Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, August 26, 2019

احسان فراموش نہ بنیں!!

از/معتصم باللہ/صداٸے وقت۔
=========================
کون نہیں جانتا انسان بنیادی طورپر کمزوریوں کا مجموعہ ہے‘ لیکن اس میں اسکی سب سے بڑی کمزوری بلکہ جرم اسکی #محسن_کشی اور #احسان_فراموشی ہے۔ یہ انسان کی ازلی اور حتمی فطرت ہے کہ وہ محسن کے روحانی اور جسمانی قتل کا سبب بنتا آیا ہے اور اپنے اس گناہ پر کبھی 
بھی قابو نہیں پا سکا۔

ہمارے مشاہدے میں ہے کہ جس حقیر انسان پر آپ ترس کھا کر مسلسل اس پر احسان کریں گے‘ اسے فائدہ پہنچائیں گے وہی ضرورت مند اور احسان مند شخص اسی تناسب سے آپ کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتا رہے گا اور آخر کار جب محسن کا احسان اس پر تکمیل کے قریب ہو گا اس شخص کا کالا منصوبہ بھی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہو گا- 
بہرحال اس سلسلے میں بہت زیادہ سوچ بچار اور تدبر کرنے کے بعد کم از کم ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دراصل #محسن کی مسلسل نیکی اور احسانات #محسن_کش کے ذہن میں اس کا ایک کمزور تصور ابھارتے ہیں اور نیکی کو اس کی حتمی کمزوری پر محمول کیا جاتا ہے جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جوں جوں محسن کا اپنے محسن کش کے ساتھ نیکی کا عمل بڑھتا جاتا ہے یا مکمل ہوتا جاتا ہے توں توں محسن کش اسے کمزور تر سمجھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اچانک اس پر سواری کرنے کی‘ اس پر وار کرنے کی بلکہ بعض اوقات تو اس پر حکم چلانے کی بھر پور کوشش کرنے لگتا ہے، جبکہ ہوتا یوں ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ ایک طرف نیکوکار کو نیکی کی توفیق عنایت فرماتا جاتا ہے تاکہ اس کے سلسلے میں جزا کا عمل شروع کر سکے تو دوسری طرف محسن کش کو خودبخود مزید بدی اور احسان فراموشی کا موقع ملتا جاتا ہے اور وہ اپنے تمام تر بدنیتی کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر محسن پر حملہ آور ہو جاتا ہے، جبکہ ہر انسان سوچتا یہ ہے کہ اصولاً ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ "محسن کش جلد سے جلد اپنے انجام کو پہنچے اور محسن کو اس کی بدی سے عافیت مل جائے"  مگر ایسا ہوتا اس لئے نہیں ہے کہ جس طرح اللہ رب العزت نے نیکوکار یا محسن کو اپنی نیکی کی انتہا کی مہلت دی تھی اسی طرح وہ محسن کش اور بدکار کو بھی مہلت دیکر بدی یا احسان فراموشی کی انتہا کر دینے کا موقع مہیا کرتا ہے تاکہ مسلسل بدی تکمیل کی طرف بڑھتی رہے بلکہ کئی مواقع پر تو اکثر اسے حالات کی موافقت بھی عطا کی جاتی ہے، یعنی محسن کش یا بدکار کو اسکے ذاتی کرتوتوں سے بہلا دیا جاتا ہے، وہ بدی کے ہر کام پر مطمئن ہوتا چلا جاتا ہے بلکہ اپنے ہر غلط کام کو ٹھیک سمجھتا ہے یہاں تک کہ دونوں اپنے اپنے منطقی اور حتمی انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ نیکوکار اور محسن کو صبروجبر کے حوالے سے جنت کی ہمیشگی کی زندگی کا تحفہ عطا کیا جاتا ہے جبکہ محسن کش کو جہنم کا ایندھن بنانے کیلئے تیار کر لیا جاتا ہے-
لہٰذا اس حوالے سے محسن کو یہ چاہئے کہ جب محسن کش کی جانب سے اسے پہلا جھٹکا ملے تو وہ اس کے ساتھ مزید نیکیاں اور بے غرض احسانات کرتا چلا جائے،  اپنی نیکی کو نہ روکے بلکہ اس طرح وہ اسے (یعنی احسان فراموش کو) اپنے انجام کو پہنچنے میں اسکی مدد کر سکے گا۔
* معتصم باللہ علیگ

Post Top Ad

Your Ad Spot