Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, May 18, 2020

مظلومیت ‏کی ‏بنیاد ‏پر ‏قوموں ‏کی ‏قیادت ‏نا ‏ممکن ‏۔۔

از/ طارق شمیم /صداٸے وقت / ١٨ مٸی 2020.
==============================
اقلیت و اکثریت کے فلسفے میں الجھے مسلم نوجوانو، 
مایوسی کو کفر کہا گیا ہے۔ آج تمھاری قوم کو امید کی ضرورت ہے۔تم اپنوں کے ساتھ دوسروں کی بھی امید بننے کی کوششیں شروع کردو، خدا تعالیٰ تمھاری منزلیں آسان کریں گے۔
★کیا غجیب بات ہے کہ 72برس سے تمام مسلم لیڈران مسلمانوں کو انکی مظلومیت کا قصہ سنا کر اپنی سیاسی قیادت کھڑی کرنے میں لگے ہیں۔ جبکہ یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کمزور اور پٹی ہوئ قوم کے کسی لیڈر یا تنظیم کے پیچھے دوسرے لوگ چلنا تو دور برابر میں کھڑے ہونا بھی گوارہ نہیں کرتے۔
★دوسری جانب امت مسلمہ میں ایک اور مزاحیہ منظر ہے، وہ یہ کہ سرکاری ظلم و ستم کےشکار اکثر مسلمان بے چارگی کے ماحول میں مسلمانوں کے نزدیک ہمدردانہ شہرت پاتے ہی قوم کے لیڈر بن جاتے ہیں اور آنے والے پہلے ہی الیکشن میں حکومت کے خلاف تال ٹھوک کر لال قلع فتح کرنے لگتے ہیں جبکہ انھیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ، "الیکشن اقتدار کی منزل کا آخری معرکہ ہوتا ہے"۔جو بڑی تیاریوں، تربیت یافتہ ورکرس کی فوج اور مضبوط وسائل کے ساتھ دوسری قوموں سے ووٹوں کے لین دین کی گارنٹی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
باوجود اس کے یہ مسخرہ پن مسلم معاشرے میں علماء شرفاء اور دانشوروں کے ایک مخصوص طبقے کی جانب سے گاہے بگاہے دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔بہر حال! 
★اب جبکہ یہ واضح ہے کہ مظلومیت کے بکھان کی بنیاد پر نہ تو مسائل سے نجات ملتی ہے اور نہ ہی اقتدار میں جائز حصہ داری۔لہٰذا اللہ کی جانب سے نفع بخش قرار دی گئ قوم کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے منصب کو پہچانیں اور نفع خور ی کے مزاج کو ترک کر کے اپنے دکھوں پہ صبر اور تمام قوموں کے مظلوم انسانوں کے لئے انصاف کی جد وجہد کو اپنا نصب العین بنا لیں۔
★چونکہ میدان سیاست میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسلہ تعداد کی کمی ہے جسے پورا کرنے کی جو کچھ کو ششیں ماضی میں کی جانی چاہئےتھیں وہ نہ ہو سکیں تو پرکھوں کی شکایت کرنے کے بجائے موجودہ دور کے زندہ لوگ اسے اب کر لیں۔ چونکہ ۔۔۔۔،
★اس ملک کی بہت سی غیر مسلم قومیں اب بھی ایسی ہیں جو سنگھ پریوار کی بدمعاشیوں سے عاجز ہیں۔
جن میں بیک ورڈ فورم اور امبیڈکروادیوں کے کئ طبقے اور تنظیمیں مسلمانوں کے منصفانہ ساتھ کی منتظر ہیں۔ لہٰذا پہلے خود کو منظم کریں اور انھیں برابری و مساوات کی بنیاد پر جوڑ لیں،تعداد ڈبل ہو جائیگی تو فٹکر قومیں اپنے نفع نقصان کے مد نظر خود بہ خود ساتھ آئیںگی۔ انشاللہ۔ 
(طارق شمیم، پھولپور اعظم گڑھ) 

Post Top Ad

Your Ad Spot