Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, July 19, 2020

‎آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیلی کے خلاف مہم۔

صداٸے وقت /ذراٸع /٢٠ جولاٸی ٢٠٢٠
==============================
ترکی کی جانب سے ایک تاریخی عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے خلاف دنیا بھر میں آواز اٹھی ہے۔ لیکن، اس واقعہ نے غالباً سب سے زیادہ یونان کو متاثر کیا ہے اور ایتھنز کی حکومت ترکی پر پابندیاں لگوانے کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تاہم، یہ واضح نہیں آیا یونان یورپ اور مغربی اتحادیوں کو ترکی پر پابندیوں کے لیے راضی کر سکے گا۔
یونان کی حکومت نے آیا صوفہ کو مسجد میں بدلنے کو ایک سنگین تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے اہم سفارت کاروں کو صدر اردوان کا راستہ روکنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
یونان کے وزیر خارجہ نکولس ڈنڈیاس نے کہا ہے کہ اس مہم کے لیے آنے والا ہفتہ کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اردوان، عثمانیہ عہد کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ترکی کو خطے کا بادشاہ گر بنانا چاہتے ہیں جو بین الاقوامی قانون اور اخلاقیات کی نفی ہے۔
آیا صوفیہ کی عمارت قسطنطینہ میں واقع 1500 سال پرانے فن تعمیر کا ایک بہت بڑا شاہکار ہے۔ عثمانیہ خلافت کے قبضے سے قبل یہ شہر ایک ہزار سال تک مشرقی عیسائیت کا مرکز رہا تھا۔
قسطنطینہ کی فتح یونان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین پہلو ہے۔ ترکوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ہزاروں آرمینیائی عیسائیوں کو قید اور ہلاک کیا، آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کیا اور اس میں سے عیسائی مذہب سے منسلک بہت سی نشانیوں کو مٹا دیا۔
ویٹیکن کے پوپ فرانسس، روس کے پیڑیاٹ کیریئل اور وائٹ ہاؤس سے لے کر کریملن تک نے ترکی کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے ہر کونے سے اس اقدام کی مخالفت کی گئی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ایک ماہر کانسٹینوس فلیز کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ ایتھنز کو اس معاملے میں امریکہ اور یورپی اتحادیوں سے وہ حمایت مل سکے گی جس کی وہ کوشش کر رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے۔ یہ ترکی کا ایک اندرونی معاملہ ہے۔ اگرچہ یونان اس پر برہم ہے، لیکن ایتھنز اس بارے میں کسی بھی جانب سے ایک متحدہ ردعمل حاصل نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اس چیز پر سوالیہ نشان ہے کہ آیا صدر ٹرمپ یونان کی خاطر اس مسئلے پر ترک قیادت سے اپنے تعلقات خراب کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔
تاہم، حالیہ دنوں میں یورپی لیڈروں نے ایک اور معاملے پر ترکی کے خلاف پابندیاں لگانے کے حوالے سے غور شروع کر دیا ہے جس کا تعلق ترکی کی جانب سے مشرقی بحیرہ روم میں تیل کی تلاش کے لیے کھدائی کے متنازع منصوبے ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot