھانے سے فارغ ہوا تو مطالعے میں لگ گیا۔ مصروفِ مطالعہ ہی تھا کہ دیکھا کہ ایک بزرگ تشریف فرما ہیں۔ دراز قد، سانولا رنگ، چشمہ پوش، سفید ریش، سر پر سفید سا رومال۔عمر 68 برس۔ یہ حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب تھے۔ سبیل الرشاد بنگلور کے فاضل۔ نرم گفتار، پختہ کردار۔ ان کی زیارت ہوئی تو مسلسل ہوتی رہی اور اختتامِ جلسہ کے بعد تک رہی۔ ان کی شخصیت کا نقش دل پر بیٹھ گیا اور ان کی سادگی پر رشک آنے لگا۔
*اجلاس گاہ میں*
رات سوا آٹھ بجے اجلاس گاہ کے لیے نکلا۔ اجلاس ایک بڑے میدان میں تھا۔ جاتے ہوئے راستے کی بائیں طرف چار نیم کے بڑے بڑے اور اوراق دار درخت تھے۔ نشست نیم کے ایک پیڑ کے نیچے تھی۔ یہیں علاقے کی کئی اہم شخصیات سے ملاقات ہوئی، جن میں دارالعلوم حیدرآباد کے مہتمم حضرت مولانا حسام الدین عاقل حسامی جعفر پاشا بھی تھے۔ پتلے دبلے، مگر چوغے اور عمامے نے ان کی ہزالت کی اچھی پردہ پوشی کر دی تھی۔ سر پر وسیع و عریض رومال۔ طبیعت کے باغ و بہار ۔ شخصیت دل چسپ۔ ان کی تقریر میرے سامنے ہوئی۔ تقریر اصلاحی اور پر کشش۔ ان سے ملاقات بہت مختصر رہی، مگر دل ان سے مل کر بہت مسرور ہوا ۔
*ختمِ بخاری شریف*
ناظمِ جلسہ نے سوا دس بجے میرا نام پکارا۔ بخاری شریف کی آخری حدیث میں نے خود پڑھی اور کم و بیش پونے دو گھنٹے تک حدیث اور اس کے متعلقات پر گفتگو جاری رہی۔ مجمع کل ملا 1900 کا تھا۔ سب ہمہ تن گوش۔ ان کے چہرے بشرے سے صاف جھلک رہا تھا کہ وہ مزید سننا چاہتے ہیں۔ رات کے بارہ بج گئے۔ مطبوعہ سند من جانب مدرسہ تقسیم کی گئی، پھر دعا ہو گئی۔ دعا کے بعد مصافحے کا عمل شروع ہوا اور چھ سات منٹ تک جاری رہا۔
جلسے سے فراغت پا کر کھانا کھایا۔ پھر آرام کے لیے اپنی قیام گاہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
*حیدرآباد کی طرف*
صبح ہوئی۔ واپسی کا جہاز پونے تین بجے دن میں تھا۔ میں نے پہلے ہی پروگرام بنا لیا تھا کہ بقیہ ماندہ اوقات حتی الامکان حیدرآباد کے مشہور مقامات کی سیر میں لگاؤں گا۔ حیدرآباد 1591 میں بسایا گیا۔ اس کا بانی اردو کا اولین صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ ہے۔ یہ اس وقت دو ریاستوں: تلنگانہ اور آندھراپردیش کا دارالحکومت ہے۔ 2024 تک آندھراپردیش کا یہی دارالحکومت رہے گا۔ یہ شہر ہندوستان کے چار بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ تاریخی یادگاروں کا شہر ہے۔ اس شہر سے لگاؤ کی بنیادی وجہ میرے جدِ مکرم کی آخری آرام گاہ ہے۔ جدِ مکرم حضرت مولانا منور علی دربھنگویؒ بانئ مدرسہ امدادیہ دربھنگہ یہیں مکہ مسجد میں آرام فرما ہیں۔
مولانا عبدالاحد فلاحی صاحب کی رہبری میں گاڑی پر بیٹھا اور حیدرآباد کی طرف کوچ کر گیا۔ ابھی اپنی قیام گاہ سے نکلا ہی تھا کہ سامنے دور ایک پہاڑ پر پانی اوپر سے نیچے گرتا ہوا دکھائی دیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو میزبان نے بتایا کہ یہ پہاڑ کی چوٹی پر جانے کا راستہ ہے۔ اوپر ایک مزار ہے، جہاں لطیف شاہ ولی اللہ قادریؒ آرام فرما ہیں
۔ یہ بزرگ عراق سے تشریف لائے تھے اور یہیں ریاضت کرتے ہوئے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی۔ گاڑی اور آگے بڑھی تو مزار کی گنبد دار عمارت بھی نظر آئی۔ ہم آگے بڑھ گئے۔ نلگنڈے کی حدود سے باہر نکلے تو ایک بڑی عمارت پر نظر پڑی۔ روڈ سے بالکل متصل ۔ یہ مہاتما گاندھی یونیورسٹی تھی۔ گاڑی دوڑتی رہی۔ حیدرآباد کی مسافت اب 65 کلو میٹر رہ گئی تھی۔ سامنے ایک قطعۂ اراضی نظر آیا۔ دور دور تک پھیلا ہوا۔ 50 سے 80 ایکڑ کے درمیان ۔ چاروں طرف بلند و بالا دیوار کا احاطہ بھی۔ رہبر نے بتایا کہ یہ ڈیرہ سچا سودا کے گرو رام رہیم کی زمین ہے، جو اب سرکاری تحویل میں ہے۔ ہم آگے بڑھے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق سنتوش نگر پہونچ گئے۔
*مدرسہ انور المدارس میں*
یہاں انور المدارس کے نام سے ایک مدرسہ قائم ہے۔ یہ ادارہ عظیم محدث امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کے نامِ نامی سے منسوب ہے۔ اس کی اپنی ایک مسجد بھی ہے جس کا نام ہے: علامہ انور شاہ مسجد ۔ یہاں آمد اس کے مہتمم حضرت مولانا شریف احمد مظاہری قاسمی کی دعوت پر ہوئی تھی۔ گاڑی سے اترا تو مولانا شریف صاحب مستعد تھے۔ مناسب قد، متوسط بدن، کشادہ پیشانی، متبسم چہرہ۔ ظاہر باطن کا عکاس۔مصافحہ معانقہ ہوا۔ اپنے مدرسے کا معائنہ کرایا۔ پھر مہمان خانے لے گئے جو رات ہی پایۂ تکمیل کو پہونچا تھا۔ مولانا کو خانوادۂ انوری کا دلدادہ پایا۔ فخرالمحدثین حضرت مولانا سید محمد انظرشاہ کشمیریؒ کے خصوصی معتقد اور رئیس الجامعہ حضرت مولانا سید احمد خضرشاہ مسعودی کشمیری دام ظلہ سے جذباتی لگاؤ رکھنے والے۔ کہنے لگے کہ: جب مدرسہ اشرف العلوم حیدرآباد نے لائبریری شروع کی تو میری خواہش پر اس کا نام *علامہ انورشاہ لائبریری* رکھا گیا۔ بڑے خلیق اور مہماں نواز نظر آئے۔
دن کے بارہ بج چکے تھے۔ مجھے ایک بجے ایئرپورٹ پہونچنا تھا، گھڑی تیز تیز چل رہی تھی۔ وقت بالکل نہیں بچا تھا۔ میرے لیے زیادہ گھومنا ممکن نہ تھا۔
*مکہ مسجد کی زیارت*
تاہم میری ایک دیرینہ خواہش تھی کہ مکہ مسجد کی زیارت کروں۔ مولانا عبدالاحد فلاحی اور مولانا شریف صاحبان میرے ساتھ تھے۔ انور المدارس سے نکلے تو سیدھا مکہ مسجد کا رخ کیا۔ پہونچے تو ایک شان دار مسجد میرے سامنے تھی۔ یہ مکہ مسجد تھی۔ سفید براق، اونچائی 170 قدم، نماز کے لیے 67 میٹر طویل اور چوڑائی 54 میٹر۔ مسجد میں کل 9 ستون، ہر لائن میں تین تین۔ اس کی تکمیل میں 77 سال لگے۔ مسجد کا سنگِ بنیاد 1617 میں سلطان محمد قطب شاہ نے رکھا تھا۔ یہ محمد قلی قطب شاہ کا داماد تھا۔ محمد قلی قطب ہی وہ بندہ ہے جسے بقولِ بعض: اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
اس مسجد کا ابتدائی نام *بیت العتیق* تھا، مگر یہ بار بار شہید ہو جاتی تھی، اس کی بقا کی تدبیر کے طور پر مکہ سے ایک پتھر لا کر اس کی دیوار میں نصب کیا گیا، اس کے بعد سے یہ مسجد صحیح سلامت ہے اور اس پتھر کی وجہ سے اسے مکہ مسجد کہا جاتا ہے۔
میں جس وقت مسجد میں پہونچا، ایک جلسہ چل رہا تھا۔ اندر جھانکا تو پتہ چلا کہ یہ پروگرام بریلوی ٹولے کا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ مسجد بھی بریلوی قبضے میں ہے۔
*جدِ مکرم مولانا شاہ منور علی دربھنگویؒ کے مزار پر حاضری*
مکہ مسجد دیکھنے کی خواہش کی سب سے بڑی وجہ حضرت مولانا منور علی دربھنگویؒ کے مزار پر حاضری تھی۔ یہ بزرگ میرے والدِ مرحوم حضرت مولانا جمیل احمد ناصری کے پردادا تھے۔ مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے بانی۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے خلیفۂ اجل۔ مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے لیے آمدنی کے ایک مستقل ذریعے کی تلاش میں حیدرآباد تشریف لائے تھے۔ ان کا یہ سفر جامعہ نظامیہ کے بانی حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی صاحبؒ کی دعوت پر ہوا تھا۔ مولانا فاروقی شہر کی عظیم شخصیت اور نظامِ دکن کے استاذ تھے۔ مولانا فاروقی اور جدِ مکرم چوں کہ ایک شیخ کے خلیفہ تھے، اس لیے یہ دور دراز کا سفر جدِ مکرم نے گوارا کر لیا۔ یہ سفر رجب 1318 ھ میں ہوا، مگر قضائے الہی سے یہاں آئے تو بیمار پڑ گئے اور موت و حیات کی کشمکش میں کئی ماہ رہ کر ربیع الاول 1319 ھ میں ان کا وہیں وصال ہو گیا۔ نمازِ جنازہ ان کے خواجہ تاش مولانا انوار اللہ فاروقی صاحب نے پڑھائی اور شاہی اعزاز و اکرام کے ساتھ انہیں احاطۂ مسجد میں دفن کیا گیا۔
میں نے جدِ مکرم کے حالات میں پڑھ رکھا تھا کہ ان کی قبر احاطۂ مسجد میں ہے۔ میں نے مسجد کے احاطے میں صحن کے بائیں طرف ایک لمبی سا ہال دیکھا، پتہ چلا کہ یہی قبرستان ہے، دیکھا تو اس میں کل بارہ قبریں ہیں۔ سب کی سب ایک ہی رنگ کی۔ سب ایک ہی سائز کی۔ شہر کی اہم شخصیت مولانا عبداللہ با نعیم صاحب نے بتایا کہ نظام کے پانچ بادشاہ اس میں مدفون ہیں۔ بقیہ کون لوگ ہیں پتہ نہیں۔ قبروں پر کوئی کتبہ بھی نہیں تھا۔ لوحِ مزار بھی ندارد ۔ میں نے یہ سوچ کر کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی جدِ مکرم کی قبر ہے، میں سب کے سرہانے گیا۔ سب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ میں دیر تک اسی سوچ میں غرق تھا کہ مدرسہ امدادیہ کی فکر انہیں کس دور افتادہ علاقے میں لے آئی تھی!
*مولانا انوار اللہ فاروقی صاحبؒ کا خط میرے والد کے دادا مولانا عبدالصمد ناصریؒ کے نام*
اس موقع پر جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے بانی حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی صاحبؒ کا مکتوب نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، تاکہ جد مکرم اور ان کے باہمی تعلقات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ خط میرے والد کے دادا حضرت مولانا ڈپٹی عبدالصمد ناصریؒ مہتمم مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے نام ہے، جو 15 ربیع الاول کو لکھا گیا:
*واقعۂ جاں کاہ انتقال حضرت مولانا مولوی شاہ منور علی صاحب ایک نہایت حسرت رہ کر ہوا۔ جس کا حال بیان نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً مدرسہ امدادیہ کے حق میں تو نہایت افسوسناک ہے، مگر مجھے توقع ہے کہ حضرت ممدوح کی روحانی تائید ضرور رہے گی۔ اب اس مدرسہ کا نفاذِ ترقی آپ حضرات کے ہاتھ ہے۔ حضرت کا قصدِ مصمم ہو گیا تھا کہ یہیں سے راہئ حرمین شریفین زاد اللہ شرفھما ہو جائیں، اگرچہ میں روک رہا تھا کہ مدرسہ کی خدمت افضل و اعلیٰ ہے، بہر حال حضرت کا مسافرت میں انتقال فرمانا اور ہجرتِ مصمم کر لینا علاوہ کمالِ ذاتی کے قبولیت پر دلائلِ بینہ ہیں۔ وہ تو بفضلہ تعالی اپنی مراد کو پہونچ گئے۔ حق تعالیٰ ہم کو بھی ان حضرات کی محبت کے طفیل میں اپنی مرادات کو پہونچائے۔
مدرسہ سے حضرت کو خاص تعلق تھا اور یہاں تشریف لانے کا بھی یہی باعث تھا، کیوں کہ سرکار میں ایک درخواست پیش کی گئی تھی، جس میں امید قوی تھی کہ ایک سو روپیہ کی جائیداد امدادیہ کے نام جاری ہو جائے، مگر افسوس کہ اس کا موقع نہ رہا، کیوں کہ حضرت کی حاضری کو اس میں بڑا دخل تھا۔
محمد انوار اللہ عفی عنہ، حیدرآباد، دکن* ۔
*چار مینار اور لاڈ بازار*
مکی مسجد کی زیارت اور جدِ مکرم کے لیے ایصالِ ثواب کے بعد ہم لوگ چار مینار کی طرف گئے۔ یہ چار مینار اردو کے اولین صاحبِ دیوان شاعر جناب محمد قلی قطب شاہ کا تعمیر کردہ ہے۔ 999 ھ میں اس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ۔ اس عمارت کی بلندی 189 فٹ ہے۔ شہرِ حیدرآباد کا آغاز اسی چار مینار سے ہوا۔ محمد قلی ایرانی النسل شیعہ تھا، جب اس نے نیا شہر بسانے کا ارادہ کیا تو اس نے شیعہ کے آٹھویں امام علی رضا کی درگاہ کے طرزِ تعمیر کو اختیار کیا۔ یہ درگاہ ایران کے مشہد شہر میں ہے اور اسے ایران میں شیعہ کی سب سے بڑے معبد کی حیثيت حاصل ہے۔ اس درگاہ کے مینار چار ہیں، اس لیے چار مینار کی تعمیر کرائی، لیکن چوں کہ آٹھویں امام سے اس مینار کو جوڑنا تھا اور چار سے آٹھ کا عدد بنتا نہیں تھا، اس لیے چار کمانیں بھی مینار کے اطراف میں تعمیر کرائیں، اس طرح آٹھویں امام کی مناسبت سے آٹھ کا عدد پورا کیا گیا۔
یہ مینار بہت اونچا اور خوب صورت ہے۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اس پر چڑھ کر اسے مزید گہرائی سے دیکھوں، اس لیے اسے یوں ہی چھوڑ لاڈ بازار کی طرف نکل گیا۔ یہ بازار چار مینار کے بالکل متصل ہی ہے اور کنگنوں کے لیے معروف۔ وہاں ایک صاحب سے گفت و شنید کر ایئرپورٹ کے لیے پا بہ کاب ہوا۔
*اور یادیں رہ گئیں*
ایئرپورٹ میں داخل ہوا اور ضروری کار روائیوں کے بعد انتظار گاہ پہونچ گیا۔ پتہ چلا کہ جہاز آدھ گھنٹہ مؤخر ہے۔ پھر وقت ہوا اور میں دو گھنٹے کے بعد دہلی پہونچ گیا۔ اب میں اکیلا تھا اور دو ڈھائی گھنٹے پہلے کی یادیں۔
اللہ اللہ خیر سلّا۔