Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, August 7, 2020

پوروانچل ‏یونیورسٹی ‏میں ‏واٸس ‏چانسلر ‏کی ‏تقرری ‏کو ‏لیکر ‏سر ‏گرمیاں ‏تیز

جون پور۔۔۔اتر پردیش /صداٸے وقت /ذراٸع۔7 جولاٸی 2020.
==============================
ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کی تقرری کو لیکر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ لکھنؤ کے راج بھون میں گورنر کے حکم پر پروفیسروں کی اسکریننگ کمیٹی کی میٹنگ میں پانچ سینئر پروفیسرز کے نام مانگے گئے ہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر راجارام یادو کے ریٹائر ہونے کے بعد 31 جولائی سے وائس چانسلر کا عہدہ خالی چل رہا ہے اور گورنر انندی بین پٹیل نے مہاتما گاندھی کانشی ودیاپیٹھ کے وائس چانسلر پروفیسر ٹی این سنگھ کو نئی تقرری تک انچارج وائس چانسلر مقرر کیا ہے۔
واضح ہو کہ ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پیوش رنجن اگروال کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر راجارام یادو جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ ہیں، کو نیا وائس چانسلر مقرر کیا گیا، جن کا دور تین سال اور تین ماہ کے دوران تنازعات میں گھرا ہوا تھا لیکن سنگھ کی پیروی سے راجارام یادو کو راج بھون سے سروس میں تین ماہ کی توسیع مل گئی جو 31 جولائی تک برقرار رہی۔ اسکریننگ کمیٹی میٹنگ راج بھون میں پانچ ناموں پر ہوا، جس میں یونیورسٹیوں کے سنیئرپروفیسرز کے نام گورنر کو پہلے ہی لفافے میں بھیجا گیا ہے۔یونیورسٹی زرائع کے مطابق گورنر کو بھیجے گئے ناموں میں کانشی ودیاپیٹھ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کے بیٹے اور بیٹی، کاشی ہندو یونیورسٹی وارانسی کے سینئر پروفیسر کا نام ایک پینل میں شامل ہے۔ان پانچ ناموں میں سے ایک نام اگر سلیکشن وائس چانسلر کے عہدے پر کی گئی ہے یا کسی بھی سیاسی دباؤ میں پینل سے باہر ہوئے تو، یہ اگلے ہفتے میں ہی معلوم ہوگا کہ اس وقت پینل کے سارے افراد راج بھون تک اپنی وکالت کا مظاہرہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایک بار پھر سنگھ سے وابستہ کسی کو وائس چانسلر کے عہدے پر مقرر کیا جائے گا یا کوئی سینئر پروفیسر کو ترجیح دی جائے گی۔نئے وائس چانسلر کی تقرری کو لیکر سبھی کی نگاہ راج بھون کے حکم کر لگی ہوئی ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot