Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, January 25, 2021

حسن ‏جمہوریت ‏مبارک ‏ہو ‏۔

                    تحریر
مفتی محمد اجوداللہ پھولپوری 
نائب ناظم مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائمیر اعظم گڈھ/٢٥ جنوری ٢٠٢١
                    صداٸے وقت 
 =============================
کچھ"الٹا سیدھا"فرض کروں
 کچھ " سیدھا الٹا "  ہو جائے

 آج سے ستر سال پہلے 26/ جنوری 1950 کو  بابا بھیم راؤ امبیڈکر کی محنت و لگن اور انکی ہفت رکنی ٹیم کے تعاون و مدد سے پوری آب و تاب کے ساتھ ملک عزیز میں جمہوریت کی ولادت باسعادت ہوئی ملک میں خوشیوں کا ماحول بنا پٹاخے پھوٹے پھلجڑیاں چھوٹیں سہ رنگوں نے یک رنگ ہوکر جمہوریت کی قصیدہ خوانیاں کیں  جمہوریت، معصوم سی جمہوریت ، ننھی سی جمہوریت،پیاری سی جمہوریت اتراتی رہی پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جمہوریت جوان ہوتی گئی جیسے ہی اس نے بچپنے سے دوشیزگی کی دنیا میں قدم رکھا اسکا حسن اور بھی نکھر گیا آج ستر سالوں کے بعد اس کاحسن پورے آب وتاب کے ساتھ اپنے چاہنے والوں سے اٹھکیلیاں کررہا ہے یہ اسی کے حسن ہی کا کرشمہ ہیکہ اس کے چاہنے والے اس بات سے بے پروا کہ کسے کتنا نوازتی ہے اس کے حسن کے قصیدہ میں رطب اللسان ہیں واقعی جمہوریت بہت حسین ہے بہت  خوبصورت ہے اور ساتھ ہی مستغنی بھی اس کی شان استغناء نے نا یہ کہ اس کے حسن کو دوبالا  کردیا بلکہ اپنے چاہنے والوں کو مسحور بھی کردیا - یہ اس کے حسن و استغناء ہی کا سحر ہیکہ ایک ہی الزام کے ملزم دو افراد دریا کے دو کناروں پہ کھڑے اس کی شان میں قصیدہ خواں ہیں یہ اس کے حسن کا ہی جادو ہیکہ ایک الزام جب کنہیا کمار پہ لگا تو اسے سیاسی میدان کا ہیرو بناگیا اور اسی الزام کا ملزم عمر خالد سلاخوں کے پیچھے اس کی محبت کا اسیری ہے یہ اس کی شان استغناء ہی تو ہے کہ مسجد توڑ کر اپنی ہی بنیادوں کو ہلادینے والوں کو شیرینی کھلاتی ہے اور مسجد والوں کو مسجد فروشی پر ابھارتی ہے یہ اسکے حسن کا جادو ہی تو ہے جو دہشت گردی کے جرم میں گرفتار سادھوی پرگیہ سنگھ کو ملک کے سب سے بڑے گھر یعنی اپنی جائے پیدائش کا باشی (ایم پی ) بنادیتی ہے تو اسی الزام میں گرفتار طارق قاسمی کو کئی سالوں سے  پابند سلاسل رکھتی ہے یہ اسی کی غزالی آنکھوں کی اثر انگیزی تو ہے جو عصمت دری کرنے والوں (کٹھوا) کو پھولوں کی مالا پہناتی ہے یہ اسی کی حسین زلفوں کی زنجیر تو ہے جو فسادزدگان(دہلی) کو گرفتاری کی سوغات دیتی ہےتو فسادیوں کے گلے کا ہار بنتی ہے  یہ اسی کا حسن کرشمہ ساز ہی تو ہے جو ملک کے سب سے عظیم ادارہ کو اقلیتوں  کے معاملہ (NRC) میں دخل اندازی سے روکتی ہے تو وہیں اکثریتوں کے لئے (کسان آندولن) اسی ادارہ کو از خود تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے ابھارتی ہے یہ اسی کے لب ورخسار کی سحر آمیزی تو ہے جو اقلیتوں کے حقوق طلب کرنے پر گولیوں سے استقبال کرتی ہے(اتر پردیش) اور گوشت کے نام پر اپنے ہی عاشق (اخلاق ) کو بلی چڑھواتی ہے خیر اسکے استغناء اور حسن کے ماروں کی ایک لمبی فہرست ہے کس کس کو گنایا جائے اور کس کس کو چھوڑا جائے چھوڑیئے جانے دیجئے انکھیں بند کریئے اور آپ بھی اسکے حسن سحر انگیزی کے شکار ہوجایئے جو مزہ معشوقہ کے ہاتھوں شکار ہونے میں ہے وہ زندہ اور آزاد رہنے میں کہاں؟
کف افسوس ملنا چھوڑیئے معشوقہ کے گلے لگئے اور لبوں پہ یہ نعرہ سجائے دنیا سے رخت سفر باندھتے رہئے کہ جمہوریت زندہ باد حسن جمہوریت پائندہ باد
خیر آپ سبھی کو یوم جمہوریہ کی ڈھیروں ڈھیروں ڈھیروں مبارکباد

Post Top Ad

Your Ad Spot