Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, February 25, 2020

دہلی تشدد میں اب تک 20 لوگوں کی موت، پولیس نے کیا فلیگ مارچ،جامعہ ملیہ کے طلبا نے سی ایم اروند کیجریوال کے گھر کا کیا گھیراٶ۔۔ سیلم پور میں سدھرے حالات

شمال مشرقی دہلی  میں گزشتہ دودنوں میں شہریت ترمیمی قانون کو لیکر بھڑکے تشدد میں اب تک ٢٠ لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 56 پولیس اہلکار سمیت 200 لوگ زخمی بتائے جارہے ہیں۔ اس درمیا بجھن پورہ اور کھریجی خاص علاقے میں منگل کو آگ زنی اور پتھراؤ ہونے کے بعد پولیس نے فلیگ مارچ کیا۔

نٸی دہلی /صداٸے وقت /ذراٸع /26 فروری 2020.
=============================
شمال مشرقی دہلی  میں گزشتہ دودنوں میں شہریت ترمیمی قانون کو لیکر بھڑکے تشدد میں اب تک 18 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 56 پولیس اہلکار سمیت 200 لوگ زخمی بتائے جارہے ہیں۔ اس درمیا بجھن پورہ اور کھریجی خاص علاقے میں منگل کو آگ زنی اور پتھراؤ ہونے کے بعد پولیس نے فلیگ مارچ کیا۔ پولیس کے مطابق، سیلم پور میں حالات اب سدھرتے نظررہے ہیں۔ یہ صبح 4:30 بجے کے بعد  سے تشدد کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ وہیں پولیس نے بابرہور ، جعفرآباد اور گوکلپوری میں آمدورفت بند کر رکھا  ہے۔
وہیں سی ایم اروند کیجریال کی رہائش گاہ کے باہر دہلی تشدد کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے اور جلد سے جلد امن بحالی کی مانگ کررہے لوگوں کو پولیس نے ہٹا دیا ہے۔ پولیس نے طلبا۔طالبات پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔ بڑی تعداد میں طلبا سی ایم کی رہائش گاہ کے باہر   "کیجریوال آؤ ہم سے بات کرو" ے نعرے لگا رہے 
جامعہ کوآر ڈی نیشن کمیٹی اور علومنی ایسوسی ایشن آف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے منگل کی دیر رات ساڑھے 12 بجے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا اور الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین دنوں سے دارالحکومت میں کھلے عام تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں لیکن وزیر اعلی کی جانب سے کوئی ذمہ داری والا بیان نہیں آیا ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد میں ملوث غنڈوں کے خلاف کیجریوال کو سخت رد عمل ظاہر کرنا چاہئے۔
حراست میں لئے گئے طلباء کو سول لائن تھانے لے جایا گیا ۔ بعد میں حراست میں لئے گئے طلباء اور سابق طلباء کو چھوڑ دیا ہے ۔ ان میں سے کچھ زخمی ہیں جنہیں علاج کے لئے اسپتال لے جایا جا رہا ہے۔ کوآر ڈی نیشن کمیٹی نے تشدد کے خلاف آج جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کے لئے لوگوں سے بڑی تعداد میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔وہیں کشیدہ حالات کے درمیان قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے گزشتہ دیر رات شمال مشرقی دہلی کے پولیس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر موجودہ حالات کے بارے میں حکام سے معلومات حاصل کی اور متا ثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ واضح رہے کہ شمال مشرقی دہلی میں پیش آئے تشدد کے واقعات میں اب تک 13 افراد کی موت ہو گئی ہے اور 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ گزشتہ رات سے کسی بڑے تشدد کے واقعہ کی اطلاع نہیں ہے لیکن حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot