Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, June 2, 2019

جمہوری سیاست میں مسلمان کبھی بھی اور کسی بھی حالت میں متحد نہیں ہو سکتے۔

از/ حافظ شرف الدین فلاحی/ صدائے وقت۔
_______________________
بارہ تیرہ سو سالوں تک امت مسلمہ کو اگر دوسری قوموں پر مجموعی طور پر فوقیت دی گئی تو اس کی بنیادیں یا بنیادی اسباب کیا تھے؟ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ امت کا دوسری قوموں کے ساتھ برابری سرابری کا معاملہ رہا ہو؟ امت یا تو اپنی حقیقی شناخت اور مقصد زندگی کو نظر انداز کرنے اور دنیا کی بھول بھولیوں میں پڑنے کی وجہ سے دوسری اقوام کے ہاتھوں ظلم و بربریت کا دہائیوں تک شکار رہی جیسا کہ صلیبیوں اور تاتاریوں کے ساتھ معاملہ رہا یا مادیت کے شدید غلبے اور الٹیمیٹ آپسی انتشار و افتراق سے دوچار ہو کر اپنا وجود ہی کھو بیٹھی جیسا کہ اندلس میں ہوا یا پھر دین سے کافی حد تک چمٹے رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے قوموں کی قیادت اور امامت سونپی جیسا کہ عالم اسلام کے بیشتر علاقوں میں اور خود ہندوستان میں امت کا حال رہا، خود ہندوستان میں امت سیکڑوں سالوں تک اپنی عزت و وقار اور دبدبہ قائم کرنے میں کامیاب رہی کیونکہ مسلم بادشاہوں کی کئی خامیوں یا بے پروائیوں کے باوجود یہاں پر شریعت نافذ رہی، ایک ایسی حقیقت جو اپنے آپ میں دوسری اقوام کے لیے دعوت کا سبب بنتی رہی- 

دوسری طرف علماء بادشاہوں کی سرپرستی میں دین و دعوت کا فریضہ انجام دیتے رہے-
یہ مختصر تفصیل بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ امت یا تو دوسری اقوام کی قیادت کر سکتی ہے اور کریگی اگر دین کو لیکر اٹھے، نہ کہ جمہوری سیاست جیسی کسی بے دین اور باطل نظام کی مدد سے اپنا کھویا مرتبہ پانے کی کوشش کرے تو اسکی حالت مزید خستہ ہو کر علی شفا حفرة من النار کی وعید کے تناظر میں آگ کے گڈهے کی دہلیز پر کهڑی ہو-
*یہ بات اچھی طرح لکہہ کر رکہہ لیجیئے یا گانٹہہ باندھ لیجیے کہ مسلمان جمہوری سیاست میں کبھی بہی اور کسی حالت میں بہی متحد نہیں ہو سکتے، متحد ہونا تو بہت دور کی بات ہے، ہندی مسلمانوں کی ایک چوتھائی تعداد بھی اس باطل نظام میں ایک پلیٹ فارم پر کبھی بھی نہیں آ سکتی- اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے چاہے وہ کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو کہ مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے بغیر بھی ایک پلیٹ فارم پر آ سکتے ہیں یا متحد ہو سکتے ہیں تو مجہے اسکی عقل اور اسکی اسلام فہمی پر زبردست شک ہونے لگتا ہے*-
ایسا کیوں ہے کہ ہمارے پاس رہنمائی کے لیے قرآن وحدیث موجود ہے اور پہر بھی ہم اپنی عقلی توپ چلانے سے باز نہیں آتے ہیں!؟ کیا رسول اللہﷺ نے بستر وفات پر صاف صاف دو ٹوک انداز میں نہیں کہہ دیا تہا کہ (أے ایمان والوں) میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم انہیں دونوں دانتوں سے پکڑے رہو تو کبہی بہی نہیں بہٹکو گے، *القرآن وسنتی* قرآن اور میری سنت-
اور ایک ہم ہے کہ اللہ تعالٰی کہ حرام ٹہرائی ہوئے نظام میں اپنا وقار اور اپنی عزت ڈھونڈ رہے ہیں!!!
فاعتبروا یا اولی الأبصار 
تو عبرت سے کام لو اے بصیرت والو- (القرآن)
________________________
حافظ شرف الدین فلاحی

Post Top Ad

Your Ad Spot