Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, April 1, 2020

کورونا وائرس: مشرق وسطیٰ پر منڈلاتا ہوا ٹائم بم۔ایک تجزیہ ۔

تجزیہ /بی بی سی اردو /صداٸے وقت۔
==============================
تاریخ شاہد ہے کہ جنگوں اور موذی امراض نے دنیا میں خوب تباہی مچائی ہے اور جس طرح کورونا وائرس آہستہ آہستہ مشرق وسطیٰ میں اپنے قدم جما رہا ہے اس کے خطے میں انسانی اور سیاسی سطح پر تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔
مغربی طرز پر قائم صحت عامہ کے نظام ابھی سے مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں صحت عامہ کے نظام کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جیسا کے یورپ اور امریکہ میں صحت کے نظام کو درپیش ہیں۔
کورونا کی وبا نے ایران کو جھنجھوڑ کر رکھا دیا ہے اور وہاں مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، حالانکہ کئی ماہرین کو اب بھی ایران میں کورونا سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر اعتبار نہیں ہے۔
مشرق وسطیٰ کے کچھ اپنے مخصوص مسائل ہیں جو اس وبا سے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس خطے میں لوگوں کی زندگیوں میں مذہب کا عمل دخل کافی زیادہ ہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ایسے معاشرے جہاں مذہبی اثر و رسوخ زیادہ ہے انھیں خود کو حالات کے ساتھ ڈھالنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کے فرقے ہاردی نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ہدایت پر عمل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور اسی وجہ سے اس فرقے کے لوگوں کی کورونا وائرس کے ہاتھوں ہلاکتوں کی تعداد دوسرے طبقوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح عراق اور شام کے شیعہ زائرین جو ایران میں زیارتوں کے بعد اپنے ملکوں کو لوٹے ہیں ان میں کورونا وائرس پایا گیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسی زیارتیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کو کورونا کے بحران کے علاوہ ایک معاشی بحران کا بھی سامنا ہے۔ سعودی عرب اور روس میں تیل کی قیمتوں پر جاری جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر چکی ہیں جس سے خطے کی معاشی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی اکثر حکومتوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ دباؤ کا شکار صنعتوں کو سہارا دے سکیں۔
لیکن اس سب سے بڑھ کر وہ جنگیں ہیں جو خطے میں لڑی جارہی ہیں جس سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہے جہاں صورتحال انتہائی گھمبیر ہو سکتی ہے۔
شام، لیبیا اور یمن ناکام ریاستوں میں بدل چکے ہیں اور ان کے پاس وسائل محدود ہیں اور صحت کا نظام تباہی کا شکار ہے۔ شام میں باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں حکومتی افواج اور ان کی حلیف روسی افواج صحت کی سہولتوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔
اسی وجہ سے امدادی ادارے اب عالمی مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔
کورونا پھیلاؤ کا مرکز
شام کی حکومت نے 23 مارچ کو پہلی بار ملک میں کورونا کے مریض کی تصدیق کی ہے۔ ابھی تک جنگ زدہ علاقے ادلب میں کورونا کے کسی مریض کی تصدیق نہیں ہوئی اس کی شاید وجہ ٹیسٹ کرنے کی سہولت کی عدم موجودگی ہے۔
عالمی ادارے میڈیسن سانسز فرنیٹئر (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کی وبا خطے میں تیزی سے پھیل سکتی ہے، خصوصاً بنیادی سہولتوں سے عاری پناہ گزینوں کے کیمپوں میں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد رہنے پر مجبور ہے۔
ایم ایس ایف نے شام کے اندر کیمپوں میں رہنے والے لوگوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے بلکہ تنظیم کو خدشہ ہے کہ ایسے لوگ جو جنگ زدہ علاقے سے بھاگ کر سرحد پار ترکی چلے گئے اور انھیں وہاں کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے، ان کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ریفویجی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق، شام، لبنان اور ترکی میں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں
ریفویجی انٹرنیشنل گروپ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں دنیا بھر میں بے گھر افراد کی جانوں کو لاحق خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ ریفویجی انٹرنیشنل کے نائب صدر ہارڈن لینگ نے کہا ہے کہ اس عالمی وبا کے دوران ہمیں ان بے سہارا افراد کو نہیں بھولنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کی حکومتیں یقیناً اپنے شہریوں کے تحفظ پر توجہ دینے میں حق بجانب ہیں لیکن مشکل کی اس گھڑی میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات سب کے لیے ہونے چاہییں۔
انھوں نے کہا کہ دنیا میں ستر لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور اگر ہم نے مشکل کی اس گھڑی میں ان بے سہارا افراد کو نظر انداز کیا تو ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی مدد کرنا جنھیں مدد کی اشد ضرورت ہے، وہ ایک راست اقدام ہو گا۔
ایسے وقتوں میں جب ترقی یافتہ ممالک جہاں کاروباری سرگرمیاں کافی زیادہ ہیں، انھیں بھی صورتحال سے نمٹنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں تو تمام انسانوں کے لیے امدادی کارروائیاں یقیناً مشکل ہوں گی اور یہ مسئلہ مشرق وسطیٰ میں زیادہ شدید ہے۔
ریفویجی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق، شام، لبنان اور ترکی میں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ خطے کے ممالک میں صحت عامہ کا نظام تباہ حال ہے اور کورونا کی وبا کے خطرے سے نمٹنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔
ریفویجی انٹرنیشنل نے خاص طور پر شام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے جہاں سے 56 لاکھ لوگ ملک کو چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ 65 لاکھ لوگ ملک کے اندر ہی در بدر ہو چکے ہیں۔ ان تمام لوگوں کو صحت کی مناسب سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر جن میں سماجی دوری جیسی ہدایت پر عمل درآمد مشکل ہو گا کیونکہ کیمپوں میں رہائش پذیر بےگھر پہلے ہی تنگ جگہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ایسی جگہیں جو مکمل طور پر جنگ کی زد میں نہیں ہیں وہاں بھی کورونا وائرس کے ممکنہ بحران کا امکان موجود ہے۔ اس کی ایک مثال اسرائیل کے زیر تسلط غزہ کی پٹی، اور غرب اردن کا علاقہ ہے۔
فلسطینی اتھارٹی جو غرب اردن کے چالیس فیصد حصے کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے اسے بھی کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے میں مشکلات کاسامنا ہے۔اس طرح کے خدشات ہیں کہ اسرائیل اور غرب اردن کے قریبی معاشی تعلقات کی وجہ سے وہاں کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔
لیکن غزہ کی پٹی کی گنجان آبادی کو ایک مختلف قسم کے خطرے کا سامنا ہے۔ غزہ کی پٹی کی آبادی کو پہلے ہی تنہائی میں رکھا گیا ہے اور اسرائیل اور مصر نے اس کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔ دونوں اسرائیل اور مصر غزہ کے محاصرے کو سکیورٹی کا ایک قدم قرار دیتے ہیں۔
غزہ کی پٹی کے حوالے سے عالممی برادری اور اسرائیل کے مابین ایک لمبی بحث جاری ہے۔ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی سے نکل چکی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ وہ اب وہاں ہونے والے واقعات کے ذمہ دار نہیں ہے اور یہ حماس کی ذمہ داری ہے۔
لیکن اگر کورونا وائرس کی وبا غزہ کی پٹی میں پھیل گئی تو اسرائیل کے لیے مشکل ہوجائے گا کہ وہ اس دلیل کا سہارا لے سکے خصوصاً ایسی صورت میں جب وہ باہر سے غزہ کو کنٹرول کرتا ہے۔
اسی لیے فلسطینوں اور امدادی ایجنسیوں کی طرف سے ایک بار پھر غزہ کا اسرائیلی محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تنازعوں کے اختتام کے امکانات معدوم
یہ بہت ہی اچھا ہوگا اگر تمام فریق اپنی رقابتوں کو ایک طرف کر کے کورونا کے اس عالمگیر بحران سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کریں۔ اسرائیل نے خاموشی سے کچھ سازو سامان غرب اردن میں منتقل کیا ہے اور میڈیکل کے عملے کو کچھ کورسز بھی کروائے جا رہے ہیں۔
لیکن خطے کے تنازعوں کو ایک طرف کرنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ یمن کے متحرب گروہوں نے بظاہر ایک جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے لیکن اس پر ابھی عمل درآمد شروع نہیں ہوا ہے اور چند روز پہلے ہی سعودی عرب کے ٹھکانوں پر میزائل حملے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی پابندیوں میں کمی ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ کئی امریکی ماہرین کے مطابق ایران پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے لیے ایسے میڈیکل آلات کا حصول بہت مشکل ہو گیا ہے جو کورونا وائرس سے نمنٹے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف اس کے برعکس ہے۔
اگر آپ امریکہ کے دائیں بازو کے ماہرین کو غور سے سنیں تو ایسا پیغام ملتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کورونا کی وبا ایرانی حکمرانوں کی شہرت کو مذید داغدار کر دے گی اور یہ ایران کے مذہبی حکمران کے کفن میں ایک اور کیل ثابت ہو گا۔
کیا ٹرمپ انتظامیہ ڈارون کے نظریے پریقین رکھتی ہے؟ یقیناً وہ اس کا کھلے عام اظہار تو نہیں کریں گے لیکن ایک بات تو واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس بحران کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے بند دروازے کھولنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے۔
ریفویجی انٹرنیشنل نے خاص طور پر شام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے جہاں سے 56 لاکھ لوگ ملک کو چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ 65 لاکھ لوگ ملک کے اندر ہی در بدر ہو چکے ہیں
کورونا کے عالمگیر بحران نے ایک سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر کورونا وائرس خطے میں پاؤں جما گیا تو اس کے خطے پر دور رس نتائج ہوں گے۔ خطے میں چند حکومتوں کے پاس ہی مناسب حق حکمرانی ہے اور نوجوانوں کی خواہشات سے اٹھنے والی بہارِ عرب یا عرب سپرنگ کا خون ہو چکا ہے۔ بہار عرب تو دب چکی ہے لیکن وہ تناؤ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے جس نے عرب سپرنگ کو جنم دیا تھا۔
کورونا کی وبا نے جمہوری اسرائیل میں بھی آئینی بحران کو جنم دیا ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کی ضرورت نے اپوزیشن رہنما بینی گینٹز کو نتن یاہو کی سربراہی میں بننے والی مخلوط حکومت کا حصہ بننے پر مجبور کیا ہے حالانکہ انھوں نے ہمیشہ کہا تھا کہ وہ کبھی ایسی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ شاید اسی وجہ سے ان کی پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔
عدالتوں کے بند ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم نتن یاہو کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت رک گئی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا عہدہ برقرار رکھ پائیں گے۔
انسانی تاریخ پر جنگوں اور وبا کے گہرے نقوش موجود ہیں۔ بدقسمتی سے ہم انسانی تاریخ کے ایسے ہی دور کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ کورونا کی وبا مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی افراتفری میں مبتلا کر سکتی ہے جس میں کسی بہتری کا تصور بھی محال ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot