Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, February 4, 2020

ملک بھر میں این آر سی کا اطلاق نہیں کیا جا رہا: وزیر مملکت براٸے داخلہ کا لوک سبھا میں تحریری بیان۔

مرکزی حکومت نے پارلیمان کے ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کو تحریری طور پر مطلع کیا ہے کہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جس کے تحت ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف سیٹیزن (این آر سی) کا اطلاق کیا جائے۔

نٸی دہلی /صداٸے وقت /ذراٸع / 4 فروری 2020
=============================
لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران وزیرِ مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے کا کہنا تھا کہ حکومت نے تاحال این آر سی سے متعلق کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
اخبار ْٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق ارکان پارلیمان چندن سنگھ اور ناگیشور راؤ نے این آر سی پر سوالات اٹھائے تھے
ارکان نے حکومتی وزرا سے سوالات کیے تھے کہ کیا حکومت پورے ملک میں این آر سی کا اطلاق کرنے جا رہی ہے؟ اور اگر حکومت ایسی کوئی منصوبہ بندی کر رہی ہے تو اس کی تاریخیں کیا ہوں گی؟
وزیر مملکت برائے داخلہ نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ حکومت نے ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کہ ملکی سطح پر  شہریوں کے لیے این آر سی کے اطلاق کی تیاری کی جائے۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت کا یہ جواب ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب ملک کے مختلف شہروں میں متنازع شہریت کے قانون سٹیزن ایمنڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
 میڈیا کے تبصروں کے مطابق حکومت کے ایوان میں جمع کرائے گئے اس جواب سے ملک بھر میں احتجاج کی لہر کسی حد تک کم ہونے کا امکان ہے۔
 نشریاتی ادارے 'انڈیا ٹوڈے' کی رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ مودی حکومت میں ہی 2024 تک ملک بھر میں این آر سی کا اطلاق کر دیا جائے گا۔
لیکن  وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس معاملے پر کہا تھا کہ ایسے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں ملک میں انتشار کے لیے اس طرح کی افواہیں پھیلا رہی ہیں۔
وزیر داخلہ امیت شاہ اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ حکومت نے این آر سی سے متعلق فی الحال کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔
یاد رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے تحت وہ افراد جو 2014 یا چھ سال قبل پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مذہبی بنیادوں پر 'تنگ' کیے جانے کے باعث بھارت منتقل ہوئے، اُنہیں شہریت دی جائے گی۔
مبصرین کے مطابق سی اے اے کی منظوری کے بعد این آر سی کے ملک گیر اطلاق کو بھی مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کا عمل قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تجزیہ کار بھی اس عمل کو بھارت کی سیکولر شناخت کے خلاف قرار دیتے رہے ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے این آر سی کا اطلاق معطل کرنا شہریوں کے شدید احتجاج اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی تنقید کے باعث ہوا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot