Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, May 10, 2020

جمیعتہ ‏علماٸے ‏ہند ‏کی ‏کوشش ‏رنگ ‏لاٸی۔۔کورانٹاٸن ‏سینٹر ‏سے ‏تبلیغی ‏جماعت ‏کے ‏ممبران ‏اپنے ‏گھر ‏جانے ‏لگے۔


جماعتی احباب کی خدمت اور ان کو گھر تک پہنچانے میں مدد جمعیت علماء کے خدام کے لیے باعث سعادت  

نئی دہلی،۱۰/مئی۲۰۲۰ء/صداٸے وقت 
==============================

تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد جو پچھلے چالیس دنوں سے دہلی کے مختلف کورینٹائن سینٹرس میں اپنی چھٹی کا انتظار کررہے تھے،جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے بالآخر ان کے وطن پہنچنے کی راہ ہموارہوگئی ہے۔اس سلسلے میں ڈی ڈی ایم اے کی ہدایت کے بعد دہلی سرکار نے اپنی ریاست میں رہ رہے تبلیغی جماعت کے ارکان کو ڈسچارج کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔اب تقریبا دو ہزار سے زائد تبلیغی کارکنان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے وطن واپس جائیں۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی نگرانی میں جمعیۃ کی ایک اسپیشل ٹیم ان کو ان کے گھر تک پہنچانے کے انتظام میں لگ گئی ہے۔

چنانچہ اس کے تحت مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کی سربراہی میں ایک ٹیم نے وز یر آباد، منڈولی اور سلطانپوری کے کورینٹائن سینٹرس پہنچ کر ڈسچارج کیے گئے تبلیغی کارکنان سے ملاقات کی اور ان کو گھرکے لیے رخصت کیا۔تمل ناڈو وغیرہ کی جماعت کے لوگوں کو ٹرین کے نظام سے ہی گھر بھیجا جا سکتاہے، تمل ناڈو کے پانچ سو ترپن لوگ دہلی میں ہیں، ان کی واپسی سے متعلق دفتری امور میں تیزی لانے کے لئے بھی جمعیۃ علماء کی ٹیم دہلی کے متعلقہ ڈی ایم سے رابطے میں ہے۔اسی طرح بہار، یوپی، اڈیشہ وغیرہ سے متعلق تبلیغی کارکنان کو بھی گھر پہچانے کا نظام بنایا جا رہاہے۔

 جمعیۃ علماء کے ذمہ داروں نے جب تبلیغی کارکنان کو یہ بتایا کہ ان کی چھٹی کا پروانہ لے کر وہ پہنچے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے، کورینٹائن سینٹر کے اذیت خانے سے نکلناان کے لیے ایک بشارت تھی۔ رمضان المبارک کے موقع پر اور پھر کروناوائرس کے خوف کے سائے میں اپنے عزیزوں سے الگ ہو کر رہنا ایک کربناک تجربہ ثابت ہوا۔اپنی خدمت کے دوران تبلیغ سے وابستہ ایسی بہت ساری خواتین تھیں جنھوں نے جمعیۃ علماء ہند سے استدعا کی کہ ان کے شوہر کو دوسری جگہ پر اور ان کو دوسری جگہ رکھا گیا ہے، جماعت میں زیادہ تر گھریلو خواتین ہوتی ہیں، جو اپنے اعزا کے بغیر باہر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتیں،وہ انتہائی غمزدہ اور پریشان تھیں، بعد میں جمعیۃ علماء کی کوشش سے وہ اپنے شوہروں کے کورینٹائن سینٹرس ٹرانسفر کردی گئیں۔اسی طرح وزیر آباد، منڈولی سینٹرس میں کھانے پینے ،افطار اور سحری وغیرہ کو لے کرکئی طرح کی دشواریاں تھیں،وہاں پر بھی جمعیۃ علماء،رمضان کے پہلے دن سے افطار و سحری پہنچا رہی ہے۔
اب جب کہ وہ رہا ہوئے ہیں یہ ہمارے لیے سعادت کی بات ہے کہ ہم ان کو گھر تک پہنچانے کا انتظام کریں۔ جماعت کے زیادہ تر لوگ سادہ لوح اورلاگ لپیٹ سے بے پروا ہوتے ہیں، ان کی سادگی ہی کئی مرتبہ ان کے لیے پریشانی کا باعث بنی، ان کی سادگی کوعیاری سمجھا گیا اور ان کی تذلیل کا کوئی موقع نہیں چھوڑا گیا۔ ان تمام حالات میں جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ  متاثرین کی مدد کی ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ جمعیۃ علماء لاک ڈاؤن کے اس دور میں ملک اور قوم کی ہر ممکن خدمت کرتی رہی ہے،ضرورت مندوں تک راشن اور کھانا پہنچانے کو ملک گیر سطح پر اس نے مہم کے طور پر لیا ہے۔آج جماعت کے احباب کو رخصت کرنے کے وقت جو لوگ موجود تھے ان میں مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مولانا غیور احمد قاسمی، مولانا عرفان قاسمی، مولانا جمال قاسمی، وعظ امن، مولانا دلشاد سلطانپور ی دہلی،حاجی محمد نسیم،مولانا اسجد قاسمی پسونڈہ وغیرہ کے نام شامل ہیں

نیاز احمد فاروقی
سکریٹری جمعیت علماء ہند

Post Top Ad

Your Ad Spot