Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, March 21, 2020

مرکز نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے کہا، سی اے اے کسی بھی بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں کرتا

مرکز نے اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ شہریت قانون کسی ہندوستانی  سے متعلق  نہیں ہے۔ کیرل اور راجستھان کی حکومتوں نے اس کے آئینی جواز کو چیلنج  دیتے ہوئے آرٹیکل 131 کے تحت عرضی  دائر کی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو لےکر اب تک 160عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں۔

نٸی دہلی /صداٸے وقت /ذراٸع ۔
==========================
نئی دہلی: مرکز نے منگل کو سپریم کورٹ میں دعویٰ کیا کہ شہریت قانون، 2019 آئین  میں درج کسی بھی بنیادی حق  کی  خلا ف ورزی  نہیں کرتا ہے۔مرکز نے اس قانون کے آئینی جواز کو چیلنج  دینے والی عرضیوں  پر اپنے 129 پیج کے جواب میں شہریت قانون کو قانونی  بتایا اور کہا کہ اس کے ذریعے کسی بھی طرح کے آئینی جواز کی خلاف ورزی ہونے کا سوال ہی نہیں۔
مرکز نے اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ شہریت قانون کسی ہندوستانی  سے متعلق  نہیں ہے۔ کیرل اور راجستھان کی حکومتوں نے اس کے آئینی جواز کو چیلنج  دیتے ہوئے آرٹیکل 131 کے تحت عرضی  دائر کی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو لےکر اب تک 160عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں۔احمد آباد میں ہوئے ایک پروگرام میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)نئی دہلی: مرکز نے منگل کو سپریم کورٹ میں دعویٰ کیا کہ شہریت قانون، 2019 آئین  میں درج کسی بھی بنیادی حق  کی  خلا ف ورزی  نہیں کرتا ہے۔مرکز نے اس قانون کے آئینی جواز کو چیلنج  دینے والی عرضیوں  پر اپنے 129 پیج کے جواب میں شہریت قانون کو قانونی  بتایا اور کہا کہ اس کے ذریعے کسی بھی طرح کے آئینی جواز کی خلاف ورزی ہونے کا سوال ہی نہیں ہے۔حلف نامے میں مرکز نے کہا ہے کہ یہ قانون عاملہ کو کسی بھی طرح کی  من مرضی  اور لا محدود اختیار فراہم نہیں کرتا ہے کیونکہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں استحصال  کا شکار ہوئے اقلیتوں کو اس قانون کے تحت جائزطریقے سے ہی شہریت  دی جائےگی۔مرکز کی جانب سے وزارت داخلہ  میں ڈائریکٹر بی سی جوشی نے یہ حلف نامہ داخل کیا ہے۔لائیولاء کے مطابق مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا  ہے کہ سی اےاے کسی شہری کے کسی بھی موجودہ حق  کو متاثر نہیں کر رہا ہے۔ یہ ان کے قانونی،جمہوری یا سیکولرحقوق  کومتاثر نہیں کرےگا۔ یہ پارلیامنٹ کی خودمختاریت سے جڑا معاملہ ہے اور عدالت کے سامنے اس پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot