Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, August 21, 2019

اور تعمیر ہوا آر ایس ایس کی سوچ کا ایک اور مجسمہ۔


از/ نسیم خان۔/صداٸے وقت۔
=========================
گزشتہ دنوں دہلی یونیورسٹی میں آر ایس ایس کی طلباء تنظیم اے بی وی پی نے سبھاش چندر بوس اور بھگت سنگھ کے ساتھ اس ساورکر کا بھی مجسمہ لگایا جس کی ایسے وقت میں انگریزوں سے ساز باز تھی جس وقت پورا ملک اپنے تن من کے ساتھ انگریزی سامراج کے خلاف پوری طاقت سے برسرپیکار تھا, ساورکر نے انگریزی سامراج کے آگے سپر ڈال دیے تھے،  اور انگریزی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انہیں خطوط بھی روانہ کیے تھے, آزاد بھارت کا پہلا دہشتگرد " ناتھو رام گوڈسے " انہی کا فالوور تھا، اور ان جیسے نسل پرستوں کی زہر ناک سوچ سے آر ایس ایس نے نظریات مستعار لے کر ہندوراشٹر جیسا نظریہ اپنے لیے پسند کیا،
اور اسی خونی اور قاتل نظریہ نے نہ جانے اس پرامن ملک کے امن و امان کو تاراج کرنے کے لیے آزادی کے بعد سے کتنے دہشت گردوں کو جنم دیا..! ..
دہلی یونیوسٹی میں تعمیر ہونے والا آتنکی بت کوئی معمولی بھگوان نہیں ہے یہ آر ایس ایس کا وہی خدا ہے جس کی عبادت اس نے ہر مخالفت کے باوجود اور ہر طرح کی سنگینیوں اور دشواریوں کے بیچ کی ہے....
کاش یہ مجسمہ اسی قدر معمولی بات ہوتی جس قدر ہم اسے گمان کر رہے ہیں,

کاش اس کے پس پردہ ان کے خوفناک عزائم کارفرما نہ ہوتے, کاش ایسا ہوتا کہ اس کی شخصیت بھی ایک عام سی گزر جانے والی شخصیت ہوتی, ایسی شخصیت جس کا مجسمہ اس کے مکروہ چہرہ کو تاریخ کی اسکرین پر بار بار ظاہر نہ کرتا یہ سب محض ایک ایسے شخص کا گمان تو ہوسکتا ہے جس کی دنیا اس کے گھر کی چار دیواری سے باہر دیکھ پانے سے قاصر ہے مگر ایک معمولی نظر رکھنے والا عقلمند شخص اس سے پل بھر کے لیے نظریں چرا کر اپنی آنکھیں نہیں موند سکتا,
اسے اس بے جان صنم کے اندر زندہ شیطان کو سمجھنا ہوگا,ابلیس کے چیلے کو اسی پتھر سے تراشیدہ بت میں کھوجنا ہوگا اور پھر تاریخ کے صفحات پلٹ کر اس میں اس بت کو زندہ تلاشنا ہوگا ,جب ہمیں یہ مل جائے تو دیکھنا ہوگا کہ دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کا اس سے کیسا گہرا  تعلق تھا ؟؟؟اور کیوں تھا؟؟
اور پھر زمانہ حال کی طرف پلٹتے ہوئے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آج ان سے کون لوگ چمٹے ہوے ہیں اور ببانگ دہل کون کون اس بت کی سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک پوجا کر رہا ہے,اس لیے بجاے پتھر سے تراش خراش کر بناے گئے ایک بے جان بت کو دیکھنے کہ اس کے اندر کے خونخوار ابلیس و شیطان کو دیکھیے اور سمجھیے کہ وہ ملک کی سالمیت و جمہوریت کے لئے کس قدر خطرناک ہے!
اسی سنگین منظرنامے پر یہ چند اشعار دل کی آواز بن کر نکلے ہیں:
اب سے اس ملک کے حالات بہت بدلیں گے
ظالم و قاتل و غدار یہاں پنپیں گے
ہوگا انداز عجب دیش کی معماری کا
بت بھی ہوگا یہاں تعمیر سیاہ کاری کا
پھر سے اک دور چلے گا یہاں مکاری کا
کھیل ہر روز ہی ہوگا یہاں عیاری کا
لوگ مر جائیں گے ظاہر میں گو زندہ ہوں گے
حس جو مر جاے گی پھر لوگ بھی مردہ ہوں گے
ہر نیا ظلم وہ چپ چاپ سے سہہ جائیں گے
موت کا نسل سے پیغام وہ کہہ جائیں گے
عصمتوں کی نہ کبھی پھر کوئی عظمت ہوگی
ماں کی بہنوں کی نہ پھر سے کوئی عزت ہوگی
نسل نو کا یہاں جینا بھی بہت مشکل ہے
سانس کا چین سے لینا بھی بہت مشکل ہے
اس طرح عام سی پھیلی گی وبا لوگوں میں
کوئی آواز نہ اٹھے  گی  بجا  لوگوں میں
ہوگا سب کچھ مگر اک بات ہمیں بتلاؤ
سخت ہیں یا نہیں حالات ہمیں بتلاؤ
ایسی صورت میں بھی ہم آپ نہ بولیں گے اگر
لفظ دو لفظ سہی کھل کے نہ بولیں گے اگر
صفحہ ہستی میں نشاں تک بھی نہ ہوگا سن لو
پھر کسی لب پہ فغاں تک بھی نہ ہوگا سن لو
وقت ٹھہرے گا نہیں اب ہمیں چلنا ہوگا
کارواں  بن کے  جگر تھام نکلنا  ہوگا
*#نسیم خان*
رکن شورٰی: کاروان امن و انصاف