Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, August 2, 2019

ایک ابھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔تین کبھی نہیں!!!

از / محمد رضی الاسلام ندوی / صداٸے وقت۔
=========================
        کسی زمانے میں ہندوستان میں حکومتی سطح پر فیملی پلاننگ کی پبلسٹی کا بہت زور تھا _ خاندان کو صرف دو بچوں تک محدود رکھنے کی تلقین کی جاتی تھی ، بلکہ صرف ایک بچے پر اکتفا کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی _ اس زمانے میں ایک نعرہ بہت مقبول ہوا تھا : " ایک ابھی نہیں ، دوسرا کبھی نہیں _ " یاد پڑتا ہے کہ میرے بچپن میں جگہ جگہ دیواروں پر یہ نعرہ لکھا ہوتا تھا _

          آج کل طلاق کے مسئلے پر بہت شور و غوغا برپا ہے _ اس کے خلاف طرح طرح کی من گھڑت کہانیاں پھیلائی جا رہی ہے _ اسے عورتوں کے خلاف ظلم اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی بناکر پیش کیا جا رہا ہے _ اس ماحول میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ مسلم عوام کے درمیان اس نعرے کو رواج دیا جائے : " ایک ابھی نہیں ، تین کبھی نہیں _"

          اسلام میں طلاق کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے _ حدیث میں ہے کہ "شیطان کو سب زیادہ خوشی کسی خاندان کا شیرازہ منتشر ہوجانے سے ہوتی ہے _" (مسلم :2813) اسلام نکاح کو باقی رکھنے کی ہر ممکن تدبیر کی جانب رہنمائی کرتا ہے _ اگر تمام تدابیر ناکام ہوجائیں تو وہ طھر (عورت کی پاکی) کی حالت میں ایک طلاق دینے کی اجازت دیتا ہے _ ایک طلاق کے بعد حکم ہے کہ بیوی شوہر کے گھر ہی عدّت گزارے _ اس دوران اگر معاملہ رفع دفع ہوجائے تو دونوں پھر میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں _ اختلاف باقی رہے تو عدّت کے بعد عورت آزاد ہے _ اس کا کہیں اور نکاح ہوسکتا ہے اور اگر کچھ عرصہ کے بعد دونوں اپنے رویّوں پر پشیمان ہوں اور ازسرِ نو ازدواجی زندگی گزارنا چاہیں تو نئے نکاح کے ساتھ اس کی بھی اجازت ہے _
      زندگی کے ہر معاملے میں انسان کا رویّہ یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی جتنی ضرورت ہو ، اتنا ہی استعمال کرتا ہے _ ایک گلاس پانی پیاس بجھا دے تو وہ دس گلاس پانی نہیں پیتا _ بچے کی تادیب ایک چپت لگا کر ہوسکتی ہو تو اس پر ڈنڈے نہیں برساتا _ چہرے پر بیٹھی مکھی ہاتھ ہلانے سے بھاگ جایے تو اس پر پے در پے طمانچے نہیں جڑتا _ ایک گولی کھانے سے بدن کا درد دور ہوجائے تو مہینوں بھاری ڈوز نہیں لیتا _ پھر اگر اس نے بیوی کو اپنی زندگی سے الگ کرنے کا تہیہ ہی کر لیا ہے تو جو کام ایک طلاق سے ہوجاتا ہو ، اسے انجام دینے کے لیے بہ یک وقت 3 طلاق کیوں دے؟
     طلاق کے معاملے میں مسلم عوام کے درمیان بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے _ وہ سمجھتے ہیں اور انھیں سمجھایا جاتا ہے کہ جب تک 3 طلاق نہیں دی جائے گی ، طلاق نہیں ہوگی _ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے _
( محمد رضی الاسلام ندوی )

Post Top Ad

Your Ad Spot