Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, December 17, 2019

جامعہ نگر تشدد : پولیس نے کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی آصف خان اور جامعہ کے تین طلبہ پر درج کی ایف آئی آر۔

جامعہ نگر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف 15 دسمبر کو مظاہرہ کے دوران ہوئے تشدد اور آتشزنی کے واقعات میں دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے ۔
نٸی دہلی /صداٸے وقت /ذراٸع/17 دسمبر 2019.
==============================
جامعہ نگر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف 15 دسمبر کو مظاہرہ کے دوران ہوئے تشدد اور آتشزنی کے واقعات میں دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے ۔ اس ایف آئی آر میں کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی آصف خان کا بھی نام شامل ہے ۔ آصف کے علاوہ کچھ مقامی لیڈروں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تین طالب علموں کا نام بھی ایف آئی آر میں بطور ملزم شامل کیا گیا ہے ۔

اس ایف آئی آر میں جامعہ کے تین
طلبہ ، تین مقامی لیڈر اور کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی کو پولیس نے ملزم بنایا ہے ۔ ایف آئی آر کے مطابق مقامی لیڈران آشو خان ، مصطفی اور حیدر کے علاوہ جامعہ کے طالب علم اور لیفٹ طلبہ تنظیم آئیسا کے چندر کمار ، اسٹوڈینٹ اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے ممبر اور جامعہ کے طالب علم آصف تنہا اور طلبہ تنظیم چھاتر یووا سنگھرش سمیتی کے قاسم عثمانی کو بھی بھیڑ کو بھڑکانے کے الزام میں ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے ۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آشو خان اور کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی گزشتہ دو تین دنوں سے طلبہ کو مشتعل کررہے تھے اور طلبہ کے درمیان گھوم گھوم کر نعرے بازی کررہے تھے ۔ ایف آئی آر میں مزید لکھا گیا ہے کہ این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے ۔ آگے پتہ چلا کہ مظاہرین نے آتش زنی کی اور پتھراو کیا ۔
اس سے پہلے جامعہ نگر علاقہ میں 15 دسمبر کی رات کو ہوئے ہنگامہ کے سلسلہ میں دہلی پولیس نے جن افراد کو گرفتار کیا تھا ، ان چھ ملزمین کو دہلی کی ساکیت کورٹ نے 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے ۔ پولیس نے جن افراد کو گرفتار کیا تھا ، ان پر اتوار کی رات ہوئے ہنگامہ میں شامل ہونے کا الزام ہے ۔ ان سبھی ملزمین کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot