Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, February 8, 2020

پٹنہ: شہریت قانون کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہیں خواتین کے لئے میڈیا ورکشاپ

احتجاج کی قیادت کر رہیں خواتین کے حوصلہ کو بلند کرنے کے لئے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پٹنہ میں منعقد پروگرام کے ذریعہ خواتین کو بتانے کی کوشش کی گئی کہ وہ میڈیا کے سوالوں کا کس طرح سے جواب دیں۔

پٹنہ۔بہار۔۔/صداٸے وقت / ذراٸع /٨ فروری ٢٠٢٠۔
==============================
 سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے احتجاج میں قائد کے  طور پر کام کر رہی خواتین کے لئے پٹنہ میں میڈیا ورکشاپ منعقد کیاگیا۔ پروگرام میں میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے کے لئے خواتین کو جہاں تربیت دی گئی وہیں اس احتجاج کو مزید تیز کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ادھر حکومت کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی سی اے اے، این پی آر اور این آر سی پر چل رہا احتجاج ابھی تھما نہیں ہے بلکہ خواتین مزید اس تحریک کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہیں۔
پٹنہ میں آدھے درجن مقامات پر خواتین کا احتجاج جاری ہے۔ بہار میں ایک سو ۲۴ جگہوں پر خواتین کا احتجاج چل رہا ہے۔ پٹنہ میں سبزی باغ، لال باغ، عالم گنج، پھلواری شریف، سمن پورا، دیگہا میں شاہین باغ کے طرز پر احتجاج جاری ہے۔ احتجاج کے مقام پر روزانہ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد کو دیکھتے ہوئے میڈیا کی بھی اس پر نظر ہے۔ نتیجہ کے طور پر احتجاج کر رہی خواتین کو اس قانون کے تعلق سے مزید جانکاری دینے اور میڈیا کے سوالوں کا اچھا سے جواب دینے کے مقصد سے خواتین کے لئے پروگرام منعقد کیا گیا۔
احتجاج کی قیادت کر رہیں خواتین کے حوصلہ کو بلند کرنے کے لئے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پٹنہ میں منعقد پروگرام کے ذریعہ خواتین کو بتانے کی کوشش کی گئی کہ وہ میڈیا کے سوالوں کا کس طرح سے جواب دیں۔ ساتھ ہی اس احتجاج میں مزید تیزی لانے کے سلسلے میں کس طرح کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ  مولانا رضوان احمد اصلاحی کے مطابق میڈیا ورکشاپ کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی اس لئے یہ پروگرام منعقد کیاگیا ہے۔ اصلاحی نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے تعلق سے تفصیلی جانکاری فراہم کرائی گئی ہے تاکہ وہ کسی بھی طرح کے سوال کا بخوبی جواب دے سکیں۔
دراصل احتجاج کے مقام کی رپورٹنگ میں میڈیا کے کئی سوالوں پر خواتین کو اعتراض تھا، جماعت اسلامی نے اس مسلہ کو حل کرنے کے لئے میڈیا ورکشاپ منعقد کر جہاں اس قانون کے تعلق سے انہیں مزید جانکاری مہیا کرانے کی کوشش کی وہیں خواتین کو ہر طرح کے مسئلہ کا سامنا کرنے کے لئے بھی مفید مشورہ دیا گیا۔ سماجی کارکن شائستہ، ڈاکٹر زیبائش فردوس، اور آفرین نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام کافی کامیاب رہا۔ پروگرام کے ذریعہ انہیں کم الفاظ میں اپنی بات کہنے اور واضح طور پر جواب دینے کا طریقہ بتایاگیا۔ خواتین نے کہا کہ وہ موجودہ قانون کو سبھی سماج کے لئے ایک خطرہ تصور کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لڑائی کسی حکومت سے نہیں ہے بلکہ ان کی جدوجہد آئین کی حفاظت کے لئے ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot