Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, July 8, 2020

کفایت ‏شعاری ‏بہت ‏ساری ‏پریشانیوں ‏کا ‏علاج ‏ہے۔

از/ ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی /صداٸے وقت 
==============================
ہمارے معاشرے کا ایک سنگین مسٸلہ غریبی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین مسٸلہ فضول خرچی اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر کام کرنا ہے ۔ چوں کہ بہت بڑے پیمانے پر بے شعوری اور جہالت عام ہے اس لیے اہل علم و دانش کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بہت معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی رہنماٸی کریں ۔ بہت بہتر ہوتا کہ اصحاب مال و دولت معاشی فراوانی کے باوجود زندگی کے تمام امور میں سادگی ,قناعت اور کفایت شعاری کی راہ اختیار کرکے پورے معاشرے کو عملی پیغام دیتے لیکن ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔
یہ تو قبول کیا جاسکتا ہے کہ اللہ نے جاٸز ذراٸع سے کشادگی عطا کی ہے تو اس کا کسی حد تک اظہار ہو مگر جو لوگ تنگ دست ہیں ان کے لیے تو کسی طور بھی مناسب نہیں ہے کہ قرض لے کر , دست سوال دراز کرکے وہ کام کریں جن سے بچنا چاہیے یا بچا جاسکتا ہے ۔ مجبوری ہو تو اس کی بات علیحدہ ہے ۔
مثال کے طور پر روز مرہ کی زندگی میں کھانے پینے میں خواہش کے بجاۓ وہ چیزیں پکاٸی جاٸیں جو سستی ہوں ۔دستر خوان پر انواع و اقسام کے پکوان کے بجاۓ ایک سالن پر اکتفا ٕ کیا جاۓ ۔ایک وقت میں ایک سبزی اور سستی سبزی کھاٸی جاۓ اور سیزن میں جب چیزیں سستی ہو جاٸیں تب استعمال کی جاۓ ۔ آم ہے سیزن کے پہلے یا بعد میں خریدیے تو ایک سو اور ایک سو بیس روپیے کلو ملے گا مگر کچھ دن بعد وہی آم بیس روپیے اور تیس روپیے میں ملتا ہے ۔ مٹر پھلی ہے شروع میں سو روپیے اور اسی روپیے کلو ملتی ہے اور کچھ دن بعد تیس اور بیس روپیے کلو ملتی ہے ۔ مختصر یہ کہ آپ اس کا خیال رکھیں ۔
کپڑے آپ ایک ہزار روپیے میں بھی خرید سکتے ہیں اور چار ہزار پانچ ہزار روپیے میں بھی ۔ایک کپڑا آپ پانچ سال بخوبی استعمال کرسکتے ہیں اور چاہیں تو بغیر کسی وجہ کے ہر سال تبدیل کرکے نیا لا سکتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ نہ اچھا کھاٸیں اور نہ اچھا پہنیں ۔ ضرورت ہے تو سب کچھ کیجیے مگر کام چل سکتا ہے تو ضرور اجتناب کیجیے ۔ اپنی خواہش , رسم و رواج اور اس خیال پر کہ لوگ کیا کہیں گے , بس اس پر قابو پالیجیے تو بہت ساری معاشی مشکلوں پر قابو پالیں گے ۔ نام و نمود اور ریاکاری سے اجتناب کیجیے تو بہت سارے مسٸلے یوں ہی حل ہوجاتے ہیں ۔
میں ذاتی طور پر متعدد ایسے لوگوں سے واقف ہوں کہ جو کسی کے پانچ ہزار اور دس ہزار کے مقروض ہیں ۔ اگر وہ خیال کریں تو اپنے روزآنہ کے اخراجات میں کٹوتی کرکے قرض ادا کرسکتے ہیں لیکن وہ نہیں کرتے اور مقروض رہتے ہیں ۔
میرے تجربے میں یہ بات ہے کہ ہمارے حلقہ احباب میں ایک صاحب کی انکم چالیس ہزار روپیے ماہانہ ہے لیکن اپنے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے میں اسٹینڈرڈ کو مین ٹین کرنے میں خالی ہوجاتے ہیں اور اکثر دوسرے صاحب سے دس پانچ ہزار ادھار لیتے ہیں جن کی انکم اٹھارہ ہزار روپیے ماہانہ ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر کبھی کبھی بڑا مزہ آتا ہے ۔ حالانکہ دونوں کی ذمہ داریاں کم و بیش یکساں ہیں ۔   ( جاری )۔
ڈاکٹر سکندرعلی اصلاحی   9839538225

Post Top Ad

Your Ad Spot