Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, July 6, 2019

پرانی دہلی کی أگ۔۔۔۔۔۔!!!


ایم ودود ساجد/ صداٸے وقت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ 30 جون کو پرانی دہلی کے چاوڑی بازار میں واقع گلی مندر والی میں اسکوٹر کھڑا کرنے پر ہونے والا جو جھگڑا فرقہ وارانہ کشمکش میں تبدیل ہوگیا تھا وہ بظاہر ہندومسلم مفاہمت پر ختم ہوگیا ہے۔۔۔۔ لیکن فی الواقع ایک فریق کی جانب سے اس قضیہ کو آگے بڑھانے کی منافرت آمیز کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں ۔۔۔۔

آئندہ 7 جولائی (اتوار) کو اِسی دُرگا مندر کی کمیٹی نے شوبھا یاترا نکالنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے اور اہلِ علاقہ کی اطلاعات کے مطابق بڑے بڑے بینر لگے ہوئے ہیں اور علاقہ سے باہر کے لوگوں کو پیغامات بھیج کر بلایا جارہاہے ۔۔۔ یہ وہی کمیٹی ہے جس کے ساتھ مسلم فریق نے مفاہمت کا اعلان کیا تھا اور مندر کو ہونے والے نقصان کی تلافی اور نقصان پہنچانے والے مسلم نوجوانوں کو پکڑوانے اور سزا دلوانے کا وعدہ کیا تھا۔۔۔
میں نے پرانی دہلی کے مختلف علاقوں کے سرکردہ افراد کے علاوہ ایک درجن باشعور نوجوانوں سے بات کی ہے اور اس یاترا کے تعلق سے تقریباً یہ سبھی اندیشوں اور وسوسوں میں مبتلا ہیں ۔۔۔ ہندوستان میں شوبھا یاتراؤں کی تاریخ خون کی موٹی موٹی لکیروں سے لال ہوئی پڑی ہے۔۔۔ جو بے قصور لوگ ان یاتراؤں کے درمیان شرپسندوں کی جارحانہ سرکشی کا نشانہ بنے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ شوبھا یاترا کیسی بھیانک خونی مہم کا عنوان بن گئی ہے۔۔۔

اِس وقت اِس قضیہ کے کئی پہلو میری تشویش کا سبب ہیں ۔۔۔
1-بعض دانشور مسلمان پولیس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں کہ اس نے خوش اسلوبی سے یہ مسئلہ حل کرلیا اور اسے فرقہ وارانہ چشمک میں بدلنے سے روک لیا۔۔۔
2-جامع مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم احمد صاحب قبلہ کا یہ شائع شدہ اور ویڈیو بیان خوب گشت کر رہا ہے کہ مسلمان "تباہ شدہ" مندر کی تعمیر کریں ۔۔۔
3- بعض مسلم دانشور'  مسلمان بچوں کو مندر پر حملہ کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں قرار واقعی سزا دلوانے پر زور دے رہے ہیں ۔۔۔۔
4- بے قصور مسلمانوں کے سَروں پر سیکولرزم کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔۔۔۔
5-چینلوں پر ہماری قیادت فرمانے والے ایک نوجوان عالمِ دین صاحب کا کچھ اس مفہوم کا بیان گشت کر رہا ہے کہ جس طرح جے شری رام کا نعرہ لگا کر مسلمانوں پر حملہ کرنا غلط ہے اسی طرح اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر مندر پر حملہ کرنا بھی غلط ہے۔۔۔
6- مجموعی صورت حال ایسی بنادی گئی ہے کہ بے قصور مسلمان خود کو قصوروار گرداننے لگیں۔۔۔۔
7-اور اس پر طُرّہ یہ کہ ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت کہیں دور دور تک نظر نہیں آتی۔۔۔ 
جب اسکوٹر کھڑا کرنے پر یہ جھگڑا ہوا تو علاقہ کے مسلمانوں نے شرپسندوں پر جاکر دھاوا نہیں بولا بلکہ وہ جمع ہوکر تھانے پہنچے۔۔۔ ایس ایچ او نے علاقے کے ممبر اسمبلی اور وزیر عمران حسین اور دوسرے لیڈروں کو فون کرکے بلایا۔۔۔ چند گھنٹوں کے بعد ہجوم کو سمجھا بجھاکر گھروں کو بھیج دیا گیا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ اس دوران مندر یا جھگڑے کی جگہ پر سیکیورٹی جوان کیوں تعینات نہیں کئے گئے؟ اور کیوں مسلم مکینوں کے سامنے روکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں محدود کردیا گیا؟ دوسرے فریق کو مسلسل جمع ہونے اور اشتعال انگيز نعرے لگانے کی اجازت کیوں دی گئی؟  باہر کے شرپسند عناصر کو کیوں آکر زہر اگلنے دیا گیا اور کیوں انہیں گرفتار نہیں کیا گیا؟

پرانی دہلی کے چاندنی چوک' لال کنواں' حوض قاضی' چاوڑی بازار' دریبہ' نئی سڑک' پہاڑی بھوجلہ اور سوئیوالان جیسے علاقوں کے سینکڑوں گلی کوچوں میں کم سے کم 60 مندر ہیں ۔۔۔ یہ سب مسلم آبادیوں سے گھرے ہوئے ہیں اور دہائیوں سے قائم ہیں۔۔۔ کیا کبھی اس سے پہلے بھی ان مندروں میں سے کسی پر حملہ ہوا ہے؟  1992 اور 1993 تک میں یہ مندر محفوظ رہے جب شرپسندوں نے جے شری رام کا نعرہ لگاکر بابری مسجد کو شہید کیا اور جب یہی نعرہ لگاکر مسلم کش فسادات برپا کئے گئے ۔۔۔۔
جس مندر کی "تباہی" کا شور اپنے بھی مچارہے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مندر ہے ہی نہیں ۔۔۔ وہ گلی کے داخلہ پر دیوار میں بنے ہوئے شوکیس کے اندر نصب ایک چھوٹی سی مورتی ہے۔۔۔اصل 'پراچین مندر' تو گلی کے کافی اندر جاکر ہے۔۔۔ جس وقت دونوں فریق آمنے سامنے تھے اور دونوں طرف سے پتھر بازی ہورہی تھی تو ہندو فریق اچانک بھاگ کھڑا ہوا اور دوتین پتھر دیوار میں لگی ہوئی مورتی کے شیشے پر جالگے۔۔۔ بس اتنا ہی نقصان ہے۔۔۔ ابتدا میں پولس نے بھی اسی نقصان کو تسلیم کیا تھا اور رات میں ہی ڈی سی پی نے مورتی تبدیل کردی تھی۔۔۔ پھر وہ تباہی کہاں ہے۔۔۔؟
اب قضیہ کے یہ دو رخ دیکھئے:
1-جس گرفتار ملزم نے مسلم نوجوان کو زدوکوب کیا تھا وہ علاقہ کے ایک کانگریسی لیڈر کا بھائی ہے۔۔۔ مگراس کی گرفتاری کے خلاف بی جے پی' وی ایچ پی اور بجرنگ دل والے خوب ہنگامہ کر رہے ہیں۔۔۔
2-ادھر جب اپنوں نے ہی مندر کی 'تباہی' کا شور مچایا تو CCTV فوٹیج میں مندر کے آس پاس نظر آنے والے دس بارہ نابالغ بچوں کو پکڑ لیا گیا۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اتنی آسانی سے رِہا ہوجائیں گے۔۔۔ اس لئے کہ ایک جانب تو شرپسند مسلسل ہنگامہ بازی کر رہے ہیں اور دوسری جانب ان مسلمان بچوں کی طرف سے کوئی قائد منظر عام پر نہیں آرہا ہے۔۔۔ میں نے جتنے بھی اہل علاقہ سے بات کی سب کو اسی کا شکوہ ہے کہ 'بڑے' لوگوں نے ان کا حال چال جاننے تک کی زحمت نہیں کی۔۔۔

Post Top Ad

Your Ad Spot