Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, April 23, 2019

صبر ایوبی کو اپنے اندر بھی پیدا کیجئے!!


محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام
کنڈہ، پرتاپگڑھ۔
. . . . . . . .  صدائے وقت. . . . . . . . . . . 
                       *حضرت ایوب علیہ السلام* امتحان و آزمائش کے دنوں میں سراپا صبر بنے رہے اور کسی طرح تنگی اور شکوہ زبان پر آنے نہیں دیا یہی انبیاء کرام اور اہل اللہ اور خاصان خدا کی خصوصیت ہے ۔ 

*حضرت ایوب علیہ السلام* نے بیماری کے ایام میں کسی بات پر قسم کھا لی تھی کہ اچھے ہوگئے تو اپنی بیوی کو سو لکڑیاں ماریں گے ۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس پاک بیوی نے حضرت ایوب کی انتہائی تکلیف سے بے چین ہوکر کچھ ایسے کلمات کہہ دئے تھے جو صبر ایوبی کو ٹھیس پہنچانے والے اور خدائے  واحد کی جناب میں شکوہ کا پہلو لئے ہوئے تھے *ایوب علیہ السلام* اس کو برداشت نہیں کرسکے اور قسم کھا کر فرمایا میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا)
جب *حضرت ایوب علیہ السلام* کی آزمائش کی مدت ختم ہوگئی اور وہ صحت یاب ہوئے تو قسم پوری کرنے کا سوال آیا ۔ ایک جانب غمگسار بیوی کی انتہائی وفاداری غمخواری اور حسن خدمت کا معاملہ اور دوسری طرف قسم کو پورا کرنے کا سوال ۔
             *اللہ تعالٰی* نے اس قسم کو پورا کرنے اور نیک بیوی کی نیکی اور شوہر کے ساتھ وفاداری کا یہ صلہ دیا اور اس کی یہ تدبیر انہیں بتائ کہ ایک جھاڑو لو جس میں ایک سو سینکیں ہو اور اس سے ہلکے طور پر اپنی بیوی کو مار دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ مخصوص حالات میں بدرجہ مجبوری حیلہ کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ کسی حکم شرعی کو باطل نہ کرتا ہو ۔
                  *حضرت ایوب علیہ السلام* کی آزمائش و امتحان اور ہر قسم کی بربادی کے بعد ان کے سارے ساتھی اور تعلق والے  ایک ایک کرکے آپ سے الگ ہوگئے اور کوئی ہمدرد و غمگسار نہ رہا صرف آپ کی نیک اور باوفا بیوی آپ کی تیمار داری میں شریک رہتی تھی ۔
*حضرت ایوب علیہ السلام* اور ان کی وفا دار اور اطاعت شعار بیوی کے اس قرآنی واقعہ سے یہ پیغام ملا کہ میاں بیوی کے تعلقات میں وفاداری اور استقامت سب سے زیادہ محبوب شئ ہے اور اسی لئے ایک حدیث میں شیطانی وساوس میں سب سے زیادہ قبیح وسوسہ جو شیطان کو بہت پیارا ہے میاں بیوی کے درمیان بدگمانی اور بغض و عداوت کا بیج بو دینا ہے اسی لئے صحیح احادیث میں اس عورت کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جو اپنے شوہر کے حق میں نکو کار اور وفا دار ثابت ہو اور اس وفا اور محبت کی قدر و قیمت اس وقت بہت زیادہ ہوجاتی ہے جب شوہر مصائب و مشکلات اور آلام و حوادث میں گرفتار ہو اور اس کے اعزہ و اقرباء تک اس سے دوری بنا چکے ہوں اور کنارہ کش ہوچکے ہوں ۔ چنانچہ حضرت ایوب علیہ السلام کی وفا شعار بیوی نے ایوب علیہ السلام کے زمانئہ مصیبت میں حسن وفا اطاعت و تسلیم ہمدردی اور غمخواری کا ثبوت دیا تو اللہ تعالی نے اس کے احترام اور عوض میں ایوب علیہ السلام کی قسم کو ان کے حق میں پورا کرنے کے لئے عام احکام قسم سے جدا ایک ایسا حکم دیا جس سے اللہ تعالٰی کے یہاں اس نیک بیوی کی قدر و منزلت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ( مستفاد از قصص القرآن ۲۔ ۱۹۶)