Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, May 26, 2020

سال ‏2020 ‏کی ‏عید ‏پر ‏ایک ‏خوب صورت ‏نظم ‏بعنوان ‏” ‏عید ‏“

از / خواجہ محمد عارف / صداٸے وقت
============================
اب کے دنیا میں عجب ڈھنگ سے عید آئی ھے۔
کوئی تکبیر، نہ تہلیل و جبیں سائی ھے۔

ہُو کا عالم ھے، اداسی کے ہیں ڈیرے ہر سو۔
وحشت و خوف کا ماحول ھے، تنہائی ھے۔

دیکھنے چاند کو نکلا نہ کوئی چاند کہیں۔
نہ کوئی زلف کسی بام پہ لہرائی ھے۔

کوئی عیدی، نہ مٹھائی، نہ کھلونے، اے عید۔
نونہالوں کےلئے تحفے میں کیا لائی ھے۔

منہ چھپائے ہوئے جو دُور سے کرتا ھے سلام۔
اجنبی سمجھا تھا جس کو وہ میرا بھائی ھے۔

عید پر روٹھے ہوؤں سے بھی گلے ملتے ہیں۔
اب کے پیاروں سے بھی دُوری میں یہ دانائی ھے۔

ایسے کترا کے نکلتے ہیں گھروں سے جیسے۔
اپنی دہلیز نہیں، کوچۂ رسوائی ھے۔

یوں ھے احباب سے کچھ شوقِ ملاقات کا حال۔
پیش قدمی میں تذبذب بھری پسپائی ھے۔

دبکے بیٹھے ہیں سبھی جیسے قفس میں بلبل۔
کوئی محفل، نہ کوئی انجمن آرائی ھے۔

چار جانب تو ھے بےرنگ وبا کی آندھی۔
سر پہ افلاس کی بھی سرخ گھٹا چھائی ھے۔

ساری دنیا میں کرونا ہی ھے موضوعِ خبر۔
ساری دنیا میں ہر اک چیز کرونائی ھے۔

مبتلا خوف میں ھے وہ جو ابھی ھے محفوظ۔
وہ بھی بیمار ھے جس جس نے شفا پائی ھے۔

ھے دعا بھیج کسی عیسیؑ نفس کو یا رب۔
خلق سب منتظرِ دستِ مسیحائی ھے۔

خواجہ محمد عارف۔

Post Top Ad

Your Ad Spot