Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, July 27, 2020

عید ‏الاضحیٰ ‏کی ‏شرعی ‏حیثیت۔


تحریر / عبدالرازق شعری/ صداٸے وقت 
==============================
اس وقت جن ایام،مہینوں اور جن لمحات میں ہمارا گزر بسر ہورہا ہے،یہ بڑے ہی قیمتی ہیں۔ شوال،ذی قعدہ،ذی الحجہ یہ تینوں مہینے بڑے مبارک اور اہمیت کے حامل ہیں خصوصا ماہ ذی الحجہ دور جاہلیت میں بھی محترم رہا ہے اور اسلام نے بھی اسے اشھر حرم میں شمار کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی ماہ میں اللہ تعالی نے اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن "حج" کو رکھا ہے، دوسرے دو اسلامی تہواروں میں سے ایک تہوار "عید الاضحی" اور پھر اس میں ادا کیا جانے والا عظیم الشان عمل یعنی "قربانی" اس ماہ کی اہمیت کا ایک بڑا سبب ہے
اضحی کے معنی قربانی کے ہوتے ہیں اور اس میں سنت ابراھیمی (قربانی کے عمل) کو لوٹایا جاتا ہے اسی لیے اس کو عید الاضحی اور عید قرباں کہا جاتا ہے۔
قربانی درحقیقت اسلام کا بڑا شعار اور بڑی اہم عبادت ہے۔ قربانی قرب الٰہی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اس لیے کہ قربانی کے معنی ہیں اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی چیز، لفظ "قربانی" قربان سے نکلا ہے اور "قربان" قرب سے بنا ہے، تو قربانی کے معنی یہ ہے کہ وہ چیز جس سے اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے۔ اور اس کے سارے فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ قربانی کرنے والے کے اندر کامل اتباع کا جذبہ پیدا ہو جائے اللہ کے ہر حکم کو سب سے مقدم رکھنے کا مزاج بن جائے۔ اور اس کے حکم کو بجا لانے میں کوئی چیز راہ کا روڑا نہ بننےپائے۔نیز ہمہ وقت ایثار و ہمدردی اور خواہشات نفس کو قربان کرنے کا جذبہ بیدار ہوجائے۔
پچھلی تمام امتوں میں اللہ تعالی نے اس فریضہ کو عائد کیا تھا۔ ہر امت کے ذمہ قربانی تھی۔ سب سے پہلے اللہ کے حضور قربانی کا نذرانہ پیش کرنے والے سیدنا آدم علیہ السلام کے دو صاحبزادے ہابیل اور قابیل ہیں، جن کا تذکرہ سورہ المائدہ میں ہے: اذ قربا قربانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الآیۃ(جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی) علامہ ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس سےروایت نقل کیا ہے کہ ہابیل نے ایک مینڈھے کی قربانی پیش کی اور قابیل نے کچھ غلہ اور اناج صدقہ کرکے قربانی پیش کی۔

الغرض قربانی ہر امت میں ہوتی چلی آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن کسی کی قربانی کو وہ عظمت و اہمیت حاصل نہیں ہوئی۔جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی کو حاصل ہوئی۔
ایام قربانی
قربانی کے تین دن ہیں: دس،گیارہ اور بارہ ذی الحجہ۔ انہیں ایام کو ایام النحر کہا جاتا ہے۔ ان دنوں میں خون بہانے (قربانی)کرنے سے زیادہ کوئی عمل اللہ تعالی کو محبوب نہیں چنانچہ اللہ کے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمایا: ما عمل ابن آدم من عمل یوم النحر أحب إلى الله من اهراق الدم( عید الاضحی کے دن ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کے حضور قربانی کرکے خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں) لہذا اگر کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ صاحب! قربانیاں تو بہت ہو رہی ہیں،اس لئے بجائے قربانی کرنے کے مریضوں کی مدد، محتاجوں کی اعانت کر دی جائے، اور یہ رقم دیگر رفاہی کاموں یا ضرورت مندوں کی ضرورت کی تکمیل کرنے میں لگائیں تو یہ باطل خیال ہے یہ قربانی کا بدل ہرگز نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔قربانی ایک مستقل محبوب عمل ہے جو شریعت اسلامیہ میں واجب ہے۔
اسی لیے قرون اولیٰ میں قربانی کے لیے بڑا اہتمام ہوتا تھا، کیونکہ یہ کوئی رسم یا عید کی تفریح کی حیثیت سے نہیں بلکہ مستقل شعار اسلام ہے۔ چنانچہ صحابہ فرماتے ہیں: كنا نسمن الأضحية بالمدينة و كان المسلمون يسمنون(البخاري) ہم مدینہ منورہ میں قربانی کے جانور کو خوب موٹا تازہ کرتے تھے۔ اور عام مسلمانوں کا بھی یہی معمول تھا، تاکہ خوب موٹا،فربہ جانور اللہ کے حضور پیش کریں۔ اور اس دور کا حال یہ تھا کہ نام و نمود اور ریاکاری سے دور، محض رضائے الہی کی خاطر ایک ایک آدمی سو سو اونٹوں کی قربانی کرتا تھا۔ خود رسول اکرم ﷺ نے اپنے سفر حج میں سو اونٹوں کی قربانی کی۔اور تریسٹھ اونٹوں کو خود اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اور باقی کو حضرت علیؓ نے قربان کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال بڑے اہتمام سے قربانی فرمایا کرتے تھے اور عام معمول دو مینڈھوں کی قربانی کا تھا، جیسا کہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ضحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکبشین أملحین أقرنین  ذبحھما بیدہ و سمّی و کبّر(البخاری و المسلم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہی مائل رنگ کے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور دونوں کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
دوسری روایت میں حضرت انسؓ فرماتے ہیں: اقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالمدينة عشر سنين يضحّی(الترمذی) حضور اکرم ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کرتے رہے۔
اسی لئے باوجود وسعت و استطاعت کے اگر کوئی مرد مومن سنت ابراہیمی کو زندہ نہیں کرتا ہے تو آپﷺ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے،حدیث میں ہے:من كان له سعة و لم يضحّ فلا يقربن مصلانا (ابن ماجہ) جس شخص کے پاس وسعت و طاقت ہو اور پھر قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ اس لئے ہر صاحب استطاعت کو ریاکاری،شہرت اور نام و نمود سے بچتے ہوئے خوش دلی اور جذبہ اطاعت و عبادت سے سرشار فریضہ قربانی کو ادا کرنا چاہئے۔
مقصود قربانی صرف اور صرف دلی کیفیت،جذبہ عبادت اور تقوی کی جانچ ہے،کہ بندہ کس جذبہ اور کیفیت سے قربانی پیش کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: لن ینال اللہ لحومها و لا دمائها و لكن يناله التقوى منكم...... اللہ تعالی کے ہاں نہ ان جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون،بلکہ اس کے پاس تو محض تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot