Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, December 21, 2019

ملک گیر احتجاج میں شدت، مہلوکین کی تعداد ٢٠ ہوگٸی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تفصیلی رپورٹ۔

صداٸے وقت /ماخوذ۔
==========================
کالے قانون کے خلاف بہار بند کامیاب،کئی جگہ فائرنگ، پتھرائو، تشدد، آتشزنی، متعدد زخمی،مودی امیت شاہ کے خلاف نعرے، یوپی میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر ۱۶ ہوگئی، 
جامعہ ملیہ سمیت پوری دہلی میں مظاہرے، یوگی راج میں ۲۱ اضلاع میں انٹرنیٹ بند، جگہ جگہ پولس کا کریک ڈائون، تعلیمی اداروں پر تالے، جبل پور اور منگلورو میں کرفیو
نئی دہلی؍ لکھنو؍ پٹنہ؍ بنگلورو؍ بھوپال۔ ۲۱؍دسمبر:  شہریت ترمیمی بل کے خلاف سنیچر کو بھی دارالحکومت دہلی ، اترپردیش اوربہار میں لاکھوں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکلے، جگہ جگہ توڑ پھوڑ، فائرنگ، تشدد، آتشزنی، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے،پتھرائو میں سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ بہار میں آج راجد کی طرف سے بند کا اعلان کیاگیا تھا جس کی وجہ سے پورا بہار آج بند رہا جگہ جگہ  تشدد، توڑپھوڑ آتشزدگی کی واردات رونما ہوئیں۔ یوپی میں ۳۱جنوری تک دفعہ ۱۴۴ نافذ کردیا گیا ہے۔گزشتہ دو دنوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب بھی ۲۱اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بند ہے۔جیسے جیسے حالات بہتر ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ضلع مجسٹریٹ انٹرنیٹ سروس شروع کر سکتے ہیں۔تمام تعلیمی اداروں کو ہفتہ کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور کل اتوار کی وجہ سے بند رہے گا۔شہریت قانون کے خلاف یوپی میں جاری احتجاج میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ۱۶ہو گئی ہے۔جبکہ پورے ملک میں مرنے والوں کی تعداد ۲۰ تک پہنچ گئی ہے۔ پولیس نے اب تک سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ہر حساس ضلع میں سیکورٹی کے انتظامات بڑھا دیئے گئے ہیں۔لکھنؤ سمیت دیگر شہروں میں پولیس کے علاوہ پیراگراف ملٹری کے جوانوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔میرٹھ، بھدوہی،  بجنور، رامپور، کانپور، فیروز آباد، بریلی، مرادآباد، سنبھل، امروہہ اور شاملی میں اب بھی احتجاج زوروں پر ہے۔وہیں گورکھپور، بلند شہر، سہارنپور، بہرائچ، ہاتھرس اور مظفر نگر میں صورتحال کنٹرول میں ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے  شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہورہے احتجاجات کے بعض مقامات پر تشدد میں تبدیل ہوجانے کے بعد ریاست کی عوام سے اپیل کی ہے کہ شہریت قانون پر عوام شرپسند عناصر کے پھیلائے گئے شبہات اور بہکاوے میں نہ آئیں۔وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ لوگ افواہوں میں نہ پڑیں اور شرپسند عناصر کے اکسائے میں بھی نہ آئیں۔ انہوں نے عوام سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں ہر شخص کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت ادا کررہی ہے۔ حکومت ہرشخص کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔انہوں نے پولیس انتظامیہ کوہدایت دی کہ ان عناصر کو ڈھونڈ نکالا جائے جو شہریت ترمیمی قانون پر افواہ پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام کررہے ہیں اور تشدد پھیلا رہے ہیں۔اترپردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ریاست میں ہورہے احتجاجی مظاہروں اور بعض مقامات پر ان کے تشدد میں تبدیل ہونے اور سرکاری املاک  کے نقصان کے پیش نظر شہریوں سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔سنیچر کو رام پور کے ہاتھی خانہ چوراہا پر مسلم تنظیموں نے احتجاج کیا، یہاں عید گاہ کے قریب مظاہرین اکٹھا ہوئے اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف نعرے بازی کی، پولس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو بھیڑ مشتعل ہوگئی مظاہرین نے جیپ، بائیک اور کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا، پرتشدد  مظاہرہ میں ایک شخص کی موت ہوگئی ۔ وہیں کانپور میں دوپہر کو پولس اہلکاریتیم خانہ مسجد کے قریب حالات کا جائزہ لینے گئے تھے اس دوران لوگوں نے انہیں گلاب کے پھول پیش کیے، اور جمعہ کوئی ہوئی واردات پر افسوس ظاہر کیا، کچھ دیر کے بعد سینکڑوں لوگوں نے اچانک پتھرائو شروع کردیا، مظاہرین بچوں کو ڈھال بناکر آگے بڑھتے گئے اور سدھائونی پولس چوکی میں آگ لگادی، بھیڑ کو منتشر کرنے کےلیے پولس نے لاٹھی چارج او رآنسو گیس کے گولے داغے، اس میں ۱۲ سے زائد افراد زخمی ہوگئے کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیاگیا ہے، ممبر اسمبلی عرفان سولنکی کے ساتھ سینکڑوں لوگوں نے کوتوالی کا گھیرائو کیا۔ گورکھپور میں متنازع شہریت قانون کے خلاف جمعہ کو ہوئےاحتجاجی مظاہرے میں تشدد اور آگزنی کرنے کے الزام میں  پولیس نے دو سو افراد کی تصاویر جاری کی ہیں۔پولیس  کی جانب سے جاری کی گئی  تصاویر  میں کچھ افراد اپنے ہاتھوں میں پتھر لے رکھے ہیں تو کچھ نے اپنی شناخت چھپانے کے لئے چہرے ڈھک رکھے ہیں۔ ایسے افراد کی گرفتاری بھی شروع کردی گئی ہے اورجگہ جگہ چھاپے مارے جارہے ہیں۔ڈائرکٹر جنرل آف پولیس او پرکاش سنگھ نے راجدھانی لکھنؤ میں گورکھپور میں  شرپسند عناصر کی تصاویر جاری کئے جانے کی تصدیق کی اور کہاکہ ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔اترپردیش میں پرتاپگڑھ ضلع کے تھانہ سٹی کوتوالی پولیس نے شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت  کرنے والے 56 نامعلوم مظاہرین کے خلاف جمعہ کی تاخیر شب سنگین دفعات میں کیس درج کیا ہے ۔ایس ایچ او سریندر ناتھ دیویدی نے بتایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد لوگ دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود شہر میں جمع ہوئے اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے پریاگراج و اجودھیا قومی شاہراہ کو جام کرنے کی کوشش کی ۔مذکورہ معاملے میں 56 نامعلوم مظاہرین کے خلاف سنگین دفعات میں کیس درج کیا گیا  ہے۔ ادھر بہار میں پٹنہ ، حاجی پور، مونگیر، دربھنگہ، مدھوبنی ویشیالی میں آتشزدگی، پتھرائو لاٹھی چارج ہوا۔ آرجے ڈی اورمہاگٹھ بندھن کی طرف سے بلائے گئے احتجا ج میں امارت شرعیہ،خانقاہ مجیبیہ سمیت اہم اداروں نے پٹنہ میںاحتجا ج کیا۔اس درمیان پھلواری شریف پٹنہ میں دوسری طرف سے سنگ باری کے نتیجے میں حالات پرتشددہوگئے اورنوافرادزخمی ہوگئے،مزیداورنگ آبادبہارمیں لاٹھی چارج،آنسوگیس کے بعدپولیس مسلسل مسلم محلے میں گھروں میں گرفتاریاں کررہی ہے۔وہ گاڑیوں پرتوڑپھوڑکرتی بھی نظرآئی۔ادھرمونگیرکے احتجاج سے واپس آتے ہوئے مظاہرین پرشرپسندوں نے چھتوں سے پتھربازی شروع کردی ،انتظامی مداخلت کے بعدحالات قابومیں آگئے۔تفصیلات کے مطابق امارت شرعیہ سے متصل پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے افراد پرشرپسندعناصرکی طر ف سے سنگ باری اورتشددکیے گئے ۔جس میں نوافرادکے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ،امارت شرعیہ نے فی الفورزخمیوں کوہسپتال میں بھرتی کرایا۔ امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی نے پھلواری کے حالات پروزیراعلیٰ سے بات کی،مسلسل ان کے رابطے میں رہ کر نظم ونسق کاجائزہ لیتے رہے،ڈی آئی جی سمیت اعلیٰ افسران اورلیڈران پر حالات کوسنبھالنے اور سنگھی مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا پریشر بنایا،جس کے بعدپولیس نے کارروائی کرکے حالات کوقابومیں کیا،لیکن کشیدگی جاری ہے ۔دوسری طرف مونگیر میں احتجاج کیاگیا جس میں خانقاہ رحمانی اور دیگر اداروں کے ساتھ پوراشہر سراپااحتجاج ہوا، خبر ملی ہے کہ مظاہرین جب واپس آرہے تھے تولوگوں نے اوپرچھتوں سے مظاہرین پرسنگ باری کی،پولیس نے فوراََحالات سنبھال لیے۔اس کے علاوہ بہارکے شہراورنگ آبادمیں پولیس مسلم محلے میں گھروں میںداخل ہوکرعورتوں تک کوگرفتارکررہی ہے۔اس نے مظاہرے کے دوران آنسوگیس کااستعمال کیا،اس کے علاوہ ویڈیومیں پولیس کنارے کھڑی گاڑیوں پربھی لاٹھی برساتی نظرآئی ۔واضح ہوکہ کئی جگہوں سے مظاہرین پرمبینہ طورپرآرایس ایس ،بجرنگ دل کے عناصرکی طرف سے تشددکی خبریں آنی لگی ہیں،جوانتہائی تشویشناک ہیں۔اس سے پہلے کل بنگال میں پانچ مبینہ سنگھی پتھرباز تشدد کرتے ہوئے گرفتار ہوچکے ہیں ،اندیشہ ہے کہ صفوں میں گھس کریادوسری طرف ہوکرہندو،مسلم بنانے کے لیے یہ حرکتیں تیز کی جائیں گی اورپر امن مظاہرین کو بدنام کیاجائے گا۔ راشٹریہ جنتا دل کے بہار بند کو مہاگٹھ بندھن کی دیگر پارٹیوں اور مسلم تنظیموں نے حمایت کی تھی جس کی وجہ سے بہار بند کا نظارہ ریاست بھر میں نظر آیا۔ ٹرینیں روکی گئیں، سخت سردی میں کپڑے اتار کر مظاہرے کیے گئے ، مظاہرے کے دوران مودی امیت شاہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے، بسیں مکمل بند رہی جس کی وجہ سے عوام کو پریشانیوں اٹھانی پڑی۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو بذات خود مظاہرے میں شریک تھے ہزاروں حامیوں کے ساتھ مظاہرہ کررہے تھے، شمالی بہار کو پٹنہ سے جوڑنے والی گاندھی سیتو کو بھی مکمل طو رپر جام کردیا تھا۔ ویشالی کے بھگوان پور میں راجد کارکنان نے بہار بند کو لے کر مویشیوں کےساتھ ہائی وے این ایچ ۷۷ کو بند کردیا۔ اس درمیان مظاہرین ’’میں ودیشی نہیں ہوں اور این آر سی اور سی اے اے کی مخالفت کرتا ہوں کے نعرے لگائے۔ اورنگ آباد میں میں تقریباً ایک گھنٹے تک پتھرائو ہوا جس کی وجہ سے افراتفری مچ گئی اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔آر جے ڈی کے بند کے دوران کارکن صبح تقریباََ ساڑھے نو بجے پٹنہ کے راجندر نگر ٹرمنل کے پٹری پر لیٹ گئے، جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے آمدورفت میں خنہ پرا۔  دوسری طرف راجدھانی کے اہم ڈاک بنگلہ چوراہا اور انکم ٹیکس گولمبر کے نزدیک مظاہرہ کرکے ٹریفک میں رخنہ ڈالا گیا۔سیکڑوں کی تعداد میں آر جے ڈی کے جھنڈا۔بینر لئے کارکن ٹریفک پولیس پوسٹ پر چڑھ کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔حالانکہ اس دوران وہاں موجود پولیس نے کچھ دیر بعد ہی کارکنوں  کو حراست میں لے لیا۔ ادھر دارالحکومت دہلی میں بھی جگہ جگہ مظاہرے ہوئے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا وطالبات نے بھی اپنا احتجاج نویں دن جاری رکھا۔ اس درمیان طالبات نے قومی  گیت بھی گائی او رملک میں امن وشانتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےلیے عوام سے اپیل بھی کی۔طلبہ ہاتھوں میں تختیاں لے کر مظاہرے پر بیٹھے رہے اور قانون واپس لیے جانے کا مطالبہ کرتے رہے، اس پرامن مظاہرے میں بڑی تعدادمیں قرب وجوار کے عوام شریک ہوئے۔ یونیورسٹی کے مین گیٹ پر طلبہ وطالبات ’ہم لڑکے لیں گے آزادی اور انقلاب زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ وہیں پرانی دہلی  میں جمعہ کوہوئے مظاہرے کے دوران پندرہ ملزمین کو گرفتار کیاگیا ہے۔ اہل خانہ دریاگنج پولس اسٹیشن کے باہر ملنے کےلیے کھڑے رہے لیکن پولس نے ملنے نہیں دیا۔ ایک شخص نے کہاکہ میرا داماد دریاگنج کے پاس میری بیٹی کو چھوڑنے آیا تھا لیکن پولس نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ محمد سلیم نے کہاکہ میرا داماد مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا لیکن پولس اسے بھی گرفتار کرکے یہاںلے آئی اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہمیں بچوں سے بات تک نہیں کرنے دیاجارہا ہے۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے ہفتہ کو کہا کہ قومی راجدھانی دہلی کے تمام میٹروا سٹیشن پر  سروس  بحال ہو چکی ہے۔تمام اسٹیشنوں پر داخلی اور خارجی دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔ وہیں  بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کو یہاں جامع مسجد کے نزدیک سنیچر کی صبح  سویرے حراست میں لے لیا گیاتھا۔انہوں نے حراست میں لئے جانے سے قبل ٹوئٹ کرکے کہا کہ پولیس جامع مسجد کے سامنے گلی میں اپنے گھروں کے آگے پرامن طریقہ سے کھڑے لوگوں کو لاٹھی چارج اور مقدمہ درج کرنے کا خوف دکھارہی ہے۔ یہ پولیس کی تحریک کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش لگ رہی ہے۔انہوں نے ایک دیگر ویڈیویو ٹوئٹ میں کہا کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف آج بڑی لڑائی ہے۔ یہ قانون ملک کو توڑ دے گا۔ انہوں نے لوگوں سے پرامن طریقہ سے اپنی تحریک چلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی کسی ذات یا مذہب کے خلاف نہیں ہے بلکہ ملک کوبچانے کی ہے۔حکومت کو اس قانون کو واپس لینا ہوگا۔ ملک کو کمزور کرنے اور خاص طورپر دلتوں پسماندہ  لوگوں کے حق کو چھییننے کی سازش کی جارہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے معاملہ پر مدھیہ پردیش کے جبلپور میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران پتھراو کے واقعہ کے سبب شہر کے چار تھانہ علاقوں میں لگا کرفیو آج بھی جاری ہے۔ اس درمیان صورتحال پوری طرح کنٹرول میں ہے۔پولیس کے سرکاری ذرائع کے مطابق پتھراو کے واقعہ کے سبب کل شہرکے ہنومان تال اور گوہل پور تھانہ علاقہ کے پورے علاقہ میں اور کوتوالی کے ملونی گنج اور آدھار تال کے آنند نگر اور موہنی علاقہ میں احتیا ط کے طورپر کرفیو لگا یا گیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔ اس دورا ن حالات پولیس کے کنٹرول میں ہے۔ کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔شہریت ترمیمی قانون (سي اےاے) پر مختلف سیاسی  پارٹیوں اور تنظیموں کے  احتجاج و مظاہرہ  کو دیکھتے ہوئے کرناٹک کے منگلور میں احتیاطاً نافذ کرفیو کی مدت اتوار کی آدھی رات تک بڑھا دی  گئی ہے۔یہ قدم  لا اینڈ آرڈر کے علاوہ حالات کو  قابو میں  رکھنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ جمعہ کو کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ  کی اطلاع نہیں ہے۔وہیں تمل ناڈو میں خواتین اور طلبہ تنظیموں نے شہر کے سینٹرل ریلوے پر مظاہرہ کیا، سینکڑوں مظاہرین آئین مخالف قانون کے خلاف نعرے بازی کی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا اس دوران پولس اور مظاہرین میں جھڑپ بھی ہوگئی۔ وہیں کیرل کے کوجھی کوڑ میں کانگریسی کارکنان نے مظاہرہ کیا جس پر پولس نے پانی کی بوچھاڑیں کی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot