Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, March 29, 2020

کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟۔۔۔۔۔۔دلچسپ تجزیہ۔

دنیا کو کورونا وائرس کی وجہ سے جنگی صورتحال کا سامنا ہے اور اس بحران پر قابو پانے کی حتیٰ الامکان کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ایسے پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں جو عام آدمی کی سوچ سے بالاتر ہیں۔

صداٸے وقت /ذراٸع۔
==============================
کورونا وائرس نے دنیا بھر میں نظام زندگی کو متاثر کیا ہے، دنیا بھر میں کاروبار بند پڑے ہیں اور حکومتوں کی کارکردگی کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔ ایسے میں دنیا کے نامور مفکر اور دانشور یہ سوچ رہے ہیں کہ کورونا کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟
فارن پالیسی میگزین نے لکھا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے بحران کی وجہ سے ہمارے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے۔ ان حالات میں میگزین نے دنیا کے جانے مانے مفکروں سے پوچھا ہے کہ عالمی وبا کے بعد دنیا کا نظام کیسے چلے گا؟
کیا امریکہ لیڈرشپ کے امتحان میں فیل ہوگیا ہے؟ کیا دنیا میں نئی طاقتیں ابھریں گی اور امریکہ کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا؟ 
کیا گلوبلائزیشن کا خاتمہ ہو جائے گا یا اس کی باگ ڈور چین کے ہاتھ میں آ جائے گی۔ کیا دنیا میں مزید ناکام ریاستیں جنم لیں گی اور جنگیں چھڑ جائیں گی؟

’امریکہ اب دنیا کا لیڈر نہیں کہلائے گا‘

امریکی انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سڈیز کے ڈائریکٹر جنرل کوری شیک کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اپنی حکومت کے تنگ نظر مفادات اور نااہلی کی وجہ سے دنیا کا لیڈر نہیں کہلائے گا۔ وبا کے اثرات کو بین الااقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے دنیا تک جلد معلومات پہنچا کر کم کیا جا سکتا تھا جس سے حکومتوں کو اس سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنے کا وقت ملتا۔ یہ ایسی چیز تھی جو امریکہ کر سکتا تھا لیکن اس نے ظاہر کیا ہے کہ اسے صرف اپنے مفاد سے غرض ہے۔ امریکہ اس امتحان میں ناکام ہو گیا ہے۔‘
کیا طاقت کی منتقلی مغرب سے مشرق کی طرف ہونے جا رہی ہے؟
ہاورڈ یونیورسٹی میں بین الااقوامی تعلقات کے پروفیسر سٹیفن ایم والٹ کا کہنا ہے کہ ’کورونا وائرس سے طاقت اور اثرو رسوخ کی مغرب سے مشرق منتقلی میں تیزی آئے گی۔ جنوبی کوریا اور سنگاپور نے اس سے بہترین طریقے سے نمٹنا ہے، چین نے ابتدائی طور پر کچھ غلطیاں کرنے کے بعد بہت اچھا ردعمل دیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’امریکہ اور یورپ کا ردعمل سست اور افراتفری پر مبنی رہا ہے جس سے دنیا کے سامنے مغرب کا تاثر اچھا نہیں ابھرا۔‘ پروفیسر سٹیفن نے مزید لکھا ہے کہ ’مختصر یہ ہے کہ کووڈ 19 ایسی دنیا تخلیق کرے گا جو کم خوشحال، کم کھلی اور کم آزاد ہوگی۔ ایسا نہیں ہونا تھا لیکن مہلک وائرس، نامناسب منصوبہ بندی اور نااہل قیادت نے دنیا کو ایک نئے اور فکر انگیز راستے پر ڈال دیا ہے۔‘

کیا گلوبلائزیشن کا خاتمہ ہوجائے گا؟

چیتھم ہاؤس کے ڈائریکٹر روبن نبلیٹ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا عالمی معیشت کے لیے تنکے سے اونٹ کی کمر توڑنے کے برابر ثابت ہو سکتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’چین کی بڑھتی ہوئی فوجی اور معاشی طاقت نے امریکہ میں اس بحث کو پہلے ہی جنم دے دیا ہے کہ چین کو امریکی ہائی ٹیکنالوجی اور انٹلیکچول پراپرٹی حاصل کرنے سے روکا جائے اور اتحادیوں کو بھی یہ راستہ اختیار کرنے کا کہا جائے۔‘
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ایشیا ریسرچ انسٹیٹوٹ کے فیلو کشور ماہببانی نے لکھا ہے کہ ’کورونا وائرس عالمی معاشی سمت کو تو نہیں بدلے گا لیکن وہ اس تبدیلی کو ضرور ہوا دے گا جس کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے یعنی گلوبلائزیشن کی باگ ڈور امریکہ کے بجائے چین کے ہاتھ میں آجائے گی۔‘
کیا دنیا میں اور ناکام ریاستیں جنم لیں گی؟
بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ اور سابق امریکی فور سٹار جنرل جون ایلین نے لکھا ہے کہ ’جیسے ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ کورونا وائرس کی تاریخ وہ لکھیں گے جو اس سے بچ پائیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے سیاسی اور معاشی نظام اور صحت کے نظام کی وجہ سے کامیاب ہوں گے جبکہ کچھ ممالک کے لیے یہ الٹ ثابت ہوگا انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’دنیا کے طاقت کے نظام میں میں وہ تبدیلیاں آئیں گی جن کے بارے میں ہم ابھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ کورونا وائرس سے معاشی نظام کمزور ہوگا اور دنیا میں ممالک کے اندر اور باہر کشمکمش بڑھے گی۔‘
کونسل آف فارن ریلیشن کے سربراہ رچرڈ این ہاس کا کہنا ہے کہ ’میں توقع کر رہا ہوں کہ بہت سارے ممالک کو اس بحران سے نکلنے میں مشکل پیش آئے گی جس سے دنیا میں مزید ناکام ریاستیں جنم لیں گی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot